براہموس: پاکستان نے براہموس میزائل واقعے پر انڈین اقدامات کو مسترد کر دیا، مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی جانب سے پاکستانی حدود میں غلطی سے براہموس میزائل داغے جانے کے معاملے میں انڈین ایئر فورس کے تین افسران کی برخاستگی کے بعد پاکستان نے ان تحقیقات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ واقعہ نو مارچ کو پیش آیا تھا اور یہ میزائل پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب گرا تھا تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا کیونکہ اس میزائل کا وار ہیڈ فعال نہیں تھا۔
دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جیسا کہ توقع تھی، اس واقعے کے بعد انڈیا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور اس کے نتیجے میں نام نہاد کورٹ آف انکوائری کی طرف سے دیے گئے نتائج اور سزائیں مکمل طور پر غیر تسلی بخش، ناقص اور ناکافی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا نہ صرف پاکستان کے مشترکہ انکوائری کے مطالبے کا جواب دینے میں ناکام رہا ہے بلکہ اس نے انڈیا میں موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، سیفٹی اور سیکیورٹی پروٹوکول اور انڈیا کی جانب سے میزائل لانچنگ میں تاخیر کی وجہ سے متعلق پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کو بھی نظر انداز کیا ہے۔‘
منگل کو انڈین فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’اس معاملے کے حقائق جاننے کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا کام اس واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرنا بھی تھی۔‘
بیان کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا کہ ’تین افسران کا مروجہ طریقۂ کار سے ہٹنا میزائل کے حادثاتی فائر کی وجہ بنا۔‘
فضائیہ کا کہنا تھا کہ ان تینوں افسران کو ہی اس واقعے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور انھیں فوری طور پر برخاست کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 23 اگست کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس 'انتہائی غیر ذمہ دارانہ واقعے' کو بظاہر سردخانے میں ڈال دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ کورٹ آف انکوائری کی تشکیل کے اعلان کے وقت پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اندرونی کورٹ آف انکوائری کے ذریعے اس حادثے کی تحقیقات کا فیصلہ ناکافی ہے کیونکہ یہ میزائل پاکستان کی حدود میں گرا، اس لیے پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعے کے حقائق طے کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقات کی جائیں تاہم انڈیا نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یاد رہے کہ 11 مارچ کو انڈیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ نو مارچ کو پاکستان کی حدود میں گرنے والا میزائل حادثاتی طور پر انڈیا سے فائر ہوا تھا جس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 'نو مارچ کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کے باعث میزائل حادثاتی طور پر فائر ہو گیا تھا۔'
اس واقعے کے بعد پاکستان کی جانب سے اس 'سنگین کوتاہی' کی مشترکہ تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا اور نئی دہلی سے ’غلطی سے میزائل فائر‘ ہونے کو مستقبل میں روکے جانے کے حوالے سے موجود حفاظتی تدابیر کی وضاحت مانگی گئی تھی۔
اس واقعے کے چند دن بعد انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ انڈیا اپنے ہتھیاروں کے نظام کے آپریشنز، دیکھ بھال اور معائنے کے طریقوں کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔
راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے ہتھیاروں کے نظام کی حفاظت اور سکیورٹی کو انتہائی ترجیح دیتے ہیں اور اگر اس نظام میں کوئی کمی پائی گئی تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان میزائل کے بارے میں اطلاعات شئیر کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟
پچھلے 17 برسوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چھ بڑے تنازعات چھڑے ہیں جن کو بات چیت اور بین الاقوامی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے تناظر میں میزائل کا حادثاتی طور پر لانچ ہونے کے بیانیے کو دونوں ملکوں میں ماہرین تشویش سے دیکھ رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری اور ہتھیاروں کے معاہدوں کو شیئر کرنے کے بارے میں بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔
21 فروری 1999 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک حفاظتی یاد داشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس ایم او یو میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو کسی بھی قسم کے بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ کرنے سے پہلے بتائیں گے۔ دونوں ممالک زمینی یا بحری بیلسٹک میزائل لانچ کرنے سے تین دن پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے۔ اور آگاہ کرنے کی ذمہ داری دونوں ملکوں کے دفترِ خارجہ اور ہائی کمیشن پر ہو گی۔
اس کے علاوہ بھی کئی ایسے معاہدے طے پائے ہیں جن کے تحت پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے سے ہر سال یکم جنوری کو جوہری ہتھیاروں کے مقامات (سائیٹ) کی فہرست کا تبادلہ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں ممالک میں یہ بھی طے پایا ہے کہ اگر مسلح لڑاکا طیارے 10 کلومیٹر کی سرحدی حدود میں اڑیں گے تو انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کو بتائیں گے۔
تیسرا معاہدہ جوہری حادثے سے متعلق ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں سے کسی میں بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کو مطلع کریں گے۔
تاہم پچھلے 17 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے تو طے پائے ہیں لیکن اسی دوران ہتھیار خریدنے اور جمع کرنے کی رفتار میں بھی تیزی دیکھنے کو ملی۔ نتیجتاً بہت سے نئے ہتھیار ان معاہدوں کا حصہ نہیں ہیں۔
سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر سید محمد علی نے بی بی سی کی سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بیلسٹک میزائل پر تو با ضابطہ طور پر معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں لیکن نئے میزائل جیسے کہ کروز میزائل پر اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔
سنہ 2005 میں پاکستان نے انڈیا سے کروز میزائل کے ٹیسٹ کے بارے میں بھی معاہدہ طے کرنے کی بات کی تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو پیشگی اطلاع دے سکیں۔ لیکن انڈیا نے اس بات کی حمایت نہیں کی۔
11 اگست 2005 میں پاکستان نے پہلے کروز میزائل بابر کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بابر کی جدید قسم بھی بنائی۔ جس کے بعد ایئر لانچ کروز میزائل رعد بھی آ گیا۔ اسی طرح انڈیا نے بھی کروز میزائل بنائے جن میں براہموس شامل ہے۔












