آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان۔ایران سرحد پر جھڑپ کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک
افغانستان اور ایران کی سرحد پر طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں کم از کم ایک طالبان اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی لڑائی افغانستان کے صوبے نمروز اور ایران کے ہرمند علاقے کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں ہوئی اور اس میں میں ان کا ایک افسر ہلاک ہوا ہے۔
دونوں ممالک نے اس واقعے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا ہے۔ ایک سال قبل طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے سرحد پر کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
طالبان حکومت کی سرحدی فورسز کے ایک اہلکار نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ حملے میں پہل ایرانی فورسز نے کی۔ اہلکار کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ ایرانی افواج نے ان پر اس طرح حملہ کیا ہے۔
ایران نے کابل میں طالبان حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا۔ تاہم اس تازہ ترین جھڑپ کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں۔
صوبہ نمروز کے ضلع کانگ کے علاقے درویشیک میں طالبان حکومت کی سرحدی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایرانی فورسز کے حملوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اپنے مرکزی حکام کے فیصلے اور حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔
طالبان کی سرحدی فورسز کے سربراہ ابراہیم غزہ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ’ایران ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہوتا ہے اور عموماً ایسا ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افغان باشندوں کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نمروز پولیس کے ترجمان بہرام حقمل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’ہمارا ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔‘
ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہرمند کے اہلکار میثم برازندی کے حوالے سے فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ ایران کا اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان فورسز نے ’ایک ایسے علاقے میں اپنا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی جو افغان علاقہ نہیں ہے‘ جس کے بعد دونوں اطراف سے ’کئی منٹوں‘ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
میثم برازندی نے کہا کہ ’ہماری افواج نے فوری جواب دیا۔‘
علاقے سے جاری ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
بی بی سی پشتو نے جنگ کے علاقے سے ایک ویڈیو کلپ حاصل کیا ہے۔ اس کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی سرحدی محافظ فائرنگ کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک راکٹ عمارت کی دیوار سے ٹکرا رہا ہے۔
طالبان اور ایرانی سرحدی محافظوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی تصویریں لینے والے ایک مقامی باشندے نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی کی وجہ وہ سرحدی تنازعہ ہے جو پچھلی حکومت کے بعد سے جاری ہے۔
ان کے مطابق مقامی باشندوں نے ایرانی سرحدی محافظوں کے حملوں کے خوف سے اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں۔
گذشتہ ماہ ایران کی وزارت خارجہ نے اسی علاقے میں ایک جھڑپ کے نتیجے میں ایک ایرانی سرحدی محافظ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔