انڈیا کی خارجہ پالیسی میں بنگلہ دیش کتنا اہم ہے؟

نریندر مودی اور شیخ حسینہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننریندر مودی اور شیخ حسینہ
    • مصنف, دیپک منڈل
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

پاکستان، چین اور افغانستان جیسے اہم پڑوسیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے درمیان بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعلقات کو برقرار رکھنا انڈیا کے لیے کافی اہم ہے۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ اور انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی ​​گرم جوشی آئی ہے۔ اور اس گرم جوشی کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور نریندر مودی سنہ 2015 سے لے کر اب تک 12 بار ملاقات کر چکے ہیں۔

دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم اور سرحدی علاقوں میں انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بنگلہ دیش کے شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے معاملے کو الگ چھوڑ دیا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے کئی معاہدے طے پا چکے ہیں۔

رواں ہفتے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی قیادت میں دو طرفہ مذاکرات میں مفاہمت کی سات یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں آبی وسائل، ریلوے، سائنس و ٹیکنالوجی اور خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق اُمور شامل ہیں۔

کشیرا ندی کے پانی کی تقسیم پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے مودی نے اہم قرار دیا۔ اس معاہدے سے جنوبی آسام اور بنگلہ دیش کے سلہٹ کے علاقے کو فائدہ ہو گا۔

دونوں رہنماؤں نے میتری سپر تھرمل پاور پراجیکٹ کے یونٹ-1 کی بھی نقاب کشائی کی۔ انڈیا کی مدد سے کام کرنے والے اس منصوبے سے بنگلہ دیش کو 1320 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔

بنگلہ دیش اب دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی فہرست سے نکل گیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران بنگلہ دیش نے مینوفیکچرنگ اور زرعی برآمدات کے ساتھ ساتھ صحت، خواتین کی ترقی اور تعلیم کے شعبوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ایک ایسے وقت میں انڈیا آئی ہیں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل، گیس، مشینری اور خام مال کی قیمتوں کی وجہ سے اس کے کرنسی کے ذخائر پر شدید دباؤ ہے۔

معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بنگلہ دیش نے آئی ایم ایف سے 400 ارب ڈالر کا قرض بھی مانگ رکھا ہے۔

भारत-बांग्लादेश संबंध

ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں بنگلہ دیش کو انڈیا کی مدد کی بہت سخت ضرورت ہے۔ لیکن انڈیا کے لیے بھی بنگلہ دیش کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔ ایشیا کی موجودہ سٹریٹجک صورتحال اور چین اور پاکستان جیسے پڑوسیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بنگلہ دیش پر انڈیا کا سٹریٹجک انحصار کافی بڑھ گیا ہے

بنگلہ دیش انڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

شیخ حسینہ کا دورہ دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت کو بڑھانے پر بھی زور دے گا۔ بنگلہ دیش اس وقت یہی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، سٹارٹ اپس اور کنیکٹیویٹی میں اپنی شراکت داری میں اضافہ کیا ہے۔

اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ (CEPA) آنے والے دنوں میں دو طرفہ کاروبار کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم، شرکت داری کا یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بنگلہ دیش 2026 کے بعد انڈین مارکیٹ میں اپنے سامان تک ڈیوٹی فری اور کوٹہ فری رسائی سے محروم ہو جائے گا۔

ظاہر ہے کہ بنگلہ دیش چاہے گا کہ انڈیا اس کی تلافی کے لیے اضافی سہولیات دے۔ اس وقت انڈیا کو بنگلہ دیشی برآمدات پر بہت زیادہ رعایتیں ہیں۔ اس لیے انڈین بازار میں بنگلہ دیشی اشیا کی رسائی بھی بڑھ رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی برآمدات کو مضبوط بنانا انڈیا کے مفاد میں ہے کیونکہ وہ اپنا زیادہ تر خام مال انڈیا سے درآمد کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کے ورکنگ پیپر کے مطابق آزاد تجارتی معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کی برآمدات میں 182 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگر انڈیا بنگلہ دیش کو کچھ اضافی تجارتی سہولیات فراہم کرتا ہے اور لین دین کے اخراجات کو کم کرتا ہے تو یہ برآمدات 300 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے انڈیا کی خام مال کی صنعت سے لے کر مینوفیکچرنگ اور سروس دونوں شعبوں کو فائدہ ہو گا۔ کیونکہ بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی ضروریات انڈیا کو مارکیٹ فراہم کریں گی۔

بنگلہ دیش انڈیا کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سنہ 2009 میں دونوں کے درمیان 2.4 ارب ڈالر مالیت کی تجارت ہوئی لیکن 2020-21 میں یہ بڑھ کر 10.8 ارب ڈالر ہو گئی۔

شمال مشرقی انڈیا میں قیام امن میں بنگلہ دیش کا کردار

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو شیخ حسینہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ بنگلہ دیش انڈیا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ انڈیا اب بنگلہ دیش کے ساتھ آئی ٹی، خلائی اور جوہری شعبوں میں تعاون بڑھائے گا۔

भारत-बांग्लादेश संबंध

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں بنگلہ دیشی لباس کی بہت مانگ ہے

یاد رہے کہ تینوں شعبوں میں انڈیا کو مہارت حاصل ہے۔ اس لیے اگر کاروباری تعاون مزید بڑھتا ہے تو بنگلہ دیش میں اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی مارکیٹ بڑھے گی۔

انڈیا ہر سال 15 سے 20 لاکھ بنگلہ دیشیوں کو ویزا دیتا ہے، جو علاج، نوکری، سیاحت اور تفریح ​​کے لیے وہاں آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انڈیا کے میڈیکل، لیبر، سیاحت اور تفریح ​​کے شعبے اس سے کماتے ہیں۔

شیخ حسینہ حکومت کے تعاون نے شمال مشرقی انڈیا کو باقی انڈیا سے جوڑنے اور وہاں امن کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

بی بی سی بنگلہ کے نامہ نگار شوبھا جیوتی گھوش کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش نے انڈیا کو چٹاگانگ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ آج اگرتلہ سے اکھوڑہ تک ریل لنک بنایا گیا ہے۔ آج اگرتلہ سے کوئی ڈھاکہ کے راستے کولکتہ آنا چاہتا ہے تو وہ آسانی سے آ سکتا ہے۔ انڈیا نے حسینہ حکومت کی مدد سے تریپورہ میں پاور پلانٹ کھولا ہے۔ اس طرح انڈیا اور بنگلہ دیش کی شمال مشرقی ریاستوں کے درمیان رابطے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حسینہ حکومت کے تعاون پر مبنی نقطہ نظر نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک نئی جہت کھول دی ہے۔‘

بنگلہ دیش کی سرزمین سے انڈیا مخالف سرگرمیوں کو روکا جائے

شوبھا جیوتی گھوش کا مزید کہنا ہے کہ ’حسینہ حکومت نے بنگلہ دیش کے کیمپوں سے شمال مشرقی انڈیا میں علیحدگی پسند تحریک کی حمایت کو کچلنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ حسینہ حکومت نے وہاں رہنے والے علیحدگی پسند تحریک کے بڑے لیڈروں کو انڈیا کے حوالے کر دیا۔ ان میں ULFA لیڈر اروند راجکھوا سمیت بہت سے دوسرے علیحدگی پسند لیڈر ہیں۔ اب وہ انڈیا کے ساتھ امن مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

اروند راجکھوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناروند راجکھوا

حسینہ کی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرزمین سے سرگرم علیحدگی پسندوں کے تقریباً تمام نیٹ ورکس کو کچل دیا ہے۔ ماضی میں بھی آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی وجہ سے ان کی ریاست کے لوگ آج سکون سے سو سکتے ہیں۔

درحقیقت بنگلہ دیش نے شمال مشرق میں امن اور خوشحالی لانے میں انڈیا کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی نہیں، شمال مشرق میں انڈیا کے باقی حصوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانے میں بھی بنگلہ دیش کا بڑا کردار ہے۔

تریپورہ کوریڈور جیسا بنیادی ڈھانچہ بنگلہ دیش کی مدد سے ہی بنایا جا سکتا تھا۔ اب بنگلہ دیش سے سامان لے کر فینی ندی پر پل کے ذریعے سیدھا تریپورہ پہنچا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً چار ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے۔ اس لیے چین اور پاکستان جیسے ممالک کے چیلنجز کے پیش نظر انڈیا کو اس علاقے میں ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو اس کا دوست ہو۔

’یہی وجہ ہے کہ انڈیا کو بنگلہ دیش کی مدد کی ضرورت ہے۔ رابطے کے اقدامات نئے طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔ سارک آج فعال نہیں ہے لیکن انڈیا BBIN (بنگلہ دیش بھوٹان، بھارت اور نیپال) لنک کے ذریعے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا بنگلہ دیش معاہدہ

  • انڈیا-بنگلہ دیش سرحد پر دریائے کشیارا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ
  • بنگلہ دیش ریلوے کے افسران انڈین ریلوے کے تربیتی اداروں میں تربیت حاصل کریں گے
  • انڈیا آئی ٹی میں بنگلہ دیش ریلوے کی مدد کرے گا۔ فریٹ مینجمنٹ سسٹم اور آئی ٹی پر مبنی صلاحیتوں کو بڑھانے میں انڈیا بنگلہ دیش کی مدد کرے گا
  • بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ اور انڈیا کی نیشنل جوڈیشل اکیڈمی کے درمیان بنگلہ دیش کے شعبہ قانون کے افسران کی انڈیا میں تربیت کے لیے معاہدہ
  • انڈیا اور بنگلہ دیش کی سائنس اور صنعتی تحقیق کی کونسل کے درمیان تعاون ہو گا
  • انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان خلائی میدان میں تعاون
  • ٹی وی نشریات کے شعبے میں انڈیا کی پرسار بھارتی اور بنگلہ دیش ٹی وی کے درمیان معاہدہ

چین کا معاملہ

انڈین تھنک ٹینک ریسرچ اینڈ انفارمیشن سسٹم فار ڈیولپنگ کنٹریز (RIS) کے پروفیسر پراویر ڈی نے انڈیا، بنگلہ دیش تعاون کے ایک اور پہلو کا ذکر کیا۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پروفیسر پراویر ڈی کا کہنا ہے کہ ’اگر انڈیا بنگلہ دیش کی مدد کے لیے دو قدم آگے نہیں بڑھتا ہے تو چین اس کے لیے چار قدم آگے بڑھائے گا۔‘

’بنگلہ دیش نے پدما ندی پر حال ہی میں بنایا گیا پُل بھلے ہی اپنے پیسوں سے بنایا ہو لیکن اس کی تعمیر میں چینی کمپنیوں کی مدد لی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ڈھاکہ کے اردگرد چینی مزدوروں کی بستیاں آ گئی ہیں۔ بہت سے چینی شادی کے بعد وہاں آباد ہو چکے ہیں۔ اس طرح چین کی موجودگی انڈیا کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش کے ساتھ انڈیا کے تعاون کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔‘

بنگلہ دیش تجارت بڑھانے کے لیے انڈیا پر بہت زور دے رہا ہے۔ 25 اشیا کو چھوڑ کر انڈیا نے تقریباً سب برآمدات کو بہت چھوٹ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی انڈیا کو برآمدات بڑھ رہی ہیں۔

پروفیسر ڈے کہتے ہیں کہ ’بہت سی چھوٹی انڈین کمپنیاں شمال مشرق اور بنگال میں سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور بنگلہ دیشی کمپنیاں انڈیا میں کاروبار کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی انڈیا کو برآمدات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت 160 بنگلہ دیشی تاجروں کا وفد شیخ حسینہ کے ہمراہ ہے۔ اتنے بڑے دستے کے ساتھ ان کا انڈیا آنا بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔‘

فیڈریشن آف بنگلہ دیش چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف بی سی سی آئی) کے مطابق مالی سال 2022-23 کے اختتام تک بنگلہ دیش کی انڈیا کو برآمدات بڑھ کر دو ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ گذشتہ ایک سال میں انڈیا اور بنگلہ دیش کی برآمدات میں 94 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سلی گوڑی کے ذریعے شمال مشرق کا باقی انڈیا کے ساتھ رابطہ بہت اہم ہے۔ اس لیے شمال مشرق سے ملحقہ بنگلہ دیش کی اہمیت ہمارے لیے بہت بڑھ جاتی ہے۔

رابطہ اور بنگلہ دیش پر انڈیا کا انحصار

گوہاٹی میں مقیم ڈاکٹر مرزا ذوالفقار الرحمن شمال مشرقی انڈیا میں سرحدی مسائل اور وہاں انڈیا، بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات کے ماہر ہیں۔

ڈاکٹر رحمٰن کہتے ہیں کہ ’سلی گوڑی کے ذریعے شمال مشرق کے رابطے کی وجہ سے بنگلہ دیش پر ہمارا سٹریٹجک انحصار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ ڈوکلام میں چینی سرگرمیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش پر ہمارا انحصار بھی کافی بڑھ گیا ہے۔ یہ علاقہ بھوٹان کے قریب ہے۔ بھوٹان کے قریب ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے بنگلہ دیش کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے۔‘

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا اور بنگلہ دیش اس علاقے میں رابطے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر رحمن کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس سلی گوڑی کے علاوہ یہاں رابطے کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ لہذا، BBIN کوریڈور اور BIMSTEC کے ذریعے متبادل رابطے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ کنیکٹیویٹی کے علاوہ بنگلہ دیش کا کردار بھی انڈیا کی ہند، بحرالکاہل حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہو جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر رحمان کا کہنا ہے کہ جہاں تک شمال مشرق میں علیحدگی پسند باغیوں کو دبانے کا تعلق ہے، یہ بنگلہ دیش کی بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اس لیے بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا جیسے چھوٹے پڑوسیوں کی اہمیت انڈیا کی سکیورٹی حکمت عملی کے لیے بہت اہم ہو جاتی ہے۔