مودی کابینہ کے آخری مسلمان وزیر بھی رخصت: کیا دنیا کی ’سب سے بڑی‘ جمہوریت فکرمند ہے؟

مختار عباس نقوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمختار عباس نقوی نے گذشتہ روز اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ سے آخری مسلمان وزیر مختار عباس نقوی کے مستعفی ہونے کے بعد انڈیا کی 75 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مرکزی حکومت میں کوئی مسلمان وزیر موجود نہیں ہے۔

انڈیا کے اقلیتی اُمور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے کیونکہ ان کی بطور رکن پارلیمان (ایم پی) مدت ختم ہونے والی تھی۔

انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے جو کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے لیکن فی الحال مسلمانوں کی انڈین پارلیمان میں نمائندگی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔

انڈین پارلیمنٹ میں حزب اقتدار جماعت بی جے پی کے تقریباً 400 ارکان ہیں مگر مرکزی حکومت میں مسلمانوں کا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

مختار نقوی کا حکومت سے استعفی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کو سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی اقلیتوں پر تشدد میں اضافے جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

نقوی کی جگہ اداکارہ سے سیاستدان بنی 46 سالہ سمرتی ایرانی نے لی ہے۔ وہ اکثریتی برادری سے ہیں لیکن ان کی شادی اقلیت برادری پارسی میں ہوئی ہے۔

مسلمان انڈیا کی آبادی کے تقریباً 14 فیصد ہیں لیکن مرکزی حکومت سے ان کی مکمل غیر حاضری انڈین جمہوریت کی نمائندنگی پر سوال اٹھاتی ہے۔

مودی

،تصویر کا ذریعہAFP

کولکتہ میں عالیہ یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ریاض کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال پر حیرت زدہ نہیں ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں بچی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ محض ان کے پرانے نظریے کی ترقی ہے۔ لیکن اگر اس حکومت میں پہلے مسلم وزرا تھے بھی تو اس سے مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ ہوتا تھا؟ انھوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے اہم مسئلوں پر پارلیمان کی موثر رہنمائی نہیں کی۔‘

حکومت میں کسی بھی مسلم رکن کے نہ ہونے کی صورتحال کو سینیئر تجزیہ کار آرتی جیرتھ ایک ’عجیب صورتحال‘ سے تشبیہ دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب سے بی جے پی کی ابتدا ہوئی ہے تب سے اُن کی پارٹی (بی جے پی) میں ایک مسلم سینیئر لیڈر ضرور ہوتا تھا۔‘ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بی جے پی کے سینیئر مسلم لیڈروں جیسے سکندر بخت، مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کو یاد کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ شاہنواز نے تو لوک سبھا کی سیٹ بھی جیتی تھی جو کہ اب کسی مسلم رہنما کے لیے کافی مشکل کام ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ انڈیا کی پارلیمنٹ میں دو ایوان ہیں، ایک ایوان بالا (راجیہ سبھا) اور دوسرا ایوان زیریں (لوک سبھا)۔ راجیہ سبھا کے ممبران کا انتخاب بالواسطہ طور پر دوسرے قومی اور علاقائی نمائندوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، لیکن لوک سبھا کے اراکین کا انتخاب براہ راست لوگوں کے ووٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ حکومت میں مسلمان چہرے کا ہونا اکثر ایک واجبی سے خانہ پری ہوتا ہے لیکن کئی دوسرے وجوہات کی بنا پر بھی بی جے پی جلد ہی حکومت میں ایک مسلم چہرہ لانے کی کوشش کرے گی۔

بے جے پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی مقامی میڈیا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ نقوی کو جموں و کشمیر کا گورنر بنایا جا سکتا ہے یا ملک کے نائب صدر کے لیے پارٹی کا چہرہ نامزد کیا جا سکتا ہے۔

جیرتھ کہتی ہیں کہ ’نائب صدر کا چناؤ ہونا باقی ہے۔ سُننے میں آ رہا ہے کی بی جے پی کسی مسلمان کو کھڑا کرے گی لیکن ابھی تک یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’حکومت کو کچھ تو کرنا ہو گا کیوںکہ اس سے بی جے پی کی مسلم مخالف امیج مزید خراب ہوتا جائے گا۔ انھیں کسی نہ کسی طرح سے ایک مسلم لیڈر لانا پڑے گا۔‘

لیکن کیا اس صورتحال کے باعث بی جے پی واقعی اپنی مسلم مخالف تصویر کے بارے میں فکرمند ہو گی؟

آرتی کہتی ہیں کہ ’جب سے پیغبر اسلام سے متعلق تنازع ہوا ہے بین الاقوامی برادری کی وجہ سے بی جے پی کے اندر تھوڑی بہت تشویش ہے۔ انھیں اپنے ووٹروں کی فکر نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کی وہ بغیر مسلم ووٹ انتخابات جیت سکتے ہیں جو کہ انھوں نے ثابت بھی کیا ہے کئی حالیہ انتخابات میں۔ لیکن بین الاقوامی برادری کی فکر ضرور ہے۔‘

پروفیسر ریاض کا بھی کہنا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ بی جے پی جلد ہی خانہ پُری کے لیے چند مسلمانوں کے نام لے کر آئے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن یہ جو کچھ بھی ہو گا کسی نظریاتی تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ایک عملی سیاسی قدم ہو گا۔ اس سے مسلمانوں کی قیادت میں مزید تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔‘

بی جے پی نے سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں سات مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنی نسشت جیتنے میں کام نہیں ہو سکا تھا۔ اسی طرح سنہ 2019 میں بھی اس نے چھ مسلمانوں کو ٹکٹ دیا لیکن وہ بھی جیتنے میں ناکام رہے حالانکہ اس بار بی جے پی نے گذشتہ انتخابات سے زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مودی حکومت کی مذہب کی بنیاد پر سیاست ان کے لیے تاحال کافی مفید ثابت ہوئی ہے، لیکن مودی حکومت بین الاقوامی سطح پر انڈیا کی تکثیریت اور مذہبی تنوع کا استعمال ملک کے بہتر تصویر فروخت کرنے کے لیے اکثر کرتی ہے۔

آرتی کہتی ہیں کہ ’بی جے پی کو مقامی طور پر کسی طرح کی کوئی فکر نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امیج کا مسئلہ ہے۔ نریندر مودی اپنی امیج پر کافی توجہ دتیے ہیں۔ خلیجی ممالک ہمارے لیے خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ ہمارا سب سے زیادہ تیل خلیجی ممالک سے درآمد ہوتا ہے اور وہ ہمارے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ حکومت میں مسلمان چہرے کا نہ ہونا بی جے پی کی شبیہ کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ’انھیں اسے حل کرنے کے لیے معقول قدم ضرور اٹھانا پڑے گا۔‘