ظریفہ جان: کشمیر کی ان پڑھ شاعرہ جنھوں نے شعر کہنے کے لیے منفرد زبان تخلیق کی

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بانڈی پورہ

ظریفہ جان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ایک شاعرہ ہیں جنھوں نے کشمیری زبان میں سینکڑوں نظمیں کہی ہیں۔ وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن انھوں نے اپنی نظمیں اور اشعار یاد رکھنے کے لیے ایک منفرد علامتی زبان تخلیق کی ہے۔

ان کی یہ زبان دائروں کی شکل میں ہے۔ یہ دائرے ایک دوسرے سے بہت معمولی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔

یہ ان کی منفرد زبان کے الفاظ ہیں۔ ان دائروں کی زبان میں وہ اپنی شاعرانہ تخلیق لکھتی ہیں اور انھیں پہچان کر وہ اپنا پورا کلام سناتی ہیں۔

صرف ظریفہ جان ہی دائروں کی اس زبان کو لکھ اور پڑھ سکتی ہیں۔

ظریفہ سری نگر سے 40 کلومیٹر دور بانڈی پورہ کے ایک گاؤں میں رہتی ہیں۔ ان کی پوری شاعری تصوف سے متاثر ہے۔

ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے تصوف سے متاثر تھیں لیکن وہ پڑھ لکھ نہیں سکیں۔

تاہم دائروں کی شکل میں اس ’ڈڈ‘ زبان کا تصور ان کے ذہن میں کیسے آیا؟

وہ بتاتی ہیں کہ شادی کے بعد وہ ایک دن مٹکے میں پانی بھرنے گئی تھیں۔ وہیں ان کو چکر آیا اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئیں۔ اسی وقت کسی نے ان کے ذہن میں اس زبان کے بارے میں بتایا۔ وہ اس وقت سے اسی زبان میں اپنے اشعار رقم کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میرے ذہن میں پہلا کلام آیا اس وقت میرے سر پر ایک مٹکا تھا۔ میرے چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ میں نے آہستہ آہستہ یہ مٹکا نیچے اتارا۔ میری نظر چھوٹے بچوں کے بستوں پر پڑی اور میں نے ایک پینسل نکالی اور اپنا پہلا کلام ان دائروں کی زبان میں لکھا۔‘

وہ اس واقعہ کو تصوف سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ان کا کلام نکھرتا گیا۔

اگرچہ وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ان کے صوفیانہ اشعار بہت معیاری ہوتے ہیں اور ان میں وزن قافیے اور قواعد کا صحیح استعال ہوتا ہے۔

وہ مقامی لوگوں میں بہت مقبول ہیں اور انھیں بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ انھیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ وہ اپنے کلام موقع کی مناسبت سے بہت شوق سے سناتی ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ظریفہ کی منفرد زبان بعض سائنسی اصولوں پر قائم ہے۔

ریاضی دان ڈاکٹر شہباز خان کہتے ہیں کہ ’کمپیوٹر کی زبان صفر اور ایک کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ظریفہ بھی دائروں اور کہیں کہیں ایک کا استعمال کرتی ہیں۔

’ابھی تو صرف وہی اس زبان کو سمجھ سکتی ہیں لیکن بہت ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں دائروں کی یہ زبان واضح ہو سکے اور دوسرے لوگ بھی اسے لکھ اور پڑھ سکیں۔‘

ظریفہ نے 300 سے زیادہ نظمیں اور کلام کہے ہیں۔

ان کا ارادہ اس کلام کو شائع کرانے کا ہے۔ انھیں جب بھی موقع ملتا ہے یا جب ان کے ذہن میں نئے اشعار آتے ہیں وہ دائروں کی اپنی زبان میں نوٹ کر لیتی ہیں۔

وہ یقین کے ساتھ کہتی ہیں کہ ’ایک وقت آئے گا جب یہ دائرے بھی زبان بنیں گے۔ کوئی ایسا انسان ضرور آئے گا چاہے میرے مرنے کے بعد یا اس سے پہلے، یہ ایک زبان بنے گی۔‘