آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برف پوش چوٹیوں پر افغان لڑکیوں کا مارشل آرٹ
افغانستان کے دارلحکومت کابل کے مغرب میں ایک برف پوش چوٹی پر شاؤلین ووشو کلب کی لڑکیاں تربیتی مشق کر رہی ہیں۔ اس کلب کی سربراہ 20 سالہ سیما اعظمی ہیں۔
یہ ایک قدیم چینی مارشل آرٹ ہے اور ووشو کے کھیل میں نوجوان لڑکیاں تیزی سے حرکت کرتی ، ہوا کو چمکیلی تلواروں سے چیرتی ہیں۔
ایران میں یہ فن سیکھنے کے بعد سیما نے کئی مقابلوں میں میڈلز جیتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میری خواہش ہے کہ میری شاگرد بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کریں اور اپنے ملک کے لیے میڈلز جیتیں۔‘
افغانستان میں مارشل آرٹس کی مقبولیت کے باوجود ملک میں خواتین کی کھیلوں میں شرکت انتہائی محدود ہے۔
اس کلب کی تمام لڑکیاں ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہیں جن کی مادری زبان دری ہے۔
وہ ثقافتی و معاشرتی طور پر نسبتا زیادہ روشن خیال ہیں جس کی وجہ سے انھیں گھر سے باہر اس کھیل کی تربیت حاصل کرنے کی آزادی ملتی ہے۔
کابل میں روز مرہ زندگی کے دوران خواتین کو خطرات کا سامنا تو رہتا ہی ہے لیکن وہ اشتعال انگیزی اور تشدد کا سامنا بھی کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کلب کی ایک رکن شکیلہ مرادی کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ ہیں جو ہمیں ہراساں کرتے ہیں، لیکن ہم انھیں نظرانداز کرتے ہیں اور اپنے کام پر توجہ رکھتے ہیں۔‘
سیما تقریباً ایک سال سے کابل میں پڑھا رہی ہیں اور اپنے والد کے ساتھ کلب کے جم میں ٹریننگ کرتی ہیں۔
اس جم میں سٹنٹ مین حسین صادقی کا ایک بڑا سا پوسٹر لگا ہوا ہے۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے حسین صادقی مارشل آرٹ چیمپیئن ہیں اور وہ ایک فلم میں کام کرنے کے لیے آسٹریلیا چلے گئے ہیں۔
سیما کے والد کو اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ میں نے اس کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔‘