انڈیا چین سرحدی تنازع: راہل گاندھی کا ’چین کے سامنے سر جھکانے‘ کا الزام، راج ناتھ سنگھ کی تردید

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی

حزب اختلاف کے راہنما راہل گاندھی کی جانب سے چین سے متعلق حکومت پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انڈیا نے چین کو کوئی بھی علاقہ نہیں دیا ہے اور ابھی بھی کئی مسائل کے حل نکالے جا رہے ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'جو لوگ فوج کی قربانی کے سبب حاصل ہونے والی کامیابی پر شک کر رہے ہیں وہ ان کی تذلیل کر رہے ہیں'۔

اس سے پہلے راہل گاندھی نے جمع کی صبح ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں انڈیا نے ’چین کے سامنے ماتھا ٹیک دیا ہے‘۔

راہل گاندھی نے نریندر مودی پر الزام لگایا تھا کہ ’وزیراعظم چین کے آگے جھک گئے ہیں‘۔ انھوں نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ انھوں نے فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا کی زمین چـین کے حوالے کیوں کی۔‘

وزیر دفاعراج ناتھ سنگھکا بیان

وزارت دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت دفاع نے محسوس کیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پینگونگ سو میں ’ڈِس اِنگیجمنٹ‘ کے عمل پر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے 'وزارت دفاع دہراتا ہے کہ جو اصل صورت حال ہے اسے پارلیمان میں وزیر دفاع کی جانب سے بتایا جا چکا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں جو غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں ان کا جواب دیا جائے'۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فنگر 4 تک انڈیا کا علاقہ ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔

انڈین خبر رساں ادے پی ٹی آئی کے مطابق وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 'انڈین علاقہ انڈیا کے نقشے کے مطابق اس کے پاس ہے جس میں 43000 مربہ کلومیٹر علاقہ بھی شامل ہے جس پر 1962 سے چین کا ’غیرقانونی قبضہ‘ ہے۔ یہاں تک کہ انڈیا کی جانب سے ایل اے سی کو فنگر 8 تک سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انڈیا مسلسل فنگر 8 تک پیٹرولنگ کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے اور چین کے ساتھ نئے معاہدے میں یہ بھی شامل ہے۔'

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پینگونگ سو جھیل کے شمالی ساحلوں کے دونوں جانب مستقل پوسٹ قائم ہیں۔ انڈیا کی جانب دھن سنگھ تھاپا چوکی ہے جو فنگر 3 کے نزدیک ہے جبکہ فنگر 8 کے مشرق میں چین ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 'حالیہ معاہدہ دونوں فریقین کو اپنی افواج کو آگے تعینات کرنے سے روکتا ہے۔ اب مستقل چوکیوں پر تعیناتی ہوگی۔ انڈیا نے معاہدے کے تحت کوئی علاقہ چین کے حوالے نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس ایل اے سی کی اہمیت اور پاسداری برقرار رکھی گئی ہے اور موجودہ صورتحال میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو ہونے سے روکا گیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'وزیر دفاع کے بیان سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ہاٹ سپرنگ، گوگرا اور ڈیپسانگ جیسے دیگر مسائل کو پینگونگ سو میں ڈس انگیجمنٹ کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد اگلے 48 گھنٹوں میں اٹھایا جائے گا'۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'جو لوگ فوج کی قربانی کے سبب حاصل ہونے والی کامیابی پر شک کر رہے ہیں وہ ان کی تذلیل کر رہے ہیں'۔

راہل گاندھی کا بیان: ’وزیراعظم نے چین کے آگے جھک گئے‘

راہل گاندھی نے نریندر مودی پر الزام لگایا تھا کہ ’وزیراعظم چین کے آگے جھک گئے ہیں‘۔ انھوں نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ انھوں نے فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا کی زمین چـین کے حوالے کیوں کی۔

لداخ میں فارورڈ محاذ سے فوجی اور ہتھیار پیچھے ہٹانے کے معاہدے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ایک پریس کانفونس میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نے چین کے آگے سر جھکا دیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ روز پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ مشرقی لداخ میں فوجی پیجھے ہٹانے کے بارے میں چین سے معاہدہ ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت چین اپنی فوجی ٹکڑیوں کو پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ’فنگر 8‘ کے مشرق کی سمت رکھے گا۔ اسی طرح انڈیا بھی اپنی فوج کو پینگونگ جھیل کے پاچ ’فنگر 3‘ کے پاس اپنی مستقل پوسٹ پر رکھے گا اور ایسی ہی کارروائی دونوں فریق جنوبی کنارے پر بھی کریں گے۔

راج ناتھ سنگھ نے اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں اس ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ چین سے اس معاہدے میں انڈیا نے کچھ بھی نہیں کھویا ہے۔‘

تاہم حزب احتلاف کے ارکان نے جب ان سے بعض پہلوؤں کے بارے سوال کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے انھیں سوال کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور ایوان سے ایک متحد آواز باہر جانی چاہیے۔

راہل گاندھی نے راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا اپنی ہی زمین پر مزید پیچھے ہٹ گیا ہے۔

’پینگونگ جھیل کے کنارے ہماری زمین ’فنگر 4‘ تک ہے۔ نریندرمودی نے ’فنگر 3 سے فنگر 4‘ تک کی زمین، جو انڈیا کی مقدس زمین ہے، وہ چین کے حوالے کر دی ہے۔‘

نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’چینی فوج انڈیا کی زمین پر تھی، وہ ڈیپسانگ میں تھے۔ وہ پینگونگ میں تھے۔ انڈین فوج ہر خطرہ مول لے کر کیلاش رینچ تک پہنچ پائی تھی۔ اب وزیراعظم نے یہ زمین بھی چین کو دے دی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ صد فیصد بزدلی ہے اور وزیراعظم بزدل ہیں ۔ وہ چین کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ وہ ہماری فوج کی قربانیوں کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔‘

راہل گاندھی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت انڈیا نے صرف دیا ہے اور چین سے حاصل نہیں کیا۔

انھوں نے کہا ’ دیپسانگ کے عسکری اہمیت کے علاقے سے چینی فوجی کیوں پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ گوگرا اور ہاٹ سپرنگ میں موجود ہیں، وہ وہاں سے پیچھے کیوں نہیں ہٹے؟‘

راہل گاندھی نے کہا کہ یہ معاہدہ چین کی کامیابی ہے، انڈیا کی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کی فوج چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وزیراعظم چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان معاہدے کے بعد پینگونگ جھیل کے فارورڈ محاذ سے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل وغیرہ پیچھے ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایل اے سی پر فوجوں کی تعیناتی اور گشت وغیرہ کے بارے میں اب بھی کئی تصفیہ طلب معاملات ہیں جن پر آئندہ مذاکرات میں بات چیت کی جائے گی۔