نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کے خلاف انڈین اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی کوششوں میں تیزی کیوں آ رہی ہے؟

مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا وسیع تر اتحاد بنانے کی کوشش ہو رہی ہے
    • مصنف, وجدان محمد کوسا
    • عہدہ, صحافی

انڈیا میں سنہ 2019 کے عام انتخابات کے انعقاد سے تین سال قبل ہی ملک میں حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے رہنما وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے خلاف انتخابی اتحاد بنانے کی باتیں کر رہے تھے۔

اور اب ایک مرتبہ پھر انڈیا میں پیش آئے چند حالیہ واقعات کے بعد ملک میں قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے اتحاد، اس کے اغراض و مقاصد اور اس کی ہیت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور بحث میں تیزی آ گئی ہے۔

علاقائی جماعتوں، جن میں ترنمول کانگریس، نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی)، عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) شامل ہیں، نے ایک دوسرے سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ممکنہ وسیع تر سیاسی اتحاد میں کانگریس پارٹی کے ممکنہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

وسیع تر سیاسی اتحاد کے لیے تازہ کوششیں

اس وسیع تر سیاسی اتحاد کے لیے کی جانے والے کوششیوں میں نئی پیش رفت 22 جون کو سامنے آئی جب ملک کی ایک بااثر شخصیت اور نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ سرد پوار کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔

اس اہم سیاسی اجلاس میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی موجود نہیں تھی اور چند میڈیا ہاوسز نے یہ اطلاع بھی دی کہ بہت سی دیگر جماعتیں بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشن’چند حالیہ اقدامات کے بعد انڈیا میں سیاسی سطح پر نریندر مودی کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے‘

بعد ازاں 28 جولائی کو ترنمول کانگریس پارٹی کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے دارالحکومت نئی دلی میں کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔

ممتا بینر جی نے اس ملاقات کے بعد حکمران جماعت بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں شکست دینے کے لیے حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی سے ملاقات میں انھوں نے اس معاملے پر تفصیل سے بات کی ہے۔

ممتا بینر جی نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور مودی حکومت کے خلاف کُھل کر بات کرنے والے سیاسی رہنما ارویند کیجریوال سے بھی ملاقات کی۔

حزب اختلاف کی جماعتیں پارلیمان کے رواں مون سون اجلاس میں بھی حکمران جماعت کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق حزب اختلاف کی 14 سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان گذشتہ ہفتے ایک ملاقات ہوئی جس میں حکومت کی طرف سے سیاسی رہنماوں کی جاسوسی کرنے کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بات چیت کی گئی۔

اسی سلسلے میں کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے تین اگست کو حزب اختلاف کے رہنماوں کو ناشتے پر مدعو کیا جس میں سیاسی رہنماؤں کی جاسوسی اور دیگر معاملات جن میں زراعت کے شعبے میں کی جانے والی قانونی اصلاحات اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر بات ہوئی۔

ملاقات کے بعد حزب اختلاف کے ایک رہنما نے کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان مسائل پر حکومت کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ اگر حکومت پارلیمان کے اس اجلاس کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اس کو جاسوسی کے معاملے پر بحث کروانے پر متفق ہونا پڑے گا۔‘

ممتا، مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انتخابی سیاست سے ماورا اتحاد بنانے کے مطالبے

کچھ سیاسی مبصرین، خاص طور پر بی جے پی کی سیاست سے اختلاف رکھنے والے مبصرین، حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی سیاست سے ہٹ کر اتحاد بنانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

سیاستدان اور سماجی کارکن یوگیندر یادیو نے ’دی پرنٹ‘ نامی نیوز ویب سائٹ پر ایک مضمون میں کہا کہ نریندر مودی کے خلاف جانے پہچانے سیاسی چہروں کا یکجا ہو جانا ہمارے وقت کا تباہ کن اور ایک انتہائی کاہلانہ سیاسی عمل ہو گا۔

یادیو نے کہا کہ اس بارے میں شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ ایک ایسا اتحاد جس میں مختلف سیاسی نظریات اور شخصی عزائم رکھنے والے سیاسی رہنما شامل ہوں پائیدار ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے حزب اختلاف کے سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ جلد بازی میں کوئی انتخابی اتحاد بنانے کے بجائے اعلی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے یکسوئی کا مظاہرہ کریں۔

درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے زویا حسن نے حالات حاضرہ کی ’دی وائر‘ نامی ویب سائٹ پر لکھا کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد انتخابی حلقوں کی تقسیم سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔

راہول گاندھی

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنکانگریس اب بھی ملک کی دوسری بڑی مقبول جماعت ہے

انھوں نے لکھا کہ اس سیاسی اتحاد کی اساس ٹھوس فکری اور عام آدمی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے گئے کم سے کم متفقہ ایجنڈے کی بنیاد پر رکھی جانی چاہیے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سیاسی رہنماؤں کو اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دینی ہو گی تاکہ دائیں بازو کی سیاست کا مقابلہ کیا جا سکے۔

عام انتخابات میں سیاسی اتحاد کا مقصد

ملک میں سنہ 2014 اور اس کے بعد 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اپنے بل بوتے پر تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ اکثریتی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

ان دونوں انتخابات کے دوران بی جے پی کی نشستوں میں صرف 21 نشستوں کو فرق پڑا یعنی سنہ 2019 کے انتخابات میں اس نے سنہ 2014 کے مقابلے میں 21 نشستیں زیادہ حاصل کیں، لیکن تقریباً تمام حلقوں میں جہاں سے بے جے پی نے کامیابی حاصل کی وہاں اس کے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بی جے پی کی حمایت میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح میں 7.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ شرح بڑھ کر 37.3 فیصد پر پہنچ گئی۔

سنہ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی نے جن نشستوں پر کامیابی حاصل کی ان میں سے 74 فیصد نشستوں پر اسے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے۔

ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کا اتحاد زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ بی جے پی نے اکثریتی ووٹ حاصل کر لیے تھے۔ باقی 24 فیصد نشستوں پر بی جے پی کو 40 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

انتخابی سیاست تک محدود کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے۔

انتخابی اعداد و شمار ایک اور لحاظ سے بی جے پی کے ناقابل شکست ہونے کی طرف سے اشارہ کرتے ہیں۔ بی جے پی نے سنہ 2019 میں 303 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور ان حلقوں میں اسے 55 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ یہ انڈیا میں اب تک ہونے والے تمام انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو ملنے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح سے نو فیصد زیادہ تھی۔

ان انتخابی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں صرف انتخابی سیاست تک محدود اتحاد بی جے پی کے خلاف موثر ثابت نہیں ہو گا تاوقتیکہ کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حزب اقتدار کے خلاف ایک مضبوط بیانیے کے ساتھ انتخابات میں اتریں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں میں اتحاد میں کانگریس کا کردار

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کی انتخابی حمایت میں کمی ہوئی ہے جو بے جے پی کے حق میں چلی گئی ہے۔

جب بی جے پی سنہ 1985 میں پہلی بار انتخابی سیاست میں داخل ہوئی تھی تو اس کو صرف دو حلقوں میں کامیابی حاصل ہو سکی تھی جبکہ لوک سبھا کی مجموعی 543 نشستوں میں سے کانگریس کو 404 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔

اس کے بعد سے اب تک جتنے انتخابات ہوئے ہیں ان میں بے جے پی کی کارکردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی گئی اور سنہ 2014 اور سنہ 2019 میں اس کو عظیم و شان کامیابیاں ملیں اور کانگریس کی مقبولیت کم ہو سنہ 2014 میں 44 اور سنہ 2019 میں 53 نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

زویا حسن نے کہا کہ کوئی بھی ملکی سطح پر بننے والا سیاسی اتحاد جس کا نصب العین پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا ہو اس میں قومی سطح کی جماعت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جتنی بھی کمزور ہو لیکن ابھی اتنی سیاسی قوت رکھتی ہے کہ اس نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

’حزب اختلاف کی جماعتوں میں یہ واحد ملکی سطح کی جماعت ہے جس نے سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بھی 12 کروڑ ووٹ حاصل کیے جبکہ اس کے مقابلے میں بی جے پی نے 22 کروڑ ووٹ حاصل کیے۔ کانگریس کو ملنے والے ووٹ مجموعی ووٹوں کا 20 فیصد حصہ بنتے ہیں۔

انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ کے ایک اداریے میں کہا گیا کہ کانگریس جماعت کی شمولیت کے بغیر بی جے پی کے خلاف کوئی اتحاد کارگر ثابت نہیں ہو گا۔

سنہ 2019 کے انتخابات میں کانگریس کی جماعت نے پانچ ریاستوں میں ووٹ حاصل کرنے کے اعتبار سے سب سے بڑی جماعت رہی جبکہ 22 دیگر ریاستوں میں یہ اس لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہی۔ جن 22 ریاستوں میں بے جے پی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے ان میں سے 19 میں کانگریس دوسری نمبر پر تھی۔ اس اعتبار سے کانگریس ملکی سطح پر بننے والے کسی بھی اتحاد کا ایک قدرتی حصہ بنتی ہے۔

انڈیا بھر میں گیارہ مخلتف جماعتیں ہیں جن میں ایسی جماعتیں بھی ہیں جو کسی ایک ریاست میں مضبوط ہیں اور جنھوں نے کسی ایک ریاست میں کامیابی حاصل کی ہو، جبکہ دس دیگر ایسی جماعتیں ہیں جو دس ریاستوں میں دوسرے نمبر پر رہی ہیں۔