سیکس ایجوکیشن: انڈیا میں خاندانی منصوبہ بندی کی کِٹس میں عضوِ تناسل کے ربڑ کے ماڈل شامل کرنے پر تنازع

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں مقامی ہیلتھ ورکرز کی فیملی پلاننگ کِٹس میں عضوِ تناسل کے ربڑ سے بنے ماڈل شامل کرنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

اپوزیشن ارکانِ اسمبلی نے کہا ہے کہ ربڑ کے ان ماڈلز سے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے والی خواتین ہیلتھ ورکرز شرمندہ ہوں گی۔

مگر کچھ ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے پہلے بھی بغیر کسی پریشانی کے خاندانی منصوبہ بندی پر بات کرنے کے لیے ان ماڈلز کا استعمال کیا ہے۔

یہ کٹس اکریڈیٹڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹس (آشا) کہلانے والی خواتین ورکرز کو دی گئی ہیں جو انڈیا کی بنیادی اور مقامی صحت کے پروگرام میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔

ان کی کئی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن میں گھر گھر جا کر لوگوں کو تولیدی صحت اور پیدائش میں وقفے کے ذرائع کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ مگر یہ معاملہ بہت حساس ہے کیونکہ انڈیا کے کئی حصوں میں سیکس سے متعلق موضوعات پر بات نہیں کی جاتی ہے۔

مہاراشٹر کے محکمہ عوامی صحت کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ارچنا پاٹل نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ عضوِ تناسل کے ماڈلز کی حامل 25 ہزار کِٹس ریاست بھر میں ہیلتھ ورکرز اور دیہی صحت مراکز میں تقسیم کی گئی ہیں۔

ان کے مطابق اس ماڈل کو حاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی کے دوسرے طریقوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے خاص کر کہ نئے شادہ شدہ جوڑوں کے لیے۔ ان کے مطابق اس ماڈل کی مدد سے ہیلتھ ورکرز کونڈم پہننے کے طریقے سمجھا سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف ایک ضلع بلڈھانہ سے منفی رائے سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی مراٹھی نے بلڈھانہ سے تعلق رکھنے والی سات کارکنوں سے سوال پوچھا کہ آیا اُنھیں عضوِ تناسل اور رحمِ مادر کے ربڑ کے ماڈلز ساتھ رکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے۔

ان میں سے دو نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دو نے کہا کہ اُن کے لیے یہ ماڈلز دیہی علاقوں میں دکھانا باعثِ شرم ہو گا کیونکہ وہاں پہلے ہی لوگ جنسی صحت کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں تاہم اُنھوں نے کہا کہ یہ اُن کا کام ہے۔

باقی تین نے کہا کہ اُنھیں ماڈلز کا استعمال کر کے لوگوں کو چیزیں سمجھانے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہو گی۔ تمام سات خواتین کی خواہش تھی کہ اُن کے نام پوشیدہ رکھے جائیں۔

ڈاکٹر پاٹل نے کہا کہ کسی کو بھی ان ماڈلز کے استعمال کے لیے مجبور نہیں کیا جا رہا۔

اُنھوں نے کہا ’اگر ہیلتھ ورکرز کو خود ہی اس معاملے پر کھل کر بات کرنے میں عجیب محسوس ہوگا تو ہمارا کام کیسے ہو گا؟‘

مگر کچھ سیاست دانوں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔

ان میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاستدان بھی شامل ہیں جو مہاراشٹر میں اپوزیشن جماعت ہے۔

بلڈھانہ سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی آکاش پھنڈکر نے حکومت سے یہ کِٹس واپس لینے اور ہیلتھ ورکرز سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست میں پارٹی کی نائب صدر چترا وگھ نے حکومت پر 'جنسی بے راہ روی' کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

مہاراشٹر میں حکومتی اتحاد کی رکن جماعت شیو سینا نے اب تک اس پر ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

پونے سے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ اُنھوں نے پہلے بھی خاندانی منصوبہ بندی پر بات کرنے کے لیے ان ماڈلز کا استعمال کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا 'ہم یہ کٹ لوگوں کو نہیں دیتے۔ ہم اس کا استعمال صرف لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی سمجھانے کے لیے کرتے ہیں۔ ہمیں دورانِ تربیت ان ماڈلز کے بارے میں بتایا گیا تھا۔'

ماہرِ جنسیات ڈاکٹر ساگر مندادا نے کہا کہ دیہی علاقوں میں کم شرحِ خواندگی کے باعث ان ماڈلز کا استعمال اہم ہے۔

اُنھوں نے کہا 'یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے غلط فہمیاں پھیلیں گی۔ اگر ہم کھلے انداز میں بات کریں تو لوگ مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ اگر جنسی مسائل پر بات نہیں ہو گی تو غلط فہمی وہاں سے پھیلے گی۔'