ملائم سنگھ یادو جنھوں نے انڈیا میں اعلی ذات کی سیاست کا ڈھانچہ بکھیر دیا

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی علاقائی جماعت سماج وادی پارٹی کے بانی اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کا آج دلی کے ایک ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ 82 برس کے ملائم سنگھ یادو دو ہفتے سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

وہ انڈیا کی سیاست کے ایک قد آور رہنما تھے جنھیں پسماندہ طبقوں اور اقلیتوں کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

وہ طالب علمی کے زمانے میں ہی سیاست سے وابستہ ہو گئے تھے اور سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے۔ 1967 میں پہلی وہ بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 28 برس تھی۔

اس وقت اتنی کم عمری میں رکن اسمبلی منتخب ہونے والے وہ پہلے شخص تھے۔ رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انھوں نے ایم اے کی تعلیم مکمل کی اور 38 برس کی عمر میں وہ پہلی بار ریاست کے وزیر بنے۔ 1989 میں وہ پہلی بار اتر پردیش کے وزیر اعلی بنے۔ وہ تین بار ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔

’بابری مسجد پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا‘

1989 میں جب وہ وزیر اعلی بنے اس وقت تک ریاست میں بی جے پی کا اثر و رسوخ بہت کم تھا لیکن وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب ہندو تنظیموں کی مدد سے بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے ایودھیا کی بابری مسجد کے خلاف رام جنم بھومی کی تحریک چلا رکھی تھی۔

نومبر 1990 میں جب ہندو کارسیوکوں نے بابری مسجد پر یلغار کی کال دی تو اس وقت ملائم سنگھ یادوکا یہ فقرہ بہت مقبول ہوا تھا کہ ’بابری مسجد پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا۔‘ ان کے غیر مبہم موقف نے انھیں اتر پردیش ہی نہیں پورے ملک کے مسلمانوں میں بہت مقبول بنا دیا تھا۔

جب وشو ہندو پریشاد، بجرنگ دل اور بی جے پی کے ہزاروں کارکنوں نے بابری مسجد کی طرف مارچ کرنا شروع کیا تو پہلے تو انھیں لاٹھی چارج سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن جب وہ قابو میں نہیں آئے تو ان پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا۔ اس کاروائی میں کم ازکم 11 کارسیوک مارے گئے تھے۔

اس وقت کے انتہائی کشیدہ ماحول میں یہ ایک بہت مشکل فیصلہ تھا لیکن ملائم سنگھ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ریاست کو اپنی ذمےداری ادا کرنی ہونی ہوگی۔

مولانا ملائم

کارسیوکوں کی ہلاکت کے لیے انھیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد پر یلغار کی کوشش اقتدار اعلی پر حملے کے مترادف تھی اور اس کا تحفظ ان کا آئینی فریضہ تھا جو انھوں نے نبھایا۔

اس موقف سے وہ اپنی آخری سانس تک منحرف نہیں ہوئے۔ کارسیوکوں کی ہلاکت کے بعد بی جے پی نے ملائم سنگھ یادو کو ہندو دشمن قرار دیا اور ان کے خلاف ایک طویل مہم چلائی۔ انھیں ’مولانا ملائم‘ یعنی مسلمانوں کا ہمدرد ہونے کا لقب دیا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب بی جے پی تیزی سے مقبولیت اختیار کر رہی تھی۔

ملائم سنگھ یادو کو جب محسوس ہوا کہ وہ تنہا بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر کو روک نہیں پائیں گے تو انھوں نے ریاست کی دلت حامی جماعت مایاوتی سے اتحاد کیا لیکن وہ اتحاد چل نہیں سکا اور بی جے پی ریاست میں بی ایس پی کی مدد سے اقتدار میں آ گئی۔

یہ بھی پڑھیے

ملائم سنگھ انڈیا کے وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے

ملائم سنگھ یادو کئی بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ 1996-1998 تک یونائیٹد فرنٹ کی حکومت میں وزیر دفاع بھی رہے۔ ایک بار وہ اندرونی چپقلش کے سبب وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے۔

ان کے سیاسی وارث کے طور پر آسٹریلیا سے تعلیم یافتہ ان کے بیٹے اکھیلیش یادو بنے جو اتر پردیش کے وزیر اعلی بنے اور اس وقت ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے رہنما ہیں۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح سماجی انصاف کے نظریے کے حامل ہیں۔

ملائم سنگھ یادو کی بیشتر سیاست 80، 90 اور سنہ 2000 کے ان عشروں پر مشتمل ہے جب شمالی انڈیا بالخصوص ملک کی دو سب سے بڑی ریاستوں اتر پردیش اور بہار کی سیاست پر اعلی ذات کا مکمل غلبہ تھا۔

ملائم سنگھ کا تعلق یادو برادری سے تھا جو ہندوؤں ایک پسمندہ ذات ہے۔ پسماندہ ذاتوں کی نمائندگی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم تھی۔

پسماندہ ذاتوں کا تناسب آبادی میں 50 فی صد سے زیادہ ہے لیکن یہ تعلیم اور ملازمت میں بہت پیچھے تھے اور بیشتر غربت کی لکیر پر رہتے تھے۔

بہار میں لالو پرساد یادو اور نتیش کمار ابھر کرسامنے آئے تھے اور وہ بھی پسماندہ ذاتوں کو اوپر لانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ ملائم نے اپنی سیاست کا محور پسماندہ ذاتوں اور مسلمانوں کو بنایا۔

اعلی ذات کی سیاست کا خاتمہ اور اقلیتوں کے حقوق کی جنگ

ان سیاست دانوں نے ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کی اعلی ذات کی سیاست کے غلبے کا شیرازہ بکھیر دیا۔ 1989 میں جب مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت بنی تو ملائم سنگھ نے ان کی حمایت کر دی۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی اور ہندو نطریاتی جماعت آر ایس ایس کی اعلی قیادت اور اہم عہدے برہمنوں اور دوسری اعلی ذاتوں کے پاس رہتے تھے۔

وی پی سنگھ نے ملائم سنگھ اور لالو یادو کی مدد سے دلتوں کے طرز پر ملک کی پسماندہ ذاتوں کے لیے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں 27 فی صد نشستیں مختص کر دیں۔

یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے ملک کی پسماندہ ذاتوں کو نہ صرف اوپر اٹھایا بلکہ انھیں سماجی برابری کا احساس دلایا اور ان میں ایک نئی خود اعتمادی پیدا کی۔

گزشتہ تین عشرے میں انڈیا میں پسماندہ ذاتوں کے لوگ بہت آگے بڑھے ہیں اور اس میں ملائم سنگھ یادو کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

بی جے پی کے عروج اور لالو یادو کے زوال اور ملائم سنگھ کے جانے سے پسماندہ تحریک کو یقینا نقصان پہنچا ہے لیکن ذات پات میں لپٹی ہوئی انڈیا کی سیاست اور سماج میں پسماندہ طبقوں کو اوپر لانے میں ملائم سنگھ کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انھوں نے ملک کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا اور آخری سانس تک اپنے نظریے پر قائم رہے جس کے سبب وہ بہت سے لوگوں کی نفرت کا محور بھی رہے۔