براہموس: ’میزائل نظام محفوظ ہے، انڈیا ہتھیاروں کے نظام کے آپریشنز کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے‘

انڈین براہموس میزائل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انڈیا اپنے ہتھیاروں کے نظام کے آپریشنز، دیکھ بھال اور معائنے کے طریقوں کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ دنوں پاکستانی حدود میں گرنے والے انڈین میزائل کے معاملے پر پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے ہتھیاروں کے نظام کی حفاظت اور سکیورٹی کو انتہائی ترجیح دیتے ہیں اور اگر اس نظام میں کوئی کمی پائی گئی تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب گذشتہ ہفتے بدھ کے روز انڈین کی جانب سے ایک میزائل معمول کے معائنے کے دوران پاکستان کی جانب داغ دیا گیا۔ یہ میزائل پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب گرا تھا جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا کیونکہ اس میزائل کا وار ہیڈ فعال نہیں تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کی جانب سے اس 'سنگین کوتاہی' کی مشترکہ تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا اور نئی دہلی سے ’غلطی سے میزائل فائر‘ ہونے کو مستقبل میں روکے جانے کے حوالے سے موجود حفاظتی تدابیر کی وضاحت مانگی گئی تھی۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ چند ماہ میں کشیدگی کم ہوئی ہے تاہم عسکری ماہرین نے ماضی میں ان دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان اس نوعیت کی 'غلطیوں کے امکان' کی تنبیہ کی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تین باقاعدہ جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا نے اس واقعے پر اعلیٰ سطحی تفتیش شروع کر دی ہے۔ انھوں نے پارلیمان کو آگاہ کیا کہ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

وزیر دفاع

،تصویر کا ذریعہANI

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'میں ہاؤس (پارلیمان) کو تسلی دلاتا ہوں کہ ہمارا میزائل نظام انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔' تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ لانچ کیا جانے والا میزائل کس نوعیت کا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ہماری حفاظتی تدابیر اور پروٹوکولز اعلیٰ ترین معیار کے ہیں اور ان کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ 11 مارچ کو انڈیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ نو مارچ کو پاکستان کی حدود میں گرنے والا میزائل حادثاتی طور پر انڈیا سے فائر ہوا تھا جس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

انڈیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 'نو مارچ کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کے باعث میزائل حادثاتی طور پر فائر ہو گیا تھا۔'

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اگرچہ یہ 'حادثہ انتہائی افسوسناک ہے مگر ہمیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔'

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس پر باہمی دلچسپی کے دیگر امور کے علاوہ پاکستانی حدود میں انڈین میزائل گرنے کے واقعے پر بھی بات ہوئی۔

وزارت خارجہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شاہ محمود نے اپنے جرمن ہم منصب کو 'نو مارچ 2022 کو ہندوستان کی جانب سے میزائل کے ذریعے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور خطے کو درپیش شدید خطرات سے آگاہ کیا تھا۔'

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اس میزائل کو 'حادثاتی' فائر قرار دینا اور غلطی تسلیم کرنا، ناکافی ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے پر پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ 'مشترکہ تحقیقات' کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت ہونی چاہیے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہiSPR

اس واقعے کے اگلے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر بابر افتخار نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انڈیا کی طرف سے بدھ کی رات 'اُڑتی ہوئی ایک تیز رفتار چیز' ضلع خانیوال کے علاقے میاں چنوں میں گری ہے جو غالباً ایک میزائل ہے لیکن یقینی طور یہ 'ان آرمڈ' (جو بارود یا دھماکہ خیز مواد سے مسلح نہ ہو) تھا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر معید یوسف نے 11 مارچ کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ 40 ہزار فٹ کی بلندی پر سپر سونک میزائل پاکستان کی سرحد میں آیا، اس میزائل کے لانچ ہونے کے بعد انڈیا کو یہ بتانے میں دو دن کا عرصہ لگا کہ میزائل حادثاتی طور پر لانچ ہوا ہے۔'

انڈیا پر اٹھنے والے سوالات

انڈین عسکری میگزین 'فورس' کے اڈیٹر پراوین سوہنے نے 12 مارچ کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'پاکستان نے اس معاملے میں سمجھداری سے کام لیا ہے جو کہ ایک جمہوری حکومت میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے انڈیا پر اٹھنے والے سوالات کی شدت کم نہیں ہونی چاہیے۔ اور سوالات کیے جانے چاہییں، لیکن اسلحے کے استعمال اور جوابی کارروائی پر زور دینا صحیح نہیں ہے۔'

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی اسی طرز کے چند سوالات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

دفترِ خارجہ نے سنیچر کے روز بیان میں کہا تھا 'اس واقعے نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے جن کا جواب دینا ضروری ہے۔'

  • انڈیا وضاحت کرے کہ حادثاتی طور پر میزائل فائر ہونے جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات اور طریقے موجود ہیں، خصوصا اس واقعے کی تفصیلات سے متعلق پاکستان کو آگاہ کیا جائے۔
  • انڈیا کو اس میزائل کی قسم اور تفصیلات سے متعلق پاکستان کو وضاحت دینی ہو گی جو پاکستان کی زمین پر گرا۔
  • انڈیا کو یہ وضاحت بھی دینی ہو گی کہ یہ میزائل کس راستے پر تھا اور کیسے اچانک اس کا راستہ تبدیل ہوا اور یہ پاکستان میں داخل ہو گیا؟
  • کیا اس میزائل میں خود کو تباہ کرنے کا میکینزم موجود تھا؟
  • کیا معمول کی مشقوں اور دیکھ بھال کے دوران بھی انڈیا میں میزائل داغے جانے کے لیے ہر دم تیار رکھے جاتے ہیں؟
  • انڈیا نے فوری طور پر پاکستان کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ حادثاتی طور پر میزائل فائر ہوا ہے اور اس بات کا انتظار کیوں کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اس واقعے کا اعلان کیا جائے گا اور وضاحت مانگی جائے گی؟
  • اتنی بڑی نااہلی کو دیکھتے ہوئے انڈیا کو یہ وضاحت کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا اس کے میزائل واقعی اس کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہی ہیں یا پھر کسی اور کے؟

بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کم فاصلے اور جواب دینے کے وقت کے باعث کسی بھی جانب سے ایسے کسی واقعے کی غلط تشریح جوابی حملے کی شکل میں نکل سکتی ہے جس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ جوہری ماحول میں ایسے واقعے کا سختی سے نوٹس لے۔

پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اندرونی کورٹ آف انکوائری کے ذریعے اس حادثے کی تحقیقات کا فیصلہ ناکافی ہے کیوںکہ یہ میزائل پاکستان کی حدود میں گرا، اس لیے پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعے کے حقائق طے کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقات کی جائیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں انڈین ناظم الامور کو سنیچر کے دن طلب کیا گیا تھا جنھیں پاکستانی حدود میں حادثاتی طور پر میزائل گرنے کے واقعے پر پاکستان کے شدید خدشات سے آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق انڈین ناظم الامور سے کہا گیا تھا کہ 'اتنے سنجیدہ معاملے کو ایک سادہ وضاحت سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کو اس بات کی توقع ہے کہ جوہری ماحول میں حادثاتی یا بنا اجازت میزائل لانچ سے جڑے سیکیورٹی پروٹوکولز اور تکنیکی حفاطتی انتظامات کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جائے گا۔'