اوابائی واڈیا: انڈیا میں خاندانی منصوبہ بندی کی پیش رو خاتون جنھوں نے معاشرے کے ساتھ امریکی دباؤ کا بھی مقابلہ کیا

    • مصنف, پریناز مدن اور دنیار پٹیل
    • عہدہ, ممبئی

یہ سنہ 1933 کی بات ہے جب ساڑھی میں ملبوس ایک نوجوان خاتون نے بین الاقوامی سطح پر سرخیوں میں جگہ بنائی۔

19 سالہ اوابائی واڈیا برطانیہ میں بار یعنی وکالت کا امتحان پاس کرنے والی سیلون (اب سری لنکا) کی پہلی خاتون بنی تھیں۔ ان کی کامیابی سے سیلون کی حکومت کو ملک میں خواتین کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے کی ترغیب ملی۔

یہ واحد موقع نہیں تھا جب واڈیا نے خواتین کے حقوق کے متعلق حکومتی پالیسیوں کو مہمیز لگائی۔ سنہ 2005 میں جب ان کی موت ہوئی، وہ خاندانی منصوبہ بندی کی تحریک میں عالمی سطح پر ایک قابل احترام شخصیت بن چکی تھیں۔

ان میں وکالت کی فراست کے ساتھ سماجی سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود کی لگن تھی۔

واڈیا سنہ 1913 میں کولمبو کے ایک ترقی پسند پارسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وکیل کی حیثیت سے کوالیفائی کرنے کے بعد انھوں نے لندن اور کولمبو دونوں جگہوں میں ہر جگہ 'مردانہ تعصب' کے باوجود کام کیا۔

وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران بمبئی (موجودہ ممبئی) منتقل ہو گئیں اور سماجی کاموں میں خود کو غرق کر دیا، لیکن خاندانی منصوبہ بندی ان کا اصل میدان ٹھہرا جیسے یہ ان کے دل کی آواز ہو۔

انھوں نے اپنی سوانح عمری 'لائٹ از آورز' یعنی روشنی ہماری ہے میں لکھا: 'ایسا لگتا ہے کہ میری زندگی کا کام شعوری طور پر تلاش کرنے کے بجائے خود مجھ تک آیا۔ میرے خیال سے قانونی کیریئر کو جاری رکھنا میرے لیے بیکار نہیں تھا کیونکہ میں نے جو کچھ کیا اسے قانون نے ایک مضبوط تحفظ فراہم کیا۔'

سنہ 1940 کی دہائی کے آخر میں جب انھوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں کام کرنا شروع کیا تو یہ دنیا بھر میں ایک شجر ممنوعہ تھا۔

واڈیا نے لکھا کہ 'پہلی بار جب میں نے 'برتھ کنٹرول' کے الفاظ سنے تو میں بغاوت کر گئی۔ لیکن جب وہ بمبئی آئیں تو وہ ایک خاتون ڈاکٹر سے بہت متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق خاتون ڈاکٹر نے ان سے کہا کہ ہندوستانی خواتین 'حمل اور دودھ پلانے کے درمیان اس وقت تک گھومتی رہتی ہیں جب تک کہ موت ان کی افسوسناک کہانی کو ختم نہیں کر دیتی۔'

سماجی بائیکاٹ کے خطرے کے باوجود واڈیا اس مقصد کے حصول کے لیے میدان عمل میں کود پڑیں۔

انھوں نے سنہ 1949 میں فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف انڈیا (ایف پی اے آئی) کے قیام میں مدد کی۔ یہ ایک ایسی تنظیم تھی جس کی وہ 34 سال تک سربراہ رہیں۔

ایف پی اے آئی کا کام مانع حمل کے طریقوں کو فروغ دینے سے لے کر زرخیزی کی خدمات فراہم کرنے تک تھا۔ آخرالذکر نے واڈیا کو 'اطمینان کا حقیقی احساس' دلایا کیونکہ وہ اسقاط حمل کا شکار ہو چکی تھیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ واڈیا کی کوششوں کی وجہ سے ہی حکومت ہند سنہ 1951-52 میں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیوں کو باضابطہ طور پر فروغ دینے والی دنیا کی پہلی حکومت بن گئی۔

واڈیا کے تحت ایف پی اے آئی نے انڈیا کے کچھ غریب ترین دیہی علاقوں کے شہری غریبوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک غیر مرکوز کمیونٹی پر مبنی طریقہ عمل اپنایا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ایف پی اے آئی بسا اوقات 'خاندانی منصوبہ بندی کے علاوہ بھی بہت کچھ کر رہا تھا۔ اس نے پیڑ پودے لگانے سے لے کر سڑکوں کی تعمیر تک کے منصوبوں پر کام کیے۔

خاندانی منصوبہ بندی کو تعلیم، ہنر مندی اور صحت کے مجموعی ایجنڈے سے جوڑتے ہوئے واڈیا اور ان کی ٹیم نے لوگوں سے رابطے کی تخلیقی تکنیکوں کو استعمال کیا۔ مثال کے طور پر سماجی سطح پر پیغام رسانی کے لیے انھون بھجن اور گیتوں میں اپنے پیغامات پرو دیے اور خاندانی منصوبہ بندی کی ایسی نمائش کا اہتمام کیا جو ٹرین کے ذریعے پورے ملک میں چلائی گئی۔

ایف پی اے آئی کے کام کرنے کے جدید انداز نے عوام کا اعتماد بڑھایا اور ترقی کے اشاریوں میں نمایاں بہتری کا باعث بنی۔

مثال کے طور پر سنہ 1970 کی دہائی میں کرناٹک کے مالور میں ایک پراجیکٹ شروع ہوا جس کے نتیجے میں بچوں کی اموات میں کمی آئی، شادی کی اوسط عمر میں نمایاں اضافہ ہوا، اور خواندگی کی شرح دگنی ہوئی۔ اس پروجیکٹ نے اس قدر مقبولیت حاصل کی کہ ایف پی اے آئی کے وہان سے چلے جانے کے بعد گاؤں والوں نے اس کا انتظام سنبھال لیا۔

شاید اپنی بین الاقوامی پرورش کی وجہ سے واڈیا نے انڈین خاندانی منصوبہ بندی میں عالمی تناظر شامل کیا۔

جنوبی کوریا کے ماؤں کے کلبوں کی کامیابی سے متاثر ہو کر، جس نے دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی وسیع پیمانے پر مقبول کیا تھا، انھوں ایسے چھوٹے چھوٹے ہم آہنگ گروپس بنائے جہاں خواتین جہیز سے لے کر سیاست میں خواتین کی کم نمائندگی تک جیسے سماجی مسائل پر بات کر سکتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ انٹرنیشنل پلانڈ پیرنٹ ہڈ فیڈریشن (آئی پی پی ایف) میں ایک سرکردہ شخصیت بن گئیں اور انھوں نے انڈیا میں آبادی کو قابو میں رکھنے کے چیلنجز کو نمایاں کیا جو دن بدن غبارے کی طرح پھولتی جا رہی تھی۔

سیاست نے ان چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 1975 سے 1977 تک نافذ رہنے والی ایمرجنسی کے دوران حکومت ہند نے آبادی پر قابو پانے کے سخت اقدامات بشمول جبری نس بندی کو اپنایا۔ واڈیا نے اس کی مذمت کی اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں میں جبر کے خلاف متنبہ کیا اور کہا کہ اس میں شرکت کو سختی کے ساتھ رضاکارانہ ہونا چاہیے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے اچھے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے تھے لیکن انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی نے 'پورے پروگرام کو بدنام کر دیا۔'

1980 کی دہائی کے اوائل میں واڈیا کو آئی پی پی ایف کے صدر کے طور پر ایک اور زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے امریکی صدر رونالڈ ریگن کی انتظامیہ سے ٹکر لے لی کیونکہ ان کی حکومت نے اسقاط حمل کی خدمات فراہم کرنے یا اس کی توثیق کرنے والی کسی بھی تنظیم کے فنڈ کو ختم کردیا۔

اگرچہ آئی پی پی ایف نے سرکاری طور پر اسقاط حمل کو فروغ نہیں دیا، لیکن اس کے کچھ ملحقہ اداروں نے ان ممالک میں اسقاط حمل کی خدمات فراہم کیں جہاں یہ قانونی تھا۔

آئی پی پی ایف نے امریکی دباؤ کے تحت اس میں تبدیل کرنے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کے پروگراموں کے لیے کی جانے والے فنڈنگ میں اسے تقریبا پونے دو کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔

واڈیا نے ریگن کے اس تصور کا مذاق اڑایا کہ آزاد منڈی کی معاشیات آبادی میں اضافے کا مقابلہ کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی جو اس پر یقین رکھتا ہے وہ 'کسی بھی ترقی پذیر ملک میں کبھی بھی نہیں رہا ہے، مطلق غریبوں بہت زیادہ ہیں، اور آپ اسے صرف لیسیز فیئر (عدم مداخلت کے اصول) پر نہیں چھوڑ سکتے۔'

بہت سے معنوں میں واڈیا کا کریئر خاندانی منصوبہ بندی میں عصری پریشانیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

امریکہ میں قدامت پسندوں نے استدلال کیا ہے کہ 'رو بمقابلہ ویڈ' مقدمے میں اسقاط حمل کے حقوق کو تبدیل کرنے کے بعد اب مانع حمل تک رسائی کے احکام پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہیے۔

واڈیا انڈیا میں اپنے اسقاط حمل کے قانون کا تصور دینے میں شامل تھیں۔ وہ اس بات سے پریشان تھیں کہ اسقاط حمل کو پیدائش پر قابو پانے کے خلاف ایک بڑی تحریک میں ایک ہتھیار کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ 'جو لوگ اسقاط حمل اور خاندانی منصوبہ بندی کو ایک ہی چیز کہہ کر عوام کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ انسانی اور انفرادی حقوق کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

آج انڈیا میں خاندانوں کے سائز کو محدود کرنے کے لیے ملازمتوں میں بڑے خاندان کی حوصلہ شکنی اور زبردستی جیسے عناصر سیاسی مباحثے کا بڑا حصہ ہیں۔ واڈیا نے اس طرح کے طریقوں سے خبردار کیا تھا۔

سنہ 2000 میں جب انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر نے دو بچوں کے اصول کو نافذ کرنے کی کوشش میں کسی تیسرے پیدا ہونے والے بچے کو راشن کارڈ میں خوراک کی سہولت نہ دینے اور مفت پرائمری تعلیم سے محروم کرنے پر غور کیا گیا تو واڈیا نے کہا: 'ہم ان ترغیبات کی حمایت نہیں کر سکتے جو بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کرتی ہیں۔' انھوں نے مزید کہا: 'ویسے بھی عملی طور پر ہم نے پایا ہے کہ حوصلہ شکنی کام نہیں کرتی۔'

ان واقعات نے ثابت کیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کا در پردہ قانون اور سیاست سے تعلق ہے۔ اس لیے شاید یہ انڈیا کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے پاس خاندانی منصوبہ بندی کی تحریک کے اہم معماروں میں سے ایک اہم معمار خاتون وکیل موجود تھیں۔

سب سے بڑھ کر واڈیا کا کریئر اس بات کی جانب ایک یاد دہانی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کو مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

واڈیا کی موت سے چند سال قبل انڈیا میں سبز انقلاب کی قیادت کرنے والے سائنسداں ایم ایس سوامی ناتھن جنھون نے ملک کو غذائی تحفظ حاصل کرنے میں مدد کی انوھوں نے اس حقیقت کو خراج تحسین پیش کیا۔

انھوں نے کہا کہ 'کسی اور سے زیادہ واڈیا یہ جانتی تھیں کہ اگر ہماری آبادی کی پالیسیاں غلط سمت میں جاتی ہیں، تو کسی اور چیز کو درست ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔'

پریناز مدن ایک وکیل ہیں جبکہ دنیار پٹیل مورخ ہیں