شاپنگ مال میں نماز پر تنازع: 18 سیکنڈ کی نماز میں ’امام اور نمازیوں کا رخ الگ الگ سمت میں‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
عام طور پر کسی شہر میں ایک نئے مال کا کھلنا کوئی اہم خبر نہیں ہوتا ہے لیکن لکھنؤ میں حال ہی میں کھولے گئے ایک مال میں چند افراد کی جانب سے 'نماز' ادا کرنے کی ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دائیں بازو کے ہندوؤں نے ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے جس کے بعد مال کے مسلمان مالک کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ ان ’نمازیوں‘ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن اس کہانی میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی میڈیا کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان ’نمازیوں‘ نے محض 18 سیکنڈ میں ہی نماز ختم کر دی۔
مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ویڈیو کے مطابق ان میں سے ایک شخص، جو کہ مبینہ طور پر امام ہے، اس نے تو اپنا ڑخ بھی قبلے کی جانب نہیں رکھا تھا۔
مال کے گیٹ سے لے کر سڑک پر لگے سی سی ٹی وی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ 'نمازی' پیدل ہی شاپنگ مال کے اندر آئے تھے۔ انھوں پہلے گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی گارڈ نے انھیں روکا تو انھوں نے دوسری منزل پر جا کر ایک کونے میں ’نماز‘ پڑھی۔ مبینہ طور پر انہی کے ساتھیوں نے اس کی ویڈیو بھی بنائی۔
اس خبر کے بعد صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا وہ واقعی نمازی تھے؟
روہنی سنگھ نے سوال کیا کہ 'تو پتہ چلا کہ لکھنؤ کے لولو مال میں نماز پڑھنے والے اداکار تھے جو شاید سماج میں اشتعال پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن اس سے ہمارے بارے میں کیا پتا چلتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
عطیہ زیدی نے لکھا کہ تو ’نماز‘ فرضی تھی، ’نمازی‘ بدمعاش تھے اور سارا واقعہ ایک سازش تھی۔ بیمار ذہنیت ہے۔ نفرت انگیز تعصب۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
لولو مال مشہور کیوں ہے؟
لولو مال کے مالک دبئی میں مقیم یوسف علی ایم اے نامور ایک انڈین تاجر ہیں۔ لولو گروپ کے مطابق ان کا 8 بلین امریکی ڈالر کے سالانہ کاروبار ہے اور ان کے لیے 60,000 سے زیادہ افراد خلیجی ممالک، مشرقی ایشیا، یورپ، امریکہ اور انڈیا میں کام کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا لکھنؤ مال 15,000 سے زیادہ مقامی لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ طریقے سے ملازمتیں فراہم کرے گا۔ یہ 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنایا گیا ہے اور 2.2 ملین مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے، جسے لکھنو کا سب سے بڑا مال بتایا جا رہا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ مال کا افتتاح عید الاضحیٰ کے دن اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیا تھا، جن کا مسلمان مخالف موقف اکثر تنقید کا نشانہ رہا ہے۔
اگرچہ انھوں نے مال میں کوئی تقریر یا بیان نہیں دیا لیکن اس افتتاح میں ان کے ساتھ حکومتی رہنما اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
مقامی میڈیا میں اس کے افتتاح کی خبر وسیع پیمانے پر ہوئی تھی۔ تمام بڑے اخبارات میں کئی صفحات پر مشتمل اشتہارات شائع ہوئے تھے۔ بی بی سی ہندی کے مطابق لکھنؤ کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کسی مال کے آغاز سے متعلق اتنی تشہیر مقامی اور قومی میڈیا میں دیکھنے میں آئی ہے۔
مال کے مالک یوسف علی نے خود وزیر اعلیٰ کو گولف کارٹ پر بیٹھا کر 400 میٹر لمبا دو منزلہ مال دکھایا۔
اس کے افتتاح کے چند ہی دن بعد کچھ افراد کی 16جولائی کو مال میں نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔
تنازعے کے بعد ایک گروپ نے مال کو بلڈوزر سے توڑنے کا مطالبہ کیا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو بلڈوزر سے متعلق سیاست کرنے سے انتخابی فائدہ ہوا ہے۔ ان کے مداح انہیں ’بلڈوزر بابا‘ کہتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات اور مجرموں پر حملے کے نام پر مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔
معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’دی ٹیلی گراف‘ اخبار نے لکھا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس مال کا افتتاح کیا تھا لیکن اب وہ خود اس کے لیے حملے کی زد میں آگئے ہیں۔ ’بدمعاشوں پر بلڈوزر چلانے کی بات کرنے والے وزیر اعلیٰ سے اب ہندو تنظیمیں لولو مال پر بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔‘
اس دوران مال انتظامیہ نے ’نماز‘ پڑھنے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ پولیس کو لکھے گئے خط میں مال انتظامیہ نے یہ واضح کیا کہ ’مال کے عہدیداروں کے ذریعے کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لولو مال میں تعینات کوئی افسر یا ملازم نماز میں شامل نہیں تھا۔‘
پولیس نے پورے معاملے کی جانچ کے لیے چند افراد کو حراست میں لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر بھی چند لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مال میں نماز کی اجازت ہے تو دوسرے مذاہب کی پوجا کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
مال میں نماز کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک تنظیم کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بدھ کو مال میں سر عام نماز ادا کی گئی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہم وہاں سندر کانڈ اور ہنومان چالیسہ پڑھنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ 'ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مال کے 70 فیصد ملازمین مسلمان اور 30 فیصد ہندو ہیں۔ مال مسلمانوں اور اسلام کو فروغ دے رہا ہے۔‘
چند سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس طرح کا الزام لگایا کہ اس میں 80 فیصد ملازم مسلم مرد ہیں اور 20 فیصد ہندو خاتون ہیں اور یہ کہا کہ یہ لو جہاد کی کوشش ہے۔
مال نے ایک بیانیہ جاری کر اس خبر کی تردید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صارف زویا رسول نے افسوس ظاہر کیا کہ دائیں بازو کے اثر و رسوخ کی قیادت میں ایک بدنیتی پر مبنی جعلی خبر پھیلائی گئی کہ لولو مال کے 80 فیصد ملازمین مسلمان ہیں اور باقی ہندو خواتین ہیں۔ انھوں نے کہا 'آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنے بیمار ذہن لوگ ہیں۔ مال انتظامیہ نے آج وضاحت جاری کی ہے لیکن میرے خیال میں (بدنام کرنے کا) کام پورا ہو چکا ہے۔‘
فی الحال پولیس مال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال کرکے 'نمازیوں' کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔











