راہل گاندھی: کیا کانگریس رہنما کا لانگ مارچ مودی کے لیے خطرہ ثابت ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
گذشتہ ہفتے انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے رہنما نے ملک بھر میں لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے۔
’بھارت جوڑو‘ کے نام سے شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کے سفر میں راہل گاندھی کے ہمراہ گانگرس کے 100 ممبران شریک ہیں۔
یہ لانگ مارچ پانچ ماہ تک جاری رہے گا اور ملک کی 12 ریاستوں کے 3570 کلومیٹر کے علاقے سے گزرے گا۔
یہ لانگ مارچ لائیو سٹریمنگ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اس دوران اپنا پیغام دینے کے لیے یہ سیاسی جماعت گانے بھی چلائے گی۔
’بھارت جوڑو مارچ‘ میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ششی تھرور جن کا تعلق کانگرس سے ہے، کا کہنا ہے کہ ہم آئین میں انڈیا کے نظریہ دفاع کی بقا کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ مارچ کا پیغام یہ ہے کہ ہم ایک جماعت ہیں اور ہم انڈیا کو متحد کر سکتے ہیں اور اس کے مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے عمل کو روک سکتے ہیں جس کی ترویج حکمران جماعت کر رہی ہے۔
کانگرس کے ایک اور لیڈر جے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں کو سننے جا رہے ہیں، انھیں لیکچر دینے نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی


لوگوں کو سننا ہمیشہ اچھا خیال ہوتا ہے۔ سنہ 2014 میں جب مودی حکومت میں آئے، تب سے کانگرس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
بی جے پی نے دو بار وفاقی انتخابات میں اسے مسلسل شکست دی اور ریاستی انتخابات میں یہ جماعت 45 میں سے 40 نشتسوں میں ناکام ہوئی۔
اب یہ جماعت جزوی طور پر دو ریاستوں میں اقتدار میں ہے۔
یہ واضح نہیں کہ کانگرس جس نے اپنے بہت سے روایتی ووٹرز کو بی جے پی کے ہاتھوں گنوا دیا ہے، سیکیولر انڈیا کے وژن کے علاوہ کس کے لیے کھڑی ہے۔
راہل گاندھی بھی بظاہر ایسے لیڈر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں، جو عوام میں آنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے مارچ ملک بھر میں حکومت کے خلاف ہونے والی تحریک کا مرکز تب ہی بن سکتے ہیں جب مقبول لیڈر اس کی سربراہی کریں۔
مزید پڑھیے
ابھی بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ راہل گاندھی مقبول لیڈر ہیں: رائے عامہ کے نئے پول کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں میں سے فقط نو فیصد نے کہا کہ وہ گاندھی کو نئے وزیراعظم کے عہدے کے لیے ترجیح دیں گے۔ اس کے مقابلے میں مودی کو نیا وزیراعظم دیکھنے کے خواہاں افراد کا تناسب دگنے سے بھی زیادہ تھا۔
بائےجیانت پانڈہ بی جے پی کے قومی نائب صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی عوامی مہم کسی لیڈر کی بنیادی ساکھ کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
وہ کہتے ہیں کہ دو دہائیوں میں راہل گاندھی نے عوام سے رابطہ نہیں رکھا اور اب ان کی ساکھ نہیں رہی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کانگریس پر لکھنے والی سیاسی تجزیہ نگار زویا حسن کہتی ہیں کہ ’اس لیے پارٹی کو امید ہے کہ یہ مارچ گاندھی کے امیج کو بہتر کرنے میں مدد دے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے لانگ مارچ راہل گاندھی کی بطور قومی لیڈر دوبارہ متعارف کروانے کی ایک کوشش ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ اس کا فوکس لوگوں کو ایک ایسے وقت پر متحد کرنا ہے جب انڈین سوسائٹی بہت زیادہ منقسم ہو گئی ہے، یہ ایک طاقتور پیغام ہے اور ہر جانب سے اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔
اگرچہ ماضی قریب میں انڈیا میں ہونے والے لانگ مارچ کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔
سنہ 1983 میں اپوزیشن لیڈر چندرا شیکھر نے چھ ماہ تک 400 کلومیٹر لمبا مارچ ملک کے طول وعرض میں کیا۔ اس مارچ نے انھیں عام لوگوں کا لیڈر دکھایا۔
لوگوں نے 56 سال کے چندرا شیکھر کو ’میراتھن مین‘ کہا لیکن اس مارچ سے انھیں سیاسی فائدہ نہیں ہوا۔
اگلے برس کانگریس کو وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمدردی کے ووٹ کے ذریعے غیر معمولی کامیابی ملی۔
ایل کے ایڈوانی کا سنہ 1990 میں کیا جانے والا مارچ اس سے بھی زیادہ اہم تھا جس نے انڈین سیاست کو بدل دیا۔
انھوں نے ایک منی ٹرک جو بگھی کی مانند لگتا تھا میں 10 ہزار کلومیٹر کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ وہ سومناتھ سے ایودھیہ تک گئے۔ انھیں ایودھیہ میں بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کی مہم میں بہت حمایت ملی۔
خیال رہے کہ مسجد کی تباہی سے انڈیا کی تاریخ میں بدترین مذہبی تشدد کے واقعات پیش آئے۔
لیکن ایل کے ایڈوانی کی جانب سے مارچ کو شروع کیے ہوئے ابھی بمشکل ایک ماہ ہی گزرا تھا تو ان کو روکا گیا اور ان کے سیاسی مخالف لالو پرساد یادیو جو کہ انڈین ریاست بہار میں حکمران تھے، نے انھیں گرفتار کروایا۔
اس کےبعد لالو پرساد نے کہا کہ انھوں نے یہ اقدام ’انسانیت کے بچاؤ‘ کے لیے اٹھایا۔
ایڈوانی کا یہ سفر، بی جے پی کی جانب سے کلچرل نیشنلزم کے لیے پارٹی ایجنڈے کا سنگِ میل بنا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1930 میں مہاتما گاندھی نے 380 کلومیٹر کا لانگ مارچ اس وقت کے برطانوی راج کے خلاف کیا تھا۔ انھوں نے یہ مارچ گجرات کے مغربی ساحل کی جانب کیا تھا اور اسے تاریخی لانگ مارچ سمجھا جاتا ہے۔
61 سال کے گاندھی کو راستے میں آنے والے گاؤں کے لوگوں نے کھانا دیا اور ان کی میزبانی کی تھی۔
لانگ مارچ کو بہت سی علامتوں کی عکاسی کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔
ماؤزے کا سنہ 1934 کا مارچ ریڈ آرمی کے ساتھ تھا جو کہ 8000 سے 86000 میل لمبا تھا۔ ماؤ نے اسے نئے چین کی بنیاد کی علامت قرار دیا۔
لیکن بی جے پی رہنما پانڈا کہتے ہیں کہ عوام تک پیغام رسائی کے نئے طریقوں اور سوشل میڈیا اور دیگر طرح کے عوامی اجتماعات غلبہ ہے، ایسے میں لانگ مارچ تب ہی کامیاب ہوتے ہیں جب لیڈر عوام سے جڑے ہوں اور ان کی ایک ساکھ ہو۔
تھرور کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ کیا لانگ مارچ راہل گاندھی کی پارٹی کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد کر سکتا ہے یا یہ سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
’مارچ کے ختم ہونے کے بعد انڈین ریاست کی جدوجہد رک نہیں جائے گی۔‘
اشوکا یونیورسٹی میں ماحولیات اور تاریخ کے شعبے سے منسلک پروفیسر مہیش رانگا راجن، یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس کا بہت انحصار گاندھی کے پیغام پر ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ حمایت یا مخالفت کس کی توقع کر رہے ہیں؟ یہ مارچ آپ کو کیسے سیاست کے مرکز میں لا سکتا ہے؟
رائے عامہ کا جائزہ لینے والوں میں شامل یشونت دیش مکھ کہتے ہیں کہ ایک حیران کن بات سامنے آئی ہے کہ حالیہ جائزوں کے مطابق 35 فیصد افراد کی جانب سے یہ کہنے کے باوجود کہ ان کی معاشی حالت مودی کے دورِ حکومت میں خراب ہوئی ہے، وزیراعظم مودی اب بھی رائے عامہ کے جائزوں میں سب سے اوپر ہیں۔
’آپ مودی پر ووٹرز کے اعتماد اور ان کی ناقابل یقین مقبولیت کو دیکھیں جو کبھی کبھی منطق کو نظر انداز کرتا ہے۔‘
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کا کام بہت مشکل ہے۔
رانگا راجن کا کہنا ہے کہ ’لوگ شاید مشکل وقت سے گزر رہے ہوں لیکن کیا لوگوں کو یقین ہے کہ حکومت اس کی ذمہ دار ہے؟ کیا وہ موجودہ حکمراں جماعت سے اتنے غیر مطمئن ہیں کہ ایک اور سیاسی جماعت کو موقع دینا چاہتے ہیں؟
یہ وقت ہی بتائے گا کہ راہل گاندھی کا تجربہ کامیاب رہا یا ناکام۔













