آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی امریکی ڈرونز کی خریداری کی وجہ چین سے سرحدی کشیدگی ہے؟
- مصنف, رگھویندر راؤ
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
انڈیا اور چین کے درمیان جاری رسہ کشی کے درمیان یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ انڈیا تقریباً تین ارب ڈالر میں امریکہ سے 30 ایم کیو نائن بی پریڈیٹر مسلح ڈرون خریدنے جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ انڈیا اور چین کے تعلقات انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور اس کی وجہ چین کی طرف سے 1990 کی دہائی میں کیے گئے معاہدوں کو نظر انداز کرنا ہے۔
انڈین وزیرِ خارجہ کے مطابق ان معاہدوں کے تحت سرحدی علاقوں میں فوجیں جمع نہیں کی جا سکتیں۔
اگست کے اوائل میں انڈیا اور امریکہ کی افواج نے انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے علاقے بکلوہ میں ’وجر پرہار‘ (یا تھنڈر اٹیک) کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں شروع کی ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی خبر آئی ہے کہ اکتوبر میں انڈیا اور امریکہ کی فوجیں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں 10,000 فٹ کی بلندی پر ’یدھ ابھیاس‘ نامی فوجی مشقیں کریں گی اور یہ فوجی مشق انڈیا اور چین کی سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی۔
کیا یہ چین سے نمٹنے کی تیاری ہے؟
دریں اثنا یہ بحث بھی گرم ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس 400 میزائل سسٹم کی دوسری کھیپ جو انڈیا روس سے خرید رہا ہے، کو انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا نے پہلے ہی مغربی بنگال کے ہاشیمارا ایئر بیس پر فرانس سے خریدے گئے رافیل جنگی طیاروں کا ایک سکواڈرن تعینات کیا ہے۔
چونکہ ہاشیمارا ایئر بیس سکم، بھوٹان اور چین کے درمیان سہ رخی جنکشن پر واقع وادی چمبی کا قریب ترین ہوائی اڈہ ہے اس لیے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ایئر بیس پر رافیل کی تعیناتی کا مقصد چین کی سرحد کے قریب ہونا اور اس پر قریب سے نظر رکھنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان تمام باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ چونکہ چین کے ساتھ جاری سرحدی تنازع سرد مہری کا شکار ہے، اس لیے انڈیا بھی اپنی عسکری تیاریوں کو بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔
ایم کیو نائن بی ڈرون کیا ہے؟
ایم کیو نائن بی ڈرون 35 گھنٹے سے زیادہ تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ چار ہیل فائر میزائل اور تقریباً 450 کلوگرام گولہ بارود لے جا سکتے ہیں۔
ایم کیو نائن بی اسی ‘ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کی ایک قسم ہے جسے 31 جولائی کو کابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے میزائل داغنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ان ڈرونز کو بنانے والی کمپنی جنرل اٹامکس گلوبل کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر وویک لال نے حال ہی میں انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات چیت میں تصدیق کی ہے کہ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈیا مشرقی لداخ کی سرحد پر چین کے ساتھ جاری کشیدگی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور بحر ہند کے علاقے میں چینی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے مسلح ڈرون کی خریداری کر رہا ہے۔
رواں سال فروری میں یہ خبریں آئی تھیں کہ ہتھیاروں کو مقامی طور پر بنانے کی اپنی نئی پالیسی کی وجہ سے انڈیا نے ان ڈرونز کو خریدنے کے منصوبے کو روک دیا ہے لیکن تازہ ترین خبروں سے یہ واضح ہے کہ ان ڈرونز کے حوالے سے انڈیا اور امریکہ کے درمیان بات چیت درست سمت میں جاری ہے۔
'مسئلے کا حل نہیں ہوا'
انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے 21 اگست کو برازیل کے شہر ساؤ پالو میں انڈین کمیونٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘آپ جانتے ہیں کہ دو سال پہلے وادی گلوان میں کیا ہوا تھا۔‘
جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ چین انڈیا کا پڑوسی ہے اور ہر کوئی اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن اس کے لیے باہمی احترام اور باہمی حساسیت ہونی چاہیے۔
18 اگست کو بنکاک میں جے شنکر نے کہا تھا کہ چین نے سرحد پر جو کچھ کیا اس کے بعد انڈیا اور چین تعلقات بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔
جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات اختلافات سے بڑھ کر ہیں اور دونوں ممالک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو کامیاب بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔
مذاکرات کے 16 دور ناکافی
انڈیا اور چین کی فوجوں نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر تعطل کو حل کرنے کے لیے اب تک 16 بار کور کمانڈر کی سطح پر بات چیت کی ہے لیکن ان مذاکرات کے ذریعے بہت سے زیر التوا مسائل سے نمٹنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔
فروری سنہ 2021 میں فریقین نے پینگونگ تسو سے دستبرداری پر اتفاق کیا۔
اگست سنہ 2021 میں دونوں ملکوں کی فوجیں گوگرہ ہاٹ سپرنگس کے علاقے میں پیٹرولنگ پوائنٹ 17 سے پیچھے ہٹ گئیں۔
دریں اثنا حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ چینی طیارے متنازع سرحدی علاقوں کے قریب پرواز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایک پریس کانفرنس میں جب چین سے اس بارے میں پوچھا گیا تو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ چین ہمیشہ سرحدی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں انڈیا اور چین کے درمیان طے پانے والے متعلقہ معاہدوں کے مطابق کرتا رہتا ہے۔
ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین کی جانب سے ڈیمچوک اور ڈیپسانگ کے علاقوں پر مزاکرات سے انکار کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی حل نہیں ہو پا رہی۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
انڈین فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل ایس بی استھانہ دفاعی اور عسکری امور کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا اور چین اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہیں گے لیکن دونوں ملک نہیں چاہتے کہ کشیدگی کو نئی سطح پر لے جایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’چین کو پہلے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے کا فائدہ ملا ہے، اس لیے وہ وہاں سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس لیے وہ مذاکرات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔‘
’چین کی سٹریٹجک پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ بغیر جنگ کے جتنا بھی قبضہ کر سکتا ہے اتنا قبضہ کر لے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ کسی بھی معاہدے کو توڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چین کی یہ کوشش ہے کہ جہاں بھی جگہ خالی ہو، آگے بڑھو اور جب کوئی روکے تو رک جاؤ لیکن جنگ نہ کرو۔‘
میجر جنرل استھانہ نے ڈوکلام میں انڈیا اور چین کے سرحدی تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘انھوں (چین) نے ڈوکلام میں سڑک بنانا شروع کی، جب انھیں روکا گیا تو وہ رک گئے۔ جہاں تک وہ آگئے، وہاں انھوں نے ایک کیمپ بنا لیا۔ یہ تجاوزات کی حکمت عملی ہے۔‘
’انڈیا کی مدد کرنا امریکہ کے حق میں ہے‘
امریکہ اور انڈیا کے درمیان ایم کیو-9 بی پریڈیٹر ڈرون کے معاہدے کے بارے میں میجر جنرل استھانہ کا کہنا ہے کہ چین امریکہ کا حریف ہے اور اسے چین کے مقابلے میں آگے رہنے کے لیے انڈیا کی حمایت کی ضرورت ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اگر ’امریکہ کو چین کی توسیع پسندی اور جارحیت کو روکنا ہے‘ تو انڈیا کی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرنا امریکہ کے مفاد میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘تو اگر امریکہ انڈیا کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے تو امریکہ کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں انڈیا کو ڈرون دینا امریکہ کے حق میں ہے، اسی لیے یہ بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔‘
میجر جنرل استھانہ انڈیا اور امریکہ کی فوجوں کے درمیان جاری اور مجوزہ فوجی مشقوں کو چین کو ‘پیغام‘ دینے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘جب دونوں ممالک کی فوجیں مشقیں کرتی ہیں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ ان کے درمیان باہمی ہم آہنگی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو یہ فوجیں مل کر لڑ سکتی ہیں۔‘
میجر جنرل استھانہ نے یاد دلایا کہ چین بھی فوجی مشقوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ نفسیاتی جنگ میں برتری حاصل کر سکے۔
’چین مستقل تعمیرات چھوڑ کر جانے والا نہیں‘
میجر جنرل استھانہ کے مطابق یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ چین سرحدی علاقوں میں مستقل تعمیرات چھوڑ کر چلا جائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘چین نے قبضے کے بعد اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ چین نے بنکرز بنائے ہیں اور کئی مستقل تعمیرات کی ہیں۔ اب وہ اسے چھوڑ کر جانے والا نہیں۔‘
ان کے مطابق اگر اس معاملے کو عسکری طور پر بڑھنے دیا گیا تو اس کا انڈیا کی معیشت پر بڑا اثر پڑے گا۔
’انڈیا کے حق میں یہ ہوگا کہ وہ معاملے کو جنگ کی طرف نہ لے جا کر چین کے اقدامات کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ‘مثال کے طور پر، اگر چین نے سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر بنایا ہے تو انڈیا کو بھی انفراسٹرکچر بنانا چاہیے۔ اگر وہ ایل اے سی پر گاؤں بنا رہا ہے، تو انڈیا کو بھی وہاں گاؤں بنانا چاہیے۔ اگر وہ مزید بنکرز بنا رہے ہیں تو انڈیا کو بھی چاہیے کہ مزید بنکر بنائے۔ انڈیا کو اسی سطح پر کام کرنا چاہیے جس سطح پر چین کام کر رہا ہے۔‘