آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دلّی کی تہاڑ جیل میں کشمیری رہنما الطاف شاہ کی دوران حراست موت، آخری وقت تک بیٹی رعایت کی فریاد کرتی رہی
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
گذشتہ تین برس کے دوران الطاف شاہ دوسرے ایسے علیحدگی پسند رہنما ہیں جن کی دوران حراست شدید بیماری کی حالت میں موت ہوئی ہے۔
اُن کی بیٹی رُوا شاہ کئی ماہ تک انڈین حکومت سے اپیلیں کرتی رہیں کہ ان کے والد کو گھر میں نظربند کیا جائے تاکہ اُن کا بہتر علاج ہو سکے لیکن حکومت نے ان اپیلوں کو نظرانداز کیا۔
الطاف شاہ کی وفات سے چند دن قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے رُوا شاہ نے بتایا تھا کہ ’ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُن کا دل اور گردے بیکار ہو گئے ہیں صرف دماغ کام کر رہا ہے۔ ابو نے کچھ کہنے کے لیے کاغذ اور قلم کا اشارہ کیا لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب میں تہاڑ جیل جا رہی ہوں، قلم اور کاغذ کی اجازت کے لیے۔۔۔ ڈر یہ ہے کہ اتنی دیر میں وہ کہیں دم نہ توڑ جائیں، میں اپیلیں کر کر کے تھک گئی ہوں۔‘
اور پھر رُوا کا یہ خدشہ آخرِ کار درست ثابت ہو گیا۔
رُوا سمیت دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد الطاف شاہ اُن درجنوں علیٰحدگی پسند رہنماؤں میں شامل تھے جنھیں سنہ 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں انڈیا کی ’نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی‘ یعنی این آئی اے ’دہشت گردوں کی مالی معاونت‘ سے متعلق ایک الزام کے تحت عمل میں لائی تھی۔
الطاف شاہ پر بھی دہشت گردوں کی مبینہ اعانت اور تشدد کی حمایت جیسے الزامات تھے۔
جیل حکام نے 65 سالہ الطاف شاہ کو نہایت علیل حالت میں دلّی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں منتقل کیا تھا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ تیزی سے پھیلتے کینسر کی وجہ سے اُن کے اہم اعضا ناکارہ ہو چکے ہیں۔
رُوا کہتی ہیں کہ جیل حکام نے اُن کے والد کی صحت کے بارے میں اُن کے خاندان کو تب تک کچھ نہیں بتایا جب تک کینسر اُن کے جسم میں مکمل طور پر پھیل نہیں گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رُوا شاہ اپیلیں کرتی رہیں کہ ان کے والد کو آل انڈیا میڈیکل انسٹیوٹ منتقل کیا جائے جہاں سرطان کے علاج کے لیے باقاعدہ شعبہ ہے لیکن منگل کو رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ہی الطاف شاہ کی موت ہو گئی۔
رُوا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’جب ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہوئی تو ہمیں مطلع کیا گیا کہ وہ ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔ اب وہ سب رہنے دیجیے، کم از کم انھیں اُس ہسپتال میں رکھتے جہاں کینسر کے علاج کا باقاعدہ شعبہ ہوتا۔ یہاں تو ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑے کر دیے کیونکہ کینسر کا علاج تو آل انڈیا میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ہوتا ہے۔‘
دو سال قبل ایک اور علیٰحدگی پسند رہنما اشرف صحرائی بھی دوران حراست ہی فوت ہوگئے تھے۔ ان کے اہل خانہ نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ انہیں مناسب علاج فراہم نہیں کیا گیا۔
رُوا نے انسانی بنیادوں پر الطاف شاہ کی عبوری ضمانت کے لئے دلّی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو این آئی اے کو گذشتہ بدھ کو الطاف شاہ کی طبی معائنے سے متعلق رپورٹس جمع کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن رُوا کہتی ہیں کہ اس قدر تشویشناک حالت کے باوجود وہ رپورٹس دفتری طوالت کا شکار ہوئیں اور عدالت تک نہیں پہنچ پائیں۔
رام منوہر لوہیاہسپتال میں قیام کے دوران الطاف شاہ کو کاغذ اور قلم مہیا کرنے سے متعلق اجازت نامہ لینے کے لئے رُوا شاہ گزشتہ ہفتے تہاڑ جیل کی جانب جا رہی تھیں جب انہوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ایک شخص مر رہا ہے ، اپنوں سے کچھ کہنا چاہتا ہے ، اس کے لیے قلم کاغذ مانگتا ہے اور حکام کہتے ہیں کہ اجازت نامہ لاوٴ۔ ہم نے سب تسلیم کر لیا تھا، لیکن انسانی بنیادوں پر انہیں آخری سانسیں اپنے گھر میں اپنوں کے ساتھ لینے کا بھی حق نہیں تھا کیا؟ آخری بات لکھ کر بتانے کا بھی حق نہیں تھا کیا؟‘
الطاف شاہ سرینگر کے ایک معروف تاجر اور کشمیر کے مقبول علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے داماد تھے۔ گیلانی نے 2007 میں اپنی تنظیم ''تحریکِ حریت کشمیر'' بنائی تو اس کی تشکیل میں الطاف شاہ نے اہم کردار نبھایا اور بعد میں اسی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔
رُوا شاہ نے، جو ایک صحافی ہیں، اپنے والد کی بہتر طبی نگہداشت اور ان کی ضمانت کے لیے انڈین وزیرداخلہ امیت شاہ کے نام ایک خط بھی لکھا تھا جس میں ساری تفصیل کے بعد انھیں مخاطب کر کے کہا تھا: ’مُجھے اُمید ہے کہ آپ ایک ایسی بیٹی کی یہ درخواست قبول کریں گے جس کا باپ بسترِ مرگ پر ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی امیت شاہ سے اپیل کی تھی کہ انسانی بنیادوں پر الطاف شاہ کو ضمانت دی جائے کیونکہ اُن کی حالت بہت تشویشناک ہے۔
واضح رہے تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک، شبیر شاہ اور آفتاب شاہ عرف شاہد الاسلام سمیت کئی کشمیری رہنماؤں کو کئی عارضوں کا سامنا ہے۔
شبیر شاہ اور آفتاب شاہ کی بیٹیاں بھی آئے روز انڈین حکام سے اپیلیں کرتی رہتی ہیں کہ اُن کے علاج کی خاطر انھیں انسانی بنیادوں پر گھروں میں ہی نظر بند رکھا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ علی گیلانی کی موت کے بعد ’تحریک حریت کشمیر‘ کے سربراہ بننے والے 74 سالہ علیحدگی پسند لیڈر محمد اشرف خان صحرائی کی موت بھی دو سال قبل قید کے دوران ہی ہوئی تھی جس کے بعد اُن کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں تھیں۔