احمد شاہ مسعود کے مقبرے کے نزدیک طالبان کے رقص سے نسلی تناؤ میں اضافہ، طالبان قیادت کی مذمت

    • مصنف, علی حسینی
    • عہدہ, بی ‌بی ‌سی

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کے مقبرے کے قریب مبینہ طالبان جنگجوؤں کے رقص کی ویڈیو کے بارے میں کہا ہے کہ یہ طالبان کی پالیسی نہیں ہے۔

پنجشیر میں پرسوں تقریباً 20 طالبان فوجیوں نے عید الفطر منائی جس میں اتنڑ رقص کے لیے گھیرا بنایا، رقص کیا، پشتو میں ایک مشہور مقامی گانا گایا اور تالیاں بجائیں۔

یہ ایک سادہ سا عمل معلوم ہوتا ہے لیکن بہت سے افغانوں، خاص طور پر تاجکوں کے لیے تاجک سیاسی و عسکری تحریک کی سب سے اہم شخصیت احمد شاہ مسعود کے مقبرے کے یہ مناظر طالبان کی نسبت زیادہ نمایاں تھے۔

احمد شاہ مسعود کو گذشتہ دو دہائیوں سے افغان حکومتوں نے قومی ہیرو قرار دے رکھا ہے اور ان کے مقبرے پر ہر سال ان کی برسی کے موقع پر ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

یہ واضح تھا کہ ان مناظر پر نسبتاً بڑا ردِ عمل سامنے آئے گا۔

افغانستان کے کثیر النسلی ملک میں اکثریتی طور پر پشتون طالبان ایک ایسے کمانڈر کی قبر کے قریب رقص کر رہے تھے جن سے وہ برسوں سے لڑتے رہے تھے اور جن کے دور میں پنجشیر میں طالبان کا داخلہ ممنوع تھا۔

احمد شاہ مسعود کے ساتھ کئی سالوں تک کام کرنے والے امر اللہ صالح نے اس واقعے کو ’بے حرمتی‘ قرار دیا اور لکھا: ’یہ بات ختم نہیں ہوئی، بلکہ معاملہ گرم ہو رہا ہے۔‘

نسلی بنیادوں پر رد عمل

افغانستان کے ایوانِ نمائندگان کے سابق رکن عارف رحمانی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر اس رقص کے جواب میں لکھا ’یہ ذہنی بیماری، کم ظرفی اور حکمران گروہ کی محدود صلاحیتوں کی عکاس ہے، یہ واضح ہے کہ یہ بیمار ذہنیت اس گروپ کو جلدی ہی ختم کردے گی۔‘

محمد حلیم فدائی جو گذشتہ حکومت کے دوران متعدد بار مختلف صوبوں کے گورنر رہ چکے ہیں، اُنھوں نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان اور مذہبی اقدار کے خلاف ہے۔

ان کے مطابق، ’اس قسم کی حرکتیں نسلی تعصب کو ہوا دیتی ہیں۔ یہ افغان مخالف حلقوں کا منصوبہ ہے کہ افغانوں کے اتحاد کو مزید نقصان پہنچایا جائے اور ایک شدید خانہ جنگی کے لیے میدان تیار کیا جائے۔‘

دوسری جانب طالبان کے متعدد حامیوں نے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قرزق ڈانس پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟

وہ احمد شاہ مسعود کے مقبرے کے قریب ایک تاجک گلوکار کے گانے کی ویڈیو کا حوالہ دے رہے تھے۔ قرزق پنجشیر موسیقی کے قدیم ترین انداز میں سے ایک ہے، جو تاجکوں میں زیادہ عام ہے۔

طالبان کے پنجشیر میں رقص کی تقریباً ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو پر طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔

اُنھوں نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا: ’پنجشیر کا حالیہ واقعہ امارت اسلامیہ کی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی ہے۔‘

اُنھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’امارت اسلامیہ میں جہادی شخصیات کا احترام کیا جاتا ہے اور مرنے والوں کی توہین کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس قسم کے فعل کی اجازت دیتے ہیں۔ اس غلط کام کے محرکات کا پتہ لگانے اور اس طرح کی کارروائیوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔‘

طالبان کے مؤقف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہیں۔

پنجشیر طالبان کے خلاف ’مزاحمت کے گڑھ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی فرنٹ اس وقت صوبے کے دامن میں طالبان سے لڑ رہی ہے۔

طالبان کی جانب سے کئی مواقع پر صوبے میں ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پنجشیر اور اندراب میں شہریوں کے ساتھ ’تشدد اور امتیازی‘ سلوک کیے جانے کے الزامات کی طالبان کے ترجمانوں نے ہمیشہ تردید کی ہے۔

دریں اثنا جس مسئلے پر کم توجہ دی جاتی ہے وہ ہے طالبان کی فیلڈ فورسز کی کارکردگی اور طرز عمل۔

واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان رہنما بعض صورتوں میں اپنی فیلڈ فورسز کی ’تخریب کاری‘ کو جواز فراہم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

افغانستان پر قبضے کے پہلے ہی ہفتوں میں پنجشیر میں طالبان کی افواج نے احمد شاہ مسعود کے مقبرے کو تباہ کر دیا تھا ایک ایسا کمانڈر جس کو وہ شکست نہیں دے سکے تھے، لیکن بعد میں طالبان حکام کی سفارش پر تباہ شدہ مقبرے کی مرمت کی گئی۔

اس طرح کے معاملات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان حکام اور ان کی فیلڈ فورسز کے درمیان ایک خلیج ہے جو بعض اوقات طالبان کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

یہ نقطہ نظر، خاص طور پر اگر یہ نسلی اور ثقافتی حساسیت تک پہنچتا ہے، تو اس کے زیادہ سنگین اور دور رس ردعمل اور نتائج ہوں گے۔

مثال کے طور پر پنجشیر میں رقص کے واقعے میں یہ واضح نہیں ہے کہ جب طالبان کی افواج نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کا ہدف احمد شاہ مسعود کا مقبرہ تھا یا اُنھوں نے صرف عید کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔

اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں نسلی حساسیت کو نظر انداز کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔