آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
احمد مسعود: ’آج کا افغانستان 2001 کے مقابلے میں دنیا کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے‘
- مصنف, داؤد قاری زادہ
- عہدہ, بی بی سی فارسی
’آج کا افغانستان سنہ 2001 کے مقابلے میں دنیا کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔‘ یہ طالبان مخالف مزاحمتی رہنما کے بیٹے کی طرف سے سخت تنبیہ ہے۔
احمد مسعود صرف 33 سال کے ہیں لیکن وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
ان کے والد تجربہ کار کمانڈر احمد شاہ مسعود تھے جنھیں ’پنجشیر کا شیر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کا تعلق پنجشیر سے ہے اور یہ افغانستان کے صوبہ کابل کے شمال میں واقع ہے۔
سنہ 2001 میں امریکہ پر 9/11 حملوں سے دو دن قبل القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے انھیں قتل کر دیا تھا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کا آخری دور تھا اور اس وقت افغان عسکریت پسند اسلامی گروپ نے دوسرے جہادی گروہوں کو اپنی سرزمین میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
اب احمد شاہ مسعود کے بیٹے کو ڈر ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔
’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ‘
احمد مسعود کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک بار پھر داعش اور القاعدہ سمیت درجنوں دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے، جو دنیا میں اپنے انتہا پسند نظریے کو پھیلانا چاہتے ہیں۔
گذشتہ برس اگست میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد مغربی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان نے 20 سال سے زائد عرصے تک حکومت کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور مغربی افواج کے جاتے ہی دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں احمد مسعود نے دنیا کو خبردار کیا کہ وہ افغانستان کو نظر انداز نہ کریں، انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو فوری توجہ اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد گروہ اس شورش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ان کے والد احمد شاہ مسعود نے بھی 9/11 سے چند دن پہلے اسی طرح کی تنبیہ جاری کی تھی۔ احمد مسعود کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی تنبیہ پر دھیان نہیں دیا گیا اور اس کے بعد سے دنیا اس کے نتائج بھگت رہی ہے۔
احمد مسعود موجودہ افغانستان کے حالات کو اپنے والد کے دور سے کہیں زیادہ خراب قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ دنیا، خاص طور پر یورپی ممالک افغانستان میں پیدا ہونے والے خطرات کی شدت کو سمجھتے ہیں اور وہ افغانستان میں ایک جوابدہ اور جائز حکومت کے قیام میں مدد کے لیے بامعنی طریقے سے مداخلت کریں گے۔‘
’لڑنے پر مجبور‘
احمد مسعود نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں ایک سال کی تربیت حاصل کی ہے، یہاں برطانیہ اپنے فوجی افسران کو تربیت دیتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کنگز کالج لندن سے جنگی علوم میں ڈگری مکمل کی۔
مسعود کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں جاری بحران کو جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ’طالبان کے انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے خلاف مزاحمت کرنے اور لڑنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
پچھلے سال اگست میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد احمد مسعود نے اپنے آبائی شہر پنجشیر جا کر ان کے خلاف قومی مزاحمتی محاذ قائم کیا تھا۔
مسعود اب تین ہزار سے زیادہ مسلح جنگجوؤں کو کمانڈ کر رہے ہیں۔ ان کی افواج پچھلے 11 ماہ سے پنجشیر کی وادیوں، پہاڑوں اور صوبہ بغلان کے پڑوسی اور اہم ضلع اندراب میں طالبان سے لڑ رہی ہیں۔
وہ طالبان کے پورے افغانستان میں امن قائم کرنے والے دعوے کو چیلنج کرتے ہیں۔
سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں طالبان کے خلاف ان کے والد کی مسلح جدوجہد کے برعکس، اب تک کسی بھی ملک نے طالبان کے خلاف احمد مسعود کی مسلح مزاحمت کی عوامی سطح پر حمایت نہیں کی۔
گذشتہ ماہ برطانوی حکومت نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا: ’برطانیہ افغان شہریوں سمیت تشدد کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص یا سیاسی مقاصد کے لیے تشدد کو ہوا دینے والی کسی بھی سرگرمی کی حمایت نہیں کرتا۔‘
طالبان نے برطانیہ کے مؤقف کا خیر مقدم کیا تھا۔
لیکن احمد مسعود کا کہنا ہے کہ یہ اخلاقی طور پر قابل اعتراض ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ عالمی طاقتیں یہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ اب طالبان کے خلاف لڑنا قابل قبول نہیں جبکہ مغربی طاقتیں کئی دہائیوں سے ان کے خلاف فوجی مہمات کی حمایت کرتی آئی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان عوام کو انصاف اور آزادی کے لیے لڑنے کا حق حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اخلاقی طور پر اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
پیسے اور ہتھیاروں کی کمی
قومی مزاحمتی محاذ کے رہنما مانتے ہیں کہ طالبان کے مقابلے میں ان کے جنگجوؤں کے پاس کم وسائل ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ بلند حوصلوں اور جذبے نے اس مزاحمت کو جاری رکھا ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب ہم سال 2022 میں ہیں۔ نئی نوجوان نسل ایسا نیا افغانستان چاہتی ہے جہاں وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔‘
احمد مسعود برطانیہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے لوگوں کا ساتھ دیں اور سیاسی حل کے لیے طالبان پر دباؤ بڑھائیں۔
طالبان کے کابل پر قبضے اور اقتدار سنبھالنے کے تقریباً ایک سال کے بعد بھی کسی ملک نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تاہم کئی علاقائی ممالک اور طاقتیں، جیسا کہ روس نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ طالبان کی حکومت کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
احمد مسعود نے طالبان کو تسلیم کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایسا کرے گا اسے طالبان کے مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
وہ طالبان پر پنجشیر، اندراب اور دیگر مقامات پر افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے، ان پر تشدد کرنے اور قتل جیسے الزامات لگاتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی ان ہلاکتوں کا اقرار کیا ہے۔
احمد مسعود کا کہنا ہے کہ طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں سے 97 فیصد شہریوں کا ان کے قومی مزاحمتی محاذ سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ مسعود نے متاثرین کے اہلخانہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے محدود وسائل کی وجہ سے ان کی مدد نہیں کر سکتے۔
مذاکرات کی دعوت
مسعود کا کہنا ہے کہ سیاسی بات چیت ہی افعانستان میں جاری بحران کا واحد حل ہے۔
مسعود کی طالبان رہنماؤں سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ان میں چھ ماہ قبل تہران میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے آمنے سامنے ملاقات بھی شامل ہے تاہم ان کا کہنا ہے بات چیت میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔
وہ ان ملاقاتوں کی ناکامی کا الزام طالبان پر لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے، جہاں وہ سیاسی تصفیہ پر یقین رکھتے ہوں۔
تاہم مسعود کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ طالبان کے نچلے حلقوں میں موجود افراد تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔
انھیں امید ہے کہ یہ سمجھ بوجھ اعلیٰ رہنماؤں تک بھی پہنچے گی لیکن احمد مسعود جانتے ہیں کہ انھیں ایک طویل اور تنہا جنگ لڑنی ہے۔
’دنیا نے افغان عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے ہمیں دہشتگردی کے مقابلے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔‘