بی کے سینگال: جنھیں انڈیا میں پہلی بار انٹرنیٹ لانے پر ملک میں فحاشی پھیلانے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا

انڈیا
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

انڈیا میں انٹرنیٹ کے ابتدائی دور میں، برصغیر میں پہلے آن لائن رابطے قائم کرنے کے ذمہ دار شخص کو ملک کے وزرا اور بیورکریٹس کی سخت فون کالز کا سامنا تھا۔ بریجندرا کے سینگال نے اس بارے میں یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ سب انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب فحش مواد کے متعلق شکایات کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ'وہ سوال کر رہے تھے کہ 'یہ اشلیلیتا (ہندی زبان میں فحاشی) کیا ہے جسے تم ملک میں لے آئے ہو؟

بریجندرا نے اپنے سخت ناقدین کو برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'سر میرا کام رابطہ (انٹرنیٹ کنکشن) مہیا کرنا ہے۔ یہ میری ذمہ داری نہیں کہ کوئی شخص اس کنکشن کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر دو یا تین فیصد لوگ اسے فحش مواد دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، مجھے دلچسپی اس 97 فیصد آبادی کی خدمت کرنے میں ہے جو اس کے ذریعے عالمی علم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔'

سینگال جن کی 82 برس کی عمر میں حالیہ ہفتے میں موت ہوئی ہے کو 'انڈیا میں انٹرنیٹ کا باپ' کہا جاتا تھا۔

ایک سابقہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی وی ایس این ایل کے سربراہ کے طور پر سینگال نے 15 اگست 1995 کو انڈیا کے پانچ شہروں دہلی، بمبئی، کولکتہ (اس وقت کلکتہ، چینائی (اس وقت مدراس) اور پونے میں انٹرنیٹ سروس متعارف کروائی تھی۔

ملک کے اخبارات نے بڑے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'دوسرا یوم آزادی' قرار دیا تھا۔ اس وقت انڈیا ایشیا میں جاپان اور سنگاپور کے بعد کمرشل سطح پر انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے والا تیسرا ملک تھا۔

سینگال نے بعد میں یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ خوشی کا یہ احساس جلد ہی ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا تھا۔

موڈیم کا استعمال کرتے ہوئے ڈائل اپ تک رسائی، اور خراب کنیکٹیویٹی کا مطلب تھا تاخیر سے کنکشن، مصروف سگنلز، ڈراپ کالز کے باعث 'ہر تین منٹ پر' رابطہ منقطع ہونا۔

اور وہ لوگ جو ان منتخب کردہ پانچ شہروں کے باہر سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے انھیں 35 روپے فی منٹ کے حساب سے مہنگی فون کال کرنا پڑتی تھی۔

انٹرنیٹ استعمال کرنے کی قیمت بہت ہوشربا تھی اور نجی صارفین کو انٹرنیٹ اکاؤنٹ کے لیے 15 ہزار روپے جمع کروانا پڑتے تھے جبکہ کاروباری اداروں اور کمپنیوں کے لیے یہ قیمت 25 ہزار روپے تھی۔ جبکہ صرف ٹیکسٹ پڑھنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرنیٹ اکاؤنٹ کے لیے پانچ ہزار روپے خرچ کرنا پڑتے تھے۔

سینگال نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صاف بات ہے انٹرنیٹ کی قیمت بہت زیادہ تھی اور سروس کا معیار بہت خراب۔‘

انھوں نے سوچا کہ کیا انڈیا میں ایک ایسے وقت میں انٹرنیٹ متعارف کروانا اچھا خیال تھا ’جب ہم اس بارے میں اتنے ناتجربہ کار اور کم لیس تھے۔‘

اپنے بہت سے مضبوط ہم منصبوں کے برعکس انھوں نے جو اگلا قدم اٹھایا وہ اس سے بھی زیادہ دلیرانہ تھا۔ انھوں نے میڈیا کو بلایا اور تسلیم کر لیا کہ ’میں نے غلطی کی، میں نے بہت بڑی غلطی کی۔‘

انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ان کے مارکیٹ کے بارے میں جانکاری غلط تھی اور اس وجہ سے انٹرنیٹ سروس کو مارکیٹ میں شدید تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بچگانہ اور شوقیہ منصوبہ تھا۔‘ سینگال نے انڈین شہریوں سے کہا کہ وہ انھیں انٹرنیٹ سروس سے متعلق چیزیں ٹھیک کرنے کے لیے دس ہفتوں کی مہلت دیں۔

انڈیا

انھوں نے کہا تھا کہ 'میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ دس ہفتوں کے بعد یا شاید اس سے کچھ قبل آپ کے پاس ایک ایسی سروس یا نظام ہو گا جس پر انڈیا کو فخر ہو گا۔‘

پھر سینگال اور ان کی ٹیم نے انٹرنیٹ سروسز کا ایک بینک قائم کیا، محکمہ ٹیلیفون سے اپنے رابطے کے معیار کو بہتر کرنے کا کہا، موڈیم بنانے والی کمپنیوں پر بھی بہتر کوالٹی کے موڈیم بنانے پر زور دیا۔ انٹرنیٹ کنیکشن کے لیے تانبے کی تاروں کی بجائے فائبر کیبل کا استعمال کیا اور انٹرنیٹ سروس کی قیمت کو آدھا اور اس سے زیادہ کم کر دیا گیا۔

انھیں اس دوران یہ علم ہوا کہ ان کی سرکاری کمپنی مارکیٹنگ میں کمزور ہے، لہذا انھوں نے نجی کمپنیوں کو انٹرنیٹ سروسز فروخت کرنے کے لیے شامل کیا۔ اور اب صارفین اپنا غیر استعمال شدہ ڈیٹا آگے منقتل کر سکتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ انڈیا کو انٹرنیٹ کے نئے نظام کو چلانے اور اسے مستحکم کرنے میں تقریباً آٹھ ہفتے لگے۔ انھوں نے سروس کو مزید مضبوط، صارف دوست اور مقبول بنانے کے لیے برٹش ٹیلی کام اور اے ٹی اینڈ ٹی، اور یہاں تک کہ انڈیا میں انٹرنیٹ کے شوقین افراد کے ایک ابتدائی گروپ سے آئیڈیاز لیے جس میں بالی وڈ اداکار شمی کپور بھی شامل تھے۔

اداکار شمی کپور ان چند مٹھی بھر انڈین شہریوں میں شامل تھے جو 1994 سے، اس سال ایپل کے ذریعہ شروع کردہ تحفے میں بیٹا آن لائن سروس اکاؤنٹ پر انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے۔

سنہ 1997 میں، انڈیا کے انٹرنیٹ صارفین کی برادری کے ایک رکن وکے مکھی نے انٹرنیٹ کی آمد کے بارے میں اس وقت کہا تھا کہ 'ہم چند سال پہلے تک عالمی منظر نامے میں کہیں نہیں تھے۔ اب عالمی سافٹ ویئر کمپنیاں مجھے پیغامات بھیجتی ہیں کہ کیا آپ ہمارے ساتھ کام کر سکتے ہیں؟

انورادھا مالپانی، جو انڈیا کے معروف فرٹیلٹی کلینکس میں سے ایک چلاتی ہیں نے پیش گوئی کی تھی کہ ’انٹرنیٹ کے بغیر انڈین ڈاکٹرز کا طریقہ علاج فرسودہ ہو جائے گا۔'

اپنی یادداشتوں میں، سینگال نے انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں کے بارے میں شوق سے بیان کیا۔

انھوں نے کہا کہ شروع میں بنگلور سے ایک شخص انھیں ہر مرتبہ انٹرنیٹ کنکشن ٹوٹنے پر رابطہ کرتا اور یہ کہتا کہ 'اس کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔' بعد میں انھیں پتا چلا کہ اس صارف کو فرانس کی ایک کمپنی نے ترجمے کا کام سونپا ہے۔'

انٹرنیٹ

وی ایس این ایل کے ساتھ سینگال کے سات سالہ دور میں ان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات نے ملک میں سوفٹ ویئر انقلاب کی بنیاد بھی رکھنے میں مدد کی۔ انھوں نے اس صنعت سے جڑے افراد کو بلایا جنھوں نے فوراً انھیں تیز تر سپیڈ والی سستی سروس کا مطالبہ کیا۔

ڈیٹا کی منتقلی اس وقت تک ملک میں بہت سست تھی اور ان کی آمدن کا دس فیصد حصہ اس پر خرچ ہو رہا تھا۔ سینگال نے یقین دلایا کہ وی ایس این ایل عالمی ٹیلی کام پروائڈرز کے ساتھ مل کر ملک میں اگلے چھ ماہ میں ہائی سپیڈ لنک لے آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب پر لکھی جانے والی نئی کتاب 'دی مایورک ایفیکٹ' میں انڈیا کے ٹیکنالوجی کے بانیوں میں سے ایک ہرش مہتا کا کہنا ہے کہ 'سینگال نے ملک کی اس صنعت کے لیے ہر سال کے بعد ایک نیا ڈیٹا لنک فراہم کر کے 'شاندار کام' کیا۔

پھر بھی انڈیا کو انٹرنیٹ کو پاور کرنے کے لیے زیر سمندر کیبل کنکشن تک رسائی کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے انڈیا کو سو ملین ڈالر سے زائد رقم درکار تھی تاکہ وہ زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل حاصل کر سکے۔ ایسے میں سینگال کو بتایا گیا کہ یہ پیسہ ملنا ممکن ہی نہیں ہیں کیونکہ ملک کے باس محص چند ہفتوں کا زرمبادلہ موجود ہے۔

لہذا وہ زیر سمنر انٹرنیٹ کیبل کے کنسورشیم کے پاس گئے اور انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ یہ رقم موخر ادائیگی پر کریں گے اور اس کے لیے انھوں نے فورکس قرضہ حاصل کر لیا۔ یہ معاہدہ سنہ 1991 میں ہوا اور انڈیا کی کنیکٹویٹی اس کے تین برس بعد شروع ہوئی تھی۔

سینگال ایک ہیرو بن گئے تھے۔ سنہ 2000 میں، چھٹی کے دن، راجستھان میں ایک بڑی دستکاری کی دکان کے مالک نے انھیں پہچان لیا اور پوچھا کہ ’کیا آپ سینگال ہیں جنھوں نے انڈیا کو انٹرنیٹ دیا؟ اس نے میری زندگی بدل دی۔‘

ایک سرکاری ملازم اور گھریلو ماں کے بیٹے سینگال، جو برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں انڈیا نقل مکانی کر کے آئے تھے۔ انھوں نے ملک کے سب سے بڑے انجینئرنگ سکول انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے انجیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔

انٹرنیٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

ان کے دور میں الیکٹرونک انجینیرز جنگلوں، صحراؤں اور پہاڑوں پر مائیکرو ویو ٹاور لگانے اور تاریں بچھانے کے لیے ٹینٹوں میں رہتے تھے۔ وہ بہت مسابقتی تھے اور ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے مقابلہ پسند ہے لیکن مجھے مقابلے میں ہرانا اس سے بھی زیادہ پسند ہے۔‘

ملک میں انٹرنیٹ کے آنے کے 27 برس بعد آج انڈیا میں 80 کروڑ سے زیادہ موبائل براڈ بینڈ کے صارفین موجود ہیں اور اس دنیا کی دوسری تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجٹیل معیشت قرار دیا جاتا ہے۔ انڈیا دنیا میں سافٹ ویئر کا بھی پاور ہاؤس ہے اور اس مد میں اس کی برآمدات کا حجم 130 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس کا سہرا 'انڈیا میں انٹرنیٹ کے باپ' کو جاتا ہے۔