انڈیا کی سر جڑی بہنیں وینا اور وانی: ’والدین کی محبت کے علاوہ ہمیں سب کچھ ملا‘

- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
’بچپن میں ہمارے کیریئر گول مختلف تھے لیکن اپنی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم دونوں اب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کی خواہش رکھتی ہیں کیونکہ یہ کام ہم ایک ساتھ بیٹھ کر سکتی ہیں۔‘
یہ کہنا ہے کہ 19 سال کی وینا اور وانی کا جنھوں نے حال ہی میں تمام تر مشکلات کے باوجود 12ویں کلاس کا امتحان پاس کیا ہے۔
انڈیا کے جنوبی شہر حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی وینا اور وانی کے جسم تو الگ الگ ہیں مگر پیدائشی طور پر ان کے سر جڑے ہوئے ہیں اسی لیے جب ایک بہن سر سامنے کر کے بولتی ہیں تو دوسری بہن آئینے کی مدد سے انھیں بولتے ہوئے دیکھتیں ہیں اور جواب دیتی ہیں۔
انڈیا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایسے بچے جن کے اعضا رحم مادر ہی میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے مردہ پیدا ہونے کی شرح کافی زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک اندازے کے مطابق یہ شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ اگر ایسے بچوں کو سرجری کے ذریعے الگ بھی کر دیا جائے تو ان میں زندہ بچ جانے کی شرح کم ہوتی ہے۔
وینا اور وانی کی پیدائش کے بعد ابتدا میں ڈاکٹروں نے انھیں بھی الگ کرنے کی کوشش کی لیکن بعدازاں یہ کوششیں ترک کر دی گئیں کیونکہ ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کو سرجری کے ذریعے علیحدہ کرنا ان کی زندگی کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
وینا اور وانی جب پیدا ہوئی تھیں تو تب ان کے والدین نے بھی انھیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ وہ اپنی مالی حالت کی وجہ سے اُن کی نگرانی نہیں کر پائیں گے۔
والدین کے اس فیصلے کے بعد یہ دونوں بہنیں ابتدائی چند برسوں تک ’نیلوفر‘ نامی ایک مقامی ہسپتال میں رہیں اور آخر کار سنہ 2017 میں انھیں ریاست تلنگانہ کے ’ویمن اینڈ چائلڈ ویلیفیئر ڈیپارٹمنٹ‘ میں منتقل کر دیا گیا اور وہ فی الحال وہیں ہر قیام پذیر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سروں کے جڑے ہونے کے باعث درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انھیں ٹی وی دیکھنے جیسے معمولی کاموں میں بھی دقت پیش آتی ہیں۔
وینا بتاتی ہیں کہ ’جب وانی ٹی وی دیکھتی تھیں تو میں ٹی وی نہیں دیکھ پاتی تھی۔ اس وقت میرے لیے ایک بڑا آئینہ رکھا گیا تھا جس میں عکس کی مدد سے میں بھی ٹی وی دیکھ پاتی تھی۔ آسانی کے لیے آہستہ آہستہ ہم بہنوں نے چھوٹا آئینہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اب میں آئینے کے ذریعے صحیح طریقے سے پڑھ سکتی ہوں اور آرام دہ طریقے سے نوٹ بُک پکڑ کر لکھ سکتی ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
یہ دونوں بہنیں تعلیم حاصل کر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا چاہتی ہیں۔ وانی کہتی ہیں کہ ’ہم دونوں اب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ یہ کام ہم ایک ساتھ بیٹھ کر سکتے ہیں۔‘
دونوں بہنوں نے 12ویں کلاس کا امتحان دینے سے پہلے نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کو بتایا تھا کہ وہ کوئی خاص مراعات حاصل نہیں کرنا چاہتیں بلکہ اپنی محنت اور میرٹ کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔
یاد رہے کہ ان دونوں بہنوں نے امتحان میں دیا گیا اضافی وقت بھی لینے سے انکار کر دیا تھا۔
بلکہ بعد میں انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ وہ مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے ہی امتحان میں آنے والے سوالوں کے جواب لکھنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

12ویں کے امتحان میں وینا نے 1000 نمبروں میں سے 712 جبکہ وانی نے 707 نمبر حاصل کیے ہیں۔
لیکن وہ والدین کی محبت نہ ملنے پر کچھ افسردہ بھی ہیں اور کہتی ہیں ’بچپن سے ہی ہمیں والدین کی محبت کے علاوہ سب کچھ ملا۔‘
یہ جڑواں بہنیں صرف تعلیم میں ہی اچھی نہیں بلکہ وہ اپنے فارغ وقت میں ڈرائنگ، آرٹ اور کرافٹ کے کام میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔
حال ہی میں وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ تقریباً 150 کلومیٹر کی دوری پر واقع ضلع وارنگل کے دو دن کے دورے پر گئیں جو انھیں بہت پسند آیا۔
وانی کہتی ہیں ’بچپن سے ہم نے کبھی باہر کی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ کھیتی باڑی، پرانی تاریخی عمارتیں اور مندر۔۔۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بہت اچھا لگا۔‘
وینا اور وانی ’ویمن اینڈ چائلڈ ویلیفیئر ڈیپارٹمنٹ‘ میں اپنی نگراں صفیہ کے کافی قریب ہیں جو گذشتہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے ان کی دیکھ بھال کر رہی ہیں اور انھی کی نگرانی میں دونوں بہنوں کو وارنگل بھی لے جایا گیا۔
صفیہ کہتی ہیں ’وہ کب تک ایسے ہی رہیں گی۔ وہ اس طرح دنیا کو نہیں دیکھ پائیں گی۔ آہستہ آہستہ اگر وہ باہر جانے لگیں تو لوگ بھی محسوس کریں گے کہ یہ بہت نارمل ہے۔‘
وینا اور وانی وانی اپنے حال سے خوش ہیں لیکن وہ اپنا گاؤں دیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں کیونکہ وہ وہاں کبھی نہیں گئی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’لوگوں کو ہمیں دیکھ کر حیران یا خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور سیلفی یا تصویریں نہیں لینا چاہیے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک کریں۔‘











