آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’گتکا ہماری ثقافت ہے اور ہم نے اسے قائم رکھنا ہے‘
- مصنف, موسیٰ یاوری
- عہدہ, بی بی سی اردو، شیرگڑھ
پرانی کہاوت ہے کہ ایک باغ میں جنگجو ہونا بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ آپ جنگ میں باغبان ہوں۔
پرانے زمانے میں شمشیرزنی میں مہارت ہی جنگ میں جیت کا سبب بنتی تھی اور اس میں مہارت حاصل کرنا بھی اتنا آسان نہیں جتنا آج کے دور میں ٹریگر دبا کر گولی چلایا۔
یہ بھی پڑھیے
شمشیر زنی سیکھنے کے لیے لوگوں کو بہت جتن کرنے پڑتے تھے۔ گتکا ایک روایتی مارشل آرٹ ہے جسے شمالی برصغیر میں نوجوانوں کو شمشیرزنی میں تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ سکھ مارشل آرٹ کا حصہ بنتا گیا جب کہ باقی علاقوں میں یہ کھیل ختم ہوتا چلا گیا کیونکہ اسلحے اور بارود نے تلواروں اور نیزوں کی جگہ لے لی۔
پاکستان میں گتکا
پاکستان میں بھی یہ کھیل صرف کشمیر کے دور دراز علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کے تناول کے علاقوں میں شادی بیاہ یا پھر عید کے موقع پر کھیلا جاتا ہے۔
گتکے کو آپ تلوار بازی ہی کی ایک قسم سمجھ لیں لیکن اس میں اصلی تلوار کی جگہ لکڑی کی چھڑی استعمال ہوتی ہے۔ اس میں دو فنکار آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر ان میں سے ایک رزمیہ نظم پڑھتا ہے جس کے اختتام پر وہ دونوں چھڑیاں ہلاتے ہوئے ڈھول کی تاپ پر رقص شروع کر دہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی رقص کے دوران اگر ایک فنکار دوسرے کے چکما دے کر اس کے جسم کو اپنی چھڑی سے چھو لے تو سامنے والا فریق کھیل سے باہر ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں مانسہرہ کے علاقے شیرگڑھ میں واقعے قدیمی قلعے میں جب امریکہ اور سنگاپور سے سکھ مہمان تشریف لائے تو انھیں اپنی استقبالیہ پارٹی میں گتکا کھیلتے افراد کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔
شیر گڑھ میں گتکے کے کھیل کے دوران جو شخص آخر تک میدان میں ٹکا رہا وہ 62 سالہ دلدار خان تھے۔ پورے کھیل کے دوران دلدار خان بڑے پھرتیلے انداز میں لوگوں کے وار اپنے آپ کو بچا رہے تھے اور موقع ملنے پر اپنا وار کر کے ان کو کھیل سے باہر کرتے رہے۔
کھیل کے اختتام پر میں نے دلدار خان سے ان کی فٹنس کا راز پوچھا تو وہ ہنس کر بولے،’ہماری جو آب و ہوا ہے یہ ہمارے لیے بالکل فٹ ہے۔ حالانکہ میری عمر 62 سال ہے لیکن یہ کھیل اور یہ آب و ہوا ہمیں بڑھاپے کی طرف جانے نہیں دیتی۔'
دلدار خان نے یہ بھی بتایا کہ وہ بچپن سے یہ کھیل کھیلتے آئے ہیں اور ان کے اس عمر میں بھی کھیلنے کا صرف ایک مقصد ہے کہ نئی نسل بھی اس کھیل کو اپنائے۔ اور یہ کھیل آگے جا سکے۔
'یہ کھیل ہماری ثقافت ہے اور ہم نے اس کو پردے کے پیچھے نہیں رکھنا۔ آج ہم ہیں، کل ہمارے بچے ہوں گے، اور اس کے بعد ان کے بچے ہو گے۔ اسی طرح ہم اس کھیل کو قائم رکھیں گے۔'