کولڈ سٹارٹ اور فل سپیکٹرم ڈاکٹرائینز: بالاکوٹ حملے نے پاکستان اور انڈیا کی جنگی حکمت عملیوں کو کیسے تبدیل کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, دفاعی تجزیہ کار
بالاکوٹ حملے اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی جس میں انڈیا نے اپنی فضائیہ کو پاکستانی سرزمین کے اندر کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ مسلح افواج کو بڑے پیمانے پر جمع کرنے سے براہ راست فوجی کارروائی کرنے تک کا سفر خاصا کٹھن تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2002 میں فوجی کشیدگی اور صف آرائی کی صورتحال جب انتہا پر پہنچی ہوئی تھی تو اُس وقت کے انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان اور انڈیا کی جوہری دفاعی صلاحیت سے متعلق امور کے ماہر اور امریکہ میں مقیم انڈین نژاد محقق پال کپور کو انٹرویو دیا تھا۔
اس انٹرویو میں انڈین وزیراعظم نے فوجی بحران کے دوران فیصلہ سازی اور پاکستان پر فوجی حملہ نہ کرنے کے بھارتی فیصلے پر تفصیل سے بات کی تھی۔
’ڈینجرس ڈیٹیرنٹ‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں پال کپور نے انڈین وزیراعظم کی گفتگو ان الفاظ میں شائع کی کہ ’پاکستان پر حملے کے لیے تمام تیاریاں کرلی گئیں تھیں تاکہ پارلیمینٹ پر حملہ کرنے کی سزا دی جاسکے لیکن امریکیوں نے ہمیں یقین دلایا کہ سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کچھ کرے گا۔ جنوری اور مئی 2002 کے دونوں میں امریکہ نے واضح یقین دہانی کرائی تھی۔ یہ ایک اہم عنصر تھا۔‘
وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے انٹرویو کا یہ اقتباس معید یوسف نے’بروکرنگ پیس اِن نیوکلئیر انوائرنمنٹ‘(جوہری ماحول میں امن کے لیے بیچ بچاﺅ) کے عنوان سے شائع ہونے والی اپنی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی اور امریکی سفارت کاری
معید یوسف سٹریٹیجک امور کے ماہر تھے لیکن پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں اب قومی سلامتی کے مشیر کے منصب پر فائز ہیں۔ معید یوسف نے اس اقتباس کو 2002 کی فوجی کشیدگی ختم کرانے میں امریکی سفارت کاری کے لیے انڈین فیصلہ سازی کی حساسیت کی واضح ترین مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔
پاکستان سے مبینہ طور پر کام کرنے والے شدت پسند گروہوں کے حملے کے نتیجے میں انڈین حکومت نے بڑے پیمانے پر اپنی مسلح افواج کی نقل وحرکت شروع کردی جس کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھی اپنی صف بندی کا آغاز کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPIB
نتیجتاً آٹھ ماہ تک دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود رہیں۔ 2002 کے جنوری اور مئی کے مہینوں کے دوران دو بار روایتی حریف ممالک کی مسلح افواج روایتی جنگ کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعدازاں بھارت اور پاکستان دونوں نے اعتراف کیا کہ بحران کے دور میں ہم جنگ کے خطرے کے نہایت قریب پہنچ گئے تھے۔
روایتی دانش یہ رہی ہے کہ دونوں طرف جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ڈر یا خوف کی دیوار کی صورت میں موجود ہے جس سے دونوں جوہری حریف جنگ سے باز رہیں گے تاہم 2018 میں معید یوسف نے تجویز کیا تھا کہ اصل میں امریکی سفارت کاری کے نتیجے میں خطے میں فوجی کشیدگی ختم ہوئی تھی۔
اس سفارت کاری میں تین ممالک شریک تھے جس میں واشنگٹن نے دونوں فریقین کو فوجی اقدامات بڑھانے سے روکنے اور قائل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
معید یوسف نے اپنی کتاب میں ان خاص حادثات اور واقعات کی نشاندہی کی ہے جہاں انڈیا کو پاکستان کے خلاف اس جنگی بحران میں حملہ کرنے سے باز رکھا گیا تھا۔
درحقیقت معید یوسف کی کتاب اس تصور یا دعوے کے گرد گھومتی ہے کہ جوہری دھماکوں کے بعد کے زمانے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہ ہونے کی وجہ دونوں کے پاس جوہری ڈیٹیرنٹ کی موجودگی نہیں تھی بلکہ تین ممالک کے درمیان استوار انتظام تھا۔
اس بحران میں واشنگٹن نے تیسرے فریق کا کردار ادا کیا اور دونوں حکومتوں پر دباﺅ ڈالا کہ وہ ماحول کو مزید کشیدہ بنانے والے ایسے اقدامات سے باز رہیں جن کے نتیجے میں روایتی جنگ کی راہ ہموار ہو اور نتیجتاً ایک دوسرے پر جوہری ہتھیار چلائے جائیں۔
معید یوسف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’خطرات میں اضافے کی بھارتی کوششوں کے لحاظ سے جنوری 2002 کی ابتدا فیصلہ کن تھی۔‘
جب پاکستان اور انڈیا جنگ کے دہانے پر تھے
اطلاعات تھیں کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں انڈین افواج حملے کے لیے اگلے مورچوں پر آ چکی ہیں اور کسی بھی وقت پوری قوت سے حملہ کردیا جائے گا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور ختم کرنے کی کارروائی بھی شروع ہونے کو تھی جسے آخری لمحات میں روک دیا گیا۔
اصل میں امریکی سیٹلائٹ نےانڈین فوج کی 11 کور کو حملے کی پوزیشن میں آتے دیکھ لیا تھا اور یہ شواہد انڈیا کو دکھائے گئے کہ وہ حملہ کرنے والا ہے۔ نئی دہلی نے فوری طور پر کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وِج کو احکامات سے تجاوز پر ہٹادیا۔
جوہری دھماکوں کے بعد کے دور میں پاکستان اور انڈیا دو بار جنگ کے خطرناک دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ ایک بار 2002 کے دوران جب انڈین پارلیمینٹ پر شدت پسندوں کا حملہ ہوا تھا اور دوسری بار 2008 میں ممبئی شہر میں خون ریز حملوں کے بعد۔
2002 کا فوجی بحران وہ آخری بار تھی جب انڈیا نے پاکستانی علاقے میں پوری قوت سے تیز تر روایتی جنگ شروع کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بڑے پیمانے پرانڈین فوج عالمی سرحد پر امڈ آئی تھی لیکن ان کا انحصار امریکی سفارت کاری کی حمایت پر تھا جو دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے انہیں میسر آئی تھی۔
مثال کے طور پر انڈیا 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد اپنی مسلح افواج کو حرکت میں نہیں لایا۔
بالاکوٹ حملے اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی جس میں فضائیہ کو پاکستانی سرزمین کے اندر کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ مسلح افواج کو بڑے پیمانے پر جمع کرنے سے براہ راست فوجی کارروائی کرنے تک کا سفر خاصا کٹھن تھا۔
اپنی کتاب میں معید یوسف نے 2002 کے بحران کے دوران انڈیا کی جانب سے جوہری قوت کے استعمال کی بیان بازی کا کُھرا بھی تلاش کیا ہے اور نتیجہ اخذ کیا کہ بحران کے دوران انڈین فیصلہ ساز امریکی سفارت کاری سے متعلق بڑے حساس تھے اور جب بھی امریکیوں سے اُن کا آمنا سامنا ہوا تو ان کی جوہری زبان درازی میں کمی واقع ہوگئی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستانی بھی امریکی سفارت کاری کے بارے میں اتنے ہی حساس تھے۔ اسی طرح انڈیا نے امریکی سفارت کاری پر انحصار جاری رکھا اور ممبئی حملوں کے موقع پر ’فوجی رویے کو مغلوب‘ رکھا۔
جوہری دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والے دو فوجی بحرانوں کا حل واشنگٹن کے متحرک ربط وتعلق کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔
معید یوسف اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ ’جوہری ماحول میں ملوث ہونے کے خطرے کے بارے میں امریکی تشویش نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ان تینوں بحرانوں میں سے ہر ایک میں اُن کی شمولیت کی راہ ہموار کی۔ ہر مرتبہ ترجیح کشیدگی میں کمی تھی اور بنیادی ہدف تیزی سے بحران ختم کرنا رہا۔‘
انڈیا کی ’کولڈ سٹارٹ‘ حکمت عملی
انڈیا کی طرف فوجی سوچ میں بڑی پیش رفت نے پیچیدہ سٹریٹیجک اور فوجی صورتحال میں تبدیلی کی۔ یہ 'کولڈ سٹارٹ‘ کی حکمت عملی یا ڈاکٹرائن (نظریہ) تھا۔
ابتدا میں انڈین ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ انڈیا نے یہ حکمت عملی تیار کرلی ہے جبکہ حکومت انکار کررہی تھی کہ ایسی کوئی حکمت عملی یا نظریہ موجود نہیں۔
2017 میں آرمی چیف جنرل راوت نے آخر کار تسلیم کرلیا کہ روایتی جنگ لڑنے کے لیے اس نوعیت کا نظریہ موجود ہے۔
امریکہ میں قائم تھنک ٹینک ہینری ایل سٹیمسن سینٹر نے 2017 میں شائع کردہ اپنی رپورٹ میں کولڈ سٹارٹ کے اس نظریے کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ کولڈ سٹارٹ کا نظریہ کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ اس تصور نے 2001 سے 2002 کے دوران پاراکرم کے نام سے طویل اور آخر میں غیرموثر رہنے والی کارروائی میں انڈین فوج کی تیزی سے نقل وحرکت کرنے میں ناکامی سے جنم لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محدود جنگ کے نظریے کو وضع کرنے کا مقصد آٹھ فوجی جنگی گروپوں کو کارروائی کے مختلف محاذوں پر تیزی سے حرکت دینا تھا جس کا ہدف اس صلاحیت کو برقرار رکھنا تھا کہ:
1: پاکستان کی فوج کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے یا زخمی کردیا جائے۔
2: پاکستانی علاقے پر قبضہ کرکے اسے سودے بازی کے لیے استعمال میں لایاجائے۔
3: پاکستان کی طرف سے جوہری اقدام سے بچا جاسکے۔
اس نظریے کے بنیادی اجزا کو جنرل کرشنا سوامی سندرجی کی ایک دہائی قبل لکھی جانے والی کتاب میں تلاش کیا جا سکتا ہے جو ’پروایکٹو ملٹری آپریشنز‘ (متحرک فوجی کارروائیاں) کے نام سے معروف ہے۔ یہ نام یقیناً کم متنازع ہے لیکن بنیادی طور پر دونوں نظریات کے اہداف ایک ہی ہیں۔‘
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کی کڑی آزمائش پہلی بار اس وقت ہوئی جب 26 نومبر2008 کو ممبئی حملوں کا واقعہ پیش آیا۔
رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ’گو کہ اسے اسی طرح کے منظر نامے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا جہاں پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا بڑا حملہ ہونے پر اچانک اور فیصلہ کن انداز میں انڈین فوج کی قوت استعمال کر کے کڑی سزا دی جائے۔‘
آخر کار آشکار ہوا کہ کولڈ سٹارٹ کے نظریے میں سزا دینے کے جو امکانات تلاش کیے گئے تھے، وہ قابل عمل نہیں۔ یہ امر یقینی بنانے کی کوئی راہ موجود نہ تھی کہ پاکستانی علاقے میں انڈیا روایتی انداز میں گھس جائے گا تو جنگی جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہوگا، یہ وہ خدشہ تھا جو آج بھی برقرار ہے۔
مزید پڑھیے
پاکستان کا جواب: ’فُل سپیکٹرم ڈیٹیرنس‘
فوجی لحاظ سے پاکستانی کی طرف سے ردعمل سست تھا لیکن 5 ستمبر2013 کو راولپنڈی کے سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے دفاتر کی چھت تلے پاکستان کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز جمع ہوئے۔
یہ وہ مقام ہے جو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی کمان کا امین ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے علاوہ دیگر شرکا میں وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے لیے مشیر سرتاج عزیز، وزیراعطم کے خارجہ امور کے لیے معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت اعلیٰ فوجی کمان شامل تھی۔
ان کے سامنے ایجنڈا یہ تھا کہ ایک سرکاری پریس ریلیز (بیان) منظور کریں۔ اس اجلاس کو ’فُل سپیکٹرم ڈیٹیرنس‘ کے نام سے پکارا گیا تھا۔ سادہ الفاظ میں ترجمے کے بعد اس کا مطلب یہ سمجھا گیا کہ پاکستان آرمی کے جنگی منصوبوں میں چھوٹے جوہری ہتھیار شامل ہوں گے۔
گذشتہ چند سال میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں میں بڑی ترقی ہونے کے پس منظر میں یہ منظوری ضروری تصور کی گئی۔ اپریل 2011 میں پاکستان نے محدود فاصلے پر مار کرنے والے، زمین سے زمین پر مار کرنے والے، ملٹی ٹیوب بیلسٹک نصر میزائل کے تجربات کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نصر 60 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل ہے۔ اس کے فوری بعد ابابیل کے نام سے ایک اور میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ یہ میزائل چھوٹے جوہری ہتھیار لے کر اڑنے اور ہدف پر نازل ہونے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اس کی پرواز اور اپنے ہدف کو پالینے کی صلاحیت بڑی تیر بہدف پائی گئی۔
ابابیل میزائل کا تجربہ کرنے والے حکام فوری کارروائی کرنے کے نظام کا حصہ تھے، جس کا مقصد پاکستان کے بڑے جوہری ہتھیاروں کی ڈیٹیرنس کی قدر کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
ماہرین نے ان میزائلوں کی صورت میں ہونے والی پیش رفت کو ملک کی جوہری پالیسی سے مکمل ہٹنے کے اشارے کے طور پر دیکھا جو بنیادی طور پر یہ تھی کہ جوہری ہتھیار آخری چارہ کار کے طور پر ہی بروئے کار آئیں گے۔
اسلام آباد میں طبعیات کے معلم اور عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے خلاف سرگرم شخص کے طور پر معروف پرویز ہود بھائی کا 'فُل سپیکٹرم ڈیٹیرنس' متعارف کرانے پر تبصرہ تھا کہ ’تو (اب) پاکستان جوہری ہتھیاروں کو بھارت کے ساتھ جنگ میں لڑائی کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔‘
پاکستان کے سارے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ 2002 میں جوابی حکمت عملی میں پاکستان کے لیے فوجی نقل و حرکت مالی لاگت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھی لہذا پاکستانی فوج کے منصوبہ سازوں نے یہ لائحہ عمل بنایا کہ جوہری ہتھیاروں خاص طور پر 'ٹیکٹیکل نیوکلئیر' ہتھیاروں کو جنگ لڑنے کا ہتھیار بنایا جائے۔
انڈین جنگی حکمت عملی پر سوچ بچار کرنے اور ان امور کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ بالاکوٹ سرجیکل سٹرائیکس اور کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا موازنہ کرنا غلط ہوگا۔
ہینری ایل سٹیمسن سینٹر کی اشاعت میں دیپک داس نے لکھا کہ ’(اس سے) قطع نظر 'سرجیکل سٹرائیکس' جو انڈیا نے 29 ستمبر2016 کو کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے اطلاق کے ساتھ کیں، کو آپس میں ملانا غلطی ہوگی۔‘

بالا کوٹ حملے مذکورہ بالا کسی فریم ورک میں نہیں آتے۔ خاص طور پر اگر انہیں بہت سارے پاکستانی ماہرین کی آرا کی روشنی میں دیکھا جائے تو جوہری ماحول میں انہیں سیدھا سیدھا ناعاقبت اندیش کہا جاسکتا ہے۔
ان ماہرین کی رائے میں انڈیا کی طرف سے آنے والے لڑاکا طیارے کو پاکستانی ائیر فورس یہ سمجھ سکتی تھی کہ وہ جوہری صلاحیت سے لیس ہے۔ اور اس کے جواب میں وہ بھی ایسا ہی کرسکتی تھی۔











