کیا کانگریس پارٹی پر گاندھی خاندان کا دبدبہ کم ہو رہا ہے؟

    • مصنف, فیصل محمد علی
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت کے حامیوں نے گذشتہ دو دنوں میں جو کچھ کیا اس کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیا کانگریس میں گاندھی خاندان کا غلبہ کم ہو گيا ہے؟

دو سال قبل راجستھان میں کانگریس حکومت کو بی جے پی کے مبینہ آپریشن لوٹس سے بچانے والے اشوک گہلوت کے دھڑے نے ریاستی دارالحکومت جے پور میں طے شدہ پروگرام کے بجائے اپنی میٹنگ کر کے پارٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی ایما پر دہلی سے کام کرنے کے لیے بھیجی جانے والی ٹیم کو ایم ایل اے سے ملے بغیر واپس جانا پڑا۔

جے پور کے واقعہ کے بارے میں کون کیا کہے گا یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔

کانگریس والے اسے پارٹی میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے کے دعوے کے ساتھ بڑھا چڑھا کر بتانے کی کوشش کریں گے گہلوت کیمپ یہ دلیل دے گا کہ یہ کچھ لوگوں کا بنا ہوا جال ہے جو انھیں کرسی صدارت پر نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسری طرف بی جے پی طنزیہ انداز میں کہے گی کہ راہل پہلے اپنا گھر بچائيں اور پھر ہندوستان کو جوڑنے کے لیے نکلیں۔

لیکن سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ کمان کا اثر برسوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، ہاں آج کل انھیں نظر انداز کیا جانا بار بار کھل کر سامنے آ رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور مصنف رشید قدوائی کہتے ہیں کہ 'یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سیاست اور سیاست دانوں کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں جہاں آپ کا اختیار اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنا بڑا الیکشن جیت سکتے ہیں۔

'اگر پارٹی کو نریندر مودی کی طرح جیت کے رتھ پر بٹھانے کی صلاحیت ہو تو آپ انتخاب میں ہارنے والے پشکر سنگھ دھامی کو بھی وزیر اعلیٰ بنا سکتے ہیں۔'

ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے فون پر ہم سے بات کرتے ہوئے رشید قدوائی نے کہا کہ 'مدھیہ پردیش کی باگ ڈور شیوراج سنگھ چوہان کو مل سکتی ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی پیچھے رہ گئی تھی، اس حالت میں بھی وہ ریاست کے سربراہ تھے۔

'ریاست بہار میں مارچ سنہ 1990 لالو پرساد یادو کی حکومت بننے سے پہلے نویں ریاستی اسمبلی میں 'چار وزرائے اعلیٰ' لائے گئے اور ہر بار قدرے ہنگامہ آرائی کے بعد معاملہ 'سب کی رضامندی سے طے ہوا' جس کے لیے کانگریس لفظ 'کنسنسس' یا 'اتفاق رائے' کا استعمال کرتی تھی۔'

کانگریس سے استعفیٰ دینے والے بڑے نام

غلام نبی آزاد - 26 اگست 2022

کپل سبل - 25 مئی 2022

ہاردک پٹیل - 18 مئی 2022

سنیل جاکھڑ - 14 مئی 2022

آر پی این سنگھ - 25 جنوری 2022

کیپٹن امریندر سنگھ - 2 نومبر 2021

جیوتی رادتیہ سندھیا - 10 مارچ2020

حالات بدل گئے ہیں

لیکن چند سالوں سے صورتحال بدلی ہوئی نظر آرہی ہے۔ رواں سال کی بات کریں تو پارٹی کے 23 بڑے رہنماؤں نے پارٹی سربراہ کو خط بھیجے جس میں تنظیم میں خامیوں کو اجاگر کیا گیا، ان میں غلام نبی آزاد اور کپل سبل نے پارٹی چھوڑ دی جبکہ آنند شرما نے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔

راہل گاندھی کے اندرونی حلقے میں سمجھے جانے والے جیوتی رادتیہ سندھیا، آر پی این سنگھ، جتن پرساد کی کہانی بھی زیادہ پرانی نہیں ہے۔

انگریزی روزنامہ دکن ہیرالڈ کے سابق ایڈیٹر کے سبرامنیا کا خیال ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کشش کے دو اہم نکات ہوتے ہیں نظریہ اور طاقت، یعنی اقتدار تک رسائی کا امکان۔

اس پیمانے پر کے سبرامنیا کے مطابق 'کانگریس پارٹی کسی بھی صورت میں متبادل نہیں ہے، پارٹی آٹھ سال سے اقتدار سے باہر ہے اور کیا کسی کو یقین ہے کہ کانگریس 2024 میں اقتدار میں واپس بھی آ سکے گی؟'

ان کا کہنا ہے کہ 'جو لوگ آج 60 سال کے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جب 2029 آئے گا تو وہ 70 کے ہو جائیں گے یا جو آج 70 سال کے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ 80 کے ہو جائیں گے، پھر جو ہمارے بارے میں سوچے گا، ہمیں موقع دے گا ہم اس کے ساتھ ہوں گے۔'

سبرامنیا نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں جب نرسمہا راؤ پارٹی کے عہدے پر تھے تو پوری پارٹی ان کے ساتھ اور پھر سیتارام کیسری کے ساتھ کھڑی تھی لیکن اس کے بعد سنہ 1998 کے انتخابات میں کانگریس اقتدار کے قریب بھی نہیں پہنچی۔ سیتارام کیسری کو بہت برے طریقے سے باہر کا راستہ دکھایا گیا۔

کانگریس کے ساتھ قریب سے کام کرنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو دنوں میں پارٹی کا جو مذاق بنا ہے اور دیگر حالیہ معاملات میں پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ان کے مطابق راہل ایک گروپ میں گھرے ہوئے ہیں، ان کے توسط سے کام کرتے ہیں، اور اپنے ممبران پارلیمنٹ کو بھی وقت نہیں دیتے۔

'جب پارٹی کے پرانے وفادار اور سینیئر رہنما اے کے انٹونی ریٹائرمنٹ کے بعد کیرالہ واپس جا رہے تھے، تو ان بھائی، بہنوں نے انھیں الوداعی عشائیہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، سونیا گاندھی کی تو ان دنوں طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

'ٹام وڈککن جیسے طویل عرصے سے کام کرنے والے وفادار کارکن نے پارٹی چھوڑ دی کیونکہ راہل گاندھی نے کئی بار لوگوں کے سامنے کھل کر ان کے ساتھ برا برتاؤ کیا۔ وہ ایک اچھے انسان ہو سکتے ہیں لیکن وہ لوگوں میں گھلنا ملنا نہیں جانتے ہیں۔'

بہر حال رشید قدوائی کا کہنا ہے کہ یہ تمام کہانیاں اس لیے بھی سامنے آرہی ہیں کہ اقتدار ابھی کانگریس سے دور ہے اور آگے کوئی واضح راستہ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔

رشید قدوائی نے کانگریس اور ہندوستانی سیاست پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'راہل گاندھی یا پرینکا گاندھی کے بارے میں جس طرح کی باتیں کہی جا رہی ہیں، ان کی شخصیت ایک دن میں تھوڑی تیار ہوئی ہوگی، وہ ویسے ہی تھے، لیکن اب وہ باتیں باہر کہی جا رہی ہیں۔'

جے پور واقعہ کے بارے میں راجستھان کے سینیئر صحافی تریبھون کا کہنا ہے کہ 'شاید اشوک گہلوت کو صحیح طریقے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا، اور میری نظر میں تو انھیں پہلے کانگریس کا صدر بننے دیا جانا چاہیے تھا، پھر راجستھان کے وزیر اعلیٰ کا سوال حل کیا جانا چاہیے تھا۔'

تریبھون کے مطابق پنجاب کے بعد راجستھان میں بھی ایک جیسی صورتحال بنتی نظر آ رہی ہے۔

رشید قدوائی اس کا دوسرا رخ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس ریاست کے وزیر اعلیٰ نے پانچ ممبران منموہن سنگھ، مکل واسنک، پرمود تیواری اور دیگر کے لیے راجیہ سبھا پہنچنے کے لیے راستے بنائے ہیں، انھیں ان سے نمٹنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

سبرامنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ سنہ 1970 کی دہائی سے کمزور ہونا شروع ہوا جب ایمرجنسی کے آس پاس اندرا گاندھی کے ساتھ وفاداری کو نظریہ اور اثر و رسوخ سے بالاتر سمجھا گیا، اسی وقت سے رشتے ناطوں کو ترجیح دی جانے لگی اور جب سے کانگریس اقتدار اور طاقت دلوا سکتی تھی تو لوگ اس کے قریب آنے لگے۔

نچلی سطح پر یعنی گاؤں، پنچایت، بلاک، ضلع کی سطح پر جو کمزوری داخل ہوئی وہ آہستہ آہستہ برھتی ہی رہی اور اس نے اپنا دائرہ مکمل کر لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'سونیا گاندھی بیمار ہیں، راہل گاندھی اقتدار دلواتے نظر نہیں آرہے ہیں، اور اتر پردیش کے ووٹروں میں پرینکا گاندھی کا اثر ناپا جا چکا ہے۔‘

سبرامنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس کا دربار کلچر آہستہ آہستہ بی جے پی میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے پاس آئیڈیولوجیکل مائنڈ، آر ایس ایس ہے یعنی ایک ایسی تنظیم جو یہ دیکھتی ہے کہ پارٹی اپنے نظریے پر چل رہی ہے یا نہیں۔

معروف ٹی وی اینکر اور مصنف راجدیپ سردیسائی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: 'دو ہائی کمان کی کہانی - کانگریس صدر کے انتخاب کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، یہاں بی جے پی دوسری بار جے پی نڈا کو 'منتخب' کرنے والی ہے۔ جو دہلی میں اقتدار میں ہے، وہ ہائی کمان ہے، جب اپوزیشن میں ہے تو نہ ہائی ہے اور نہ کمانڈ ہے۔'

شاید یہی اس ساری کہانی کا لبِ لباب ہے۔