انڈین مسافر طیارے کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ: ’امید ہے مسافروں کی انڈین ٹیم جیسی مہمان نوازی ہوئی ہو گی‘

سپائس

،تصویر کا ذریعہCourtesy ANI

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

انڈیا اور پاکستان کے درمیان دوریاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ اب فاصلے کم ہونے کی امید رکھنے والے بھی کچھ زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

ایسے میں دونوں ملکوں کی عوام محبتیں ڈھونڈنے کے لیے کبھی کوک سٹوڈیو کے گانے کا سہارا لیتے ہیں یا پھر پاکستان میں کسی انڈین طیارے کی لینڈنگ کا۔۔۔ جی ہاں! صحیح پڑھا آپ نے۔

گذشتہ روز پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوئی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے والا انڈین طیارہ تو دلی روانہ ہو گیا لیکن سوشل میڈیا پر تبصرے جاری ہیں۔

اس سے قبل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ’سپائیس جیٹ‘ کمپنی کا ایک متبادل طیارہ شام کو ممبئی سے کراچی پہنچا تھا جو مسافروں کو لے کر دبئی روانہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں 132 مسافر اور 12 عملے کے لوگ شامل تھے۔

ترجمان کے مطابق ’انڈین مسافر طیارہ انجن خرابی کے باعث اجازت ملنے پر منگل کی صبح جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تھا، جس کے بعد طیارے میں موجود مسافروں کو کھانے پینے کی اشیا پہنچا دی گئی تھیں۔ شام کو پانچ بجے کے بعد ممبئی سے مسافروں کو دبئی لے جانے ایک اور طیارہ کراچی پہنچا۔‘

دوسری جانب انڈین سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر نے انڈین میڈیا کو بتایا ہے کہ ’منگل کو سپائس جیٹ کی دہلی-دبئی پرواز کو کراچی کی طرف موڑ دیا گیا کیونکہ ایندھن کے اشارے میں خرابی شروع ہوگئی تھی۔‘

انڈین سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق ’بوئنگ 737 میکس طیارہ جو دہلی سے دبئی کی طرف جا رہا تھا اس نے اپنے بائیں ٹینک سے غیر معمولی ایندھن کی مقدار میں کمی کے باعث، اس طیارے کا رخ کراچی کی طرف موڑنا پڑا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

دوسری جانب سپائس جیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پانچ جولائی کو، SpiceJet B737 ہوائی کو انڈیکیٹر لائٹ کی خرابی کی وجہ سے کراچی کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ طیارہ بحفاظت کراچی پہنچ گیا اور مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔‘

یاد رہے کہ فروری 2019 میں انڈیا کی بالاکوٹ میں مبینہ ’سرجیکل سٹرائیک‘ کے بعد پاکستان نے انڈین طیاروں کے لیے اپنی ایئر سپیس بند کردی تھی اور پانچ ماہ کی بندش کے بعد اسے دوبارہ کھولا گیا تھا۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AnandNambyar

دہلی اور ممبئی سے خلیجی ممالک کی طرف جانے والے انڈین طیارے اس سے قبل بھی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ کرتے رہے ہیں۔

سپائس جیٹ کی جانب سے کی گئی سلسلہ وار ٹویٹس کے بعد اکثر انڈین صارفین کمپنی کے معیار کے حوالے سے سوال اٹھاتے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ پریشان کر دینے والی بات ہے۔ گذشتہ 15 روز میں یہ تیسرا واقعہ ہے، میں نے 12 جولائی کو کمپنی کے ایک طیارے میں سفر کرنا ہے اور مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@s_shiva21

ایئر لائن کی جانب سے ایسے کئی صارفین کو تحفظ کی یقین دہانی کروائی گئی۔

پاکستانی صارف امان اللہ نے لکھا کہ ’یہ مسافر نہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے مہمان ہیں تاکہ ہم ان کی مہمان نوازی کر سکیں۔‘

شیو نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’جب انڈین کرکٹ ٹیم نے 2005 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تو انھیں عمدہ مہمان نوازی اور غیر متوقع محبت ملی تھی۔ امید ہے مسافروں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا ہو گا۔‘