سپائس جیٹ: انڈیا کی سستی لیکن تحفظ کے نقطۂ نظر سے پریشان کن ائیر لائن کا مستقبل کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زویا متین
- عہدہ, بی بی سی نیوز دہلی
شوبھی شرما کو یاد ہے کہ وہ کس قدر پُرجوش تھیں جب ہوائی جہاز انڈین دارالحکومت دہلی کے رن وے پر دوڑتا ہوا فضا میں بلند ہوا۔
31 سالہ شوبھی ایک ٹیچر ہیں اور وہ بتاتی ہیں کہ وہ کئی ہفتوں کے انتظار کے بعد دبئی میں اپنے کزن کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے شدت سے منتظر تھیں لیکن سفر کرتے ہوئے انھیں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت گزرا تھا کہ ہوائی جہاز نے اُن کی ’زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔‘
شوبھی شرما سپائس جیٹ کی اس پرواز کے 138 مسافروں میں شامل تھیں جسے 5 جولائی کو پاکستان کے شہر کراچی میں ایندھن کے نظام میں خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
وہ کہتی ہیں، ’ہمیں طیارے میں پانچ گھنٹے تک بٹھایا گیا۔ کوئی نیٹ ورک نہیں تھا اس لیے ہم اپنے خاندان سے رابطہ نہیں کر سکے۔‘
آخر کار کچھ افسران آئے اور مسافروں کو ہوائی اڈے کے لاؤنج میں لے گئے جہاں شوبھی شرما نے مزید چھ گھنٹے ’صرف مدد کے لیے بے چینی سے انتظار‘ میں گزارے جب تک کہ ایئر لائن نے دوسرے طیارے کا بندوبست نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا ’جب میں 12 گھنٹے کی تاخیر سے دبئی پہنچی تو میں بہت تھک چکی تھی لیکن پھر بھی میں نے ایک کام کیا ہے۔ میں نے ایئر لائن کے ساتھ اپنے واپسی کے ٹکٹ منسوخ کر دیے۔‘
اسی دن، سپائس جیٹ کی پروازوں میں دو دیگر خرابیوں کی اطلاعات ملیں، ایک معاملے میں طیارے کی ونڈ شیلڈ (سکرین) پھٹ گئی، لیکن وہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور دوسری پرواز کو ہوائی جہاز کے موسمی ریڈار میں خرابی کے بعد واپس مڑنا پڑا۔
ان واقعات نے ایئر لائن پر انحصار کے حوالے خدشات پیدا کر دیے ہیں اور انڈیا کے ہوا بازی کے نگراں ادارے کو اس کی ’خراب اندرونی حفاظت کی نگرانی اور دیکھ بھال کے ناکافی اقدامات‘ کے بارے میں سخت نوٹس جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فضائی کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ حفاظت کے لیے پُرعزم ہے اور اسی طرح کے واقعات تمام ملکی ایئر لائنز کے ساتھ ہوتے رہے ہیں۔ ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے تمام طیاروں کا صرف ایک ماہ قبل آڈٹ کیا گیا تھا اور وہ بالکل محفوظ پائے گئے تھے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا کی سرفہرست پانچ ملکی فضائی کمپنیوں میں سے ایک، سپائس جیٹ حالیہ مہینوں میں دیگر ایئر لائنز کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں خرابیوں اور تعطل کا شکار ہوئی۔ 20 جون اور 8 جولائی کے درمیان، ایئر لائن نے تکنیکی خرابی کے کم از کم آٹھ واقعات کی اطلاع دی ہے۔
ضابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے مواقع پر ہوائی جہاز ’یا تو ان ایئرپورٹس کی طرف واپس چلے گئے جہاں سے انھوں نے پروازیں بھری تھیں یا پھر حفاظتی مارجن کے ساتھ منزل پر اُترتے رہے۔‘
18 جولائی کو، دہلی ہائی کورٹ نے ایک وکیل کی جانب سے حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایئر لائن کی خدمات کو روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ ججوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
پھر بھی، بڑھتے ہوئے مالی بحران سمیت تمام مسائل کے باوجود سپائس جیٹ چلتے رہنے میں کامیاب رہی، زیادہ تر اس کی کم لاگت کی وجہ سے اور ایسا لگتا تھا کہ یہ مشکلات بھی مسائل سے دوچار ایئر لائن کی شبیہ کو مسخ نہیں کر پائیں گی۔
5 جولائی کو ہونے والے واقعے کے بعد کمپنی کے حصص 7 فیصد گر کر ایک سال کی کم ترین سطح پر آ گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خوفزدہ مسافر ہوائی جہاز پر سفر کو تیار نہیں ہیں اور کچھ نے اپنے سفری منصوبے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ بہت سے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’کچھ بدتر ہونے‘ سے پہلے ایئر لائن کو گراؤنڈ کر دیا جائے ، جب کہ دوسرے دوستوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ وہ کم لاگت والی ایئر لائن کی بکنگ کے لیے ’لالچ سے بچیں۔‘
تاہم سپائس جیٹ اس بات پر قائم ہے کہ ایئر لائن فعال طور پر تمام شکایات سے نمٹتی ہے اور اس کے صارفین اس سے مطمئن ہیں۔
اس واقعے نے انڈیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی صنعت کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ارون کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ریگولیٹری ادارہ ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ پرواز کی حفاظت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔‘
’دنیا بھر میں ہر ایئرلائن میں مینٹینس کے مسائل ہیں، جو بات سپائس جیٹ کے بارے میں پریشان کن وہ یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات بار بار ہو رہے ہیں۔ ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایکشن پلان پر بات کرنے کے لیے ایئر لائن کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ ریگولیٹر نے ایئر کیریئر کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔‘
لیکن ہوابازی کے ماہرین اس بات پر قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں حالیہ برسوں میں چند بڑے حادثے ہوئے ہیں، لیکن حفاظت اور دیکھ بھال سے متعلق مسائل اب زیادہ ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPress Trust of India
ہوا بازی کے ماہر موہن رنگناتھن پوچھتے ہیں۔ ’اگر ڈی جی سی اے کہتے ہیں کہ مسافروں کی حفاظت سب سے اہم ہے، تو سب سے پہلے انھیں ایئر لائن کو گراؤنڈ کرنا چاہیے، انھوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟‘
ریگولیٹر رنگناتھن نے الزام لگایا کہ سپائس جیٹ کو ڈھیل دی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’نوٹس میں جس آڈٹ کا حوالہ دیا گیا ہے وہ چھ ماہ پہلے ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈی جی سی اے کو معلوم تھا کہ سپائس جیٹ کم حفاظتی مارجن کے تحت کام کر رہا ہے اور اسے مینٹیننس کے مسائل کا سامنا ہے۔ تو وہ ایئر لائن کو مزید وقت کیوں دے رہے ہیں؟‘
سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ارون کمار نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بغیر کسی مناسب عمل کے راتوں رات پروازوں کو گراؤنڈ نہیں کر سکتے‘ اور یہ کہ صورتحال ’اتنی خطرناک یا زمین ہلانے والی نہیں۔‘
’سب سے آسان آپشن یہ ہے کہ سب کچھ بند کر دیا جائے لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے، کیا ہم کر سکتے ہیں؟‘
سپائس جیٹ کو اس کے شریک بانی اجے سنگھ سنہ 2014 میں دیوالیہ پن کے دہانے سے واپس لائے تھے لیکن شاندار چند سالوں کے بعد 2017 میں ایک ممتاز روزنامے نے اس کی ترقی کو ’پریوں کی کہانی‘ قرار دیا کہ اس ایئر کیریئر کو نقد رقم کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
وبا کے دوران اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور عملے کی تنخواہوں اور دیگر بلوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اس کے آڈیٹر نے کمپنی کے مستقبل کو ’غیر یقینی‘ قرار دیا۔
رنگناتھن کا دعویٰ ہے کہ بقا کی جدوجہد نے اس کے حفاظتی عمل کو مزید کھوکھلا کر دیا ہے۔
’جب ایئر لائنز پر نقد رقم کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو وہ اکثر ایک طیارے سے اچھا پرزہ لیتے ہیں اور اخراجات کم کرنے کے لیے اسے دوسرے میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات، وہ پائلٹوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ چھیڑ چھاڑ کی اطلاع نہ دیں۔‘
اپنے نوٹس میں، ڈی جی سی اے نے کہا کہ ستمبر میں سپائس جیٹ کی مالیاتی جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ سروس فراہم کرنے والوں کو دیر سے ادائیگی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اسے پرزوں کی کمی کا سامنا ہے۔
سپائس جیٹ کے ترجمان نے ان الزامات کو ’قطعی غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ ایئرلائن حفاظت اور فضائی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی ہے۔
ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آپریشنز کے لیے درکار تمام سپیئر پارٹس کا انتظام ہماری تھرڈ پارٹی سروس پرووائیڈرز (آڈٹ اور منظور شدہ) کے ذریعے معمول کی بنیاد پر، ہمارے مختلف معاہدوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ اور تمام کلیدی محکموں کو مناسب طریقے سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اور تمام شراکت داروں اور دکانداروں کو باہمی اتفاق کردہ ٹائم لائنز کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔‘
ایئر لائن نے مزید کہا کہ ’ایک بھی پائلٹ کو دھمکایا یا ڈرایا نہیں گیا تھا‘ اور یہ کہ اس کے ملازمین ’اندرونی طور پر اس طرح کے مسائل کی بہت فعال رپورٹنگ‘ کرتے رہے ہیں۔
جب کہ سپائس جیٹ خبروں میں ہے، یہ ان کئی انڈین ایئر لائنز میں سے ایک ہے جنھیں حال ہی میں سنگین حفاظتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صرف پچھلے دو دنوں میں، دو دیگر ایئر لائنز نے حفاظتی خرابیوں کو رپورٹ کیا ہے۔
رنگناتھن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی صحیح طریقے سے تحقیقات کرنے کی ذمہ داری ڈی جی سی اے پر ہے، لیکن ارون کمار کہتے ہیں کہ ’ہر واقعے پر کارروائی بنتی‘ اور یہ کہ نگراں اداہ ’تمام ضروری اقدامات کر رہا تھا‘۔
شوبھی شرما جیسے مسافر کہتے ہیں کہ ایئر لائن کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
’ہمیں صرف احساس تحفظ چاہیے۔‘












