پاکستان کی بڑھتی آبادی اور مانع حمل ذرائع کا فقدان: ’مانع حمل کے طریقے اپنانا ابارشن سے بہتر ہے‘

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک کروڑ ایک لاکھ خواتین حاملہ ہوتی ہیں اور ان میں سے 38 لاکھ خواتین ایسی ہوتی ہیں جو درحققیت حاملہ ہونا ہی نہیں چاہتی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ اِن 38 لاکھ خواتین میں 69 فیصد خواتین اسقاطِ حمل کے ذریعے اپنا حمل ختم کروا دیتی ہیں۔ اسقاط حمل کے لیے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں وہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہوتے اور اس دوران کئی خواتین جان سے چلی جاتی ہیں۔

نا چاہتے ہوئے بھی حاملہ ہونے والی ان 38 لاکھ خواتین میں سے لگ بھگ دس فیصد خواتین کے حمل مختلف وجوہات کی بنا پر ضائع ہو جاتے ہیں۔ یوں باقی 20 فیصد کے ہاں جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ اُن کی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہوتے۔ یعنی ایسے بچوں کی پرورش کے لیے یا تو انھیں پیدا کرنے والے والدین کے پاس وسائل نہیں ہوتے یا خواتین کی صحت اس زچگی کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔

پاکستان میں آبادی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے کام کرنے والے عالمی ادارے ’پاپولیشن کونسل‘ کے ترتیب دیے گئے یہ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہر شادی شدہ جوڑے کے ہاں کم از کم ایک غیر ارادی بچہ پیدا ہوتا ہے۔

تولیدی عمر کو پہنچنے والی ایک عورت اوسطاً 3.6 بچوں کو جنم دیتی ہے۔ یہ شرح جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

پاپولیشن کونسل کے مطابق ہر سال پاکستان میں 52 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ آبادی میں اضافے کی اس شرح کے باعث صرف 30 برس بعد پاکستان کی آبادی لگ بھگ 350 ملین ہو جائے گی۔

تو کیا اُس وقت اتنے زیادہ لوگ پاکستان میں اپنے لیے خوراک، پانی، رہائش اور روزگار حاصل کر پائیں گے؟

پاپولیشن کونسل کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی آبادی حالیہ شرح یا دو فیصد کے حساب سے بھی بڑھتی رہے تو ’سنہ 2040 تک پاکستان کو ایک کروڑ نوے لاکھ مزید گھروں اور گیارہ کروڑ ستر لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہو گی۔‘

ملک میں مزید 85 ہزار پرائمری سکول تعمیر کرنے پڑیں گے۔ اتنی بڑی آبادی کو صرف پینے کا پانی فراہم کرنا ہی ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پاکستان اس وقت پانی کی قلت کا شکار تین سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان ایسے ممکنہ مسائل سے بڑی حد تک خود کو بچا سکتا ہے اگر وہ آبادی میں اضافے پر قابو پا لے۔ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی مانع حمل کے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان باآسانی آبادی پر قابو پا سکتا ہے؟ ماہرین اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے بڑھتی آبادی پر قابو پانا مشکل ہو گا۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ افراد جو مانع حمل کے محفوط اور جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔

پاکستان میں کتنے لوگ مانع حمل کے طریقے استعمال کرتے ہیں؟

پاپولیشن کونسل کی پراجیکٹ ڈائریکٹر سامیہ علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں مانع حمل کے جدید طریقے استعمال کرنے والوں کی شرح یعنی سی پی آر صرف 34 فیصد ہے۔ اور گذشتہ آٹھ سے دس برسوں میں اس میں صرف ایک فیصد کے لگ بھگ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں تولیدی عمر کی زیادہ تر خواتین مانع حمل کے طریقے استعمال نہیں کر رہیں۔ مگر کیا یہ خواتین ایسے طریقے استعمال کرنا ہی نہیں چاہتیں یا انھیں ان تک رسائی ہی نہیں ہے؟

سامیہ علی شاہ کے مطابق ’پاکستان میں تقریباً 70 لاکھ جوڑے ایسے ہیں جو مانع حمل کے جدید طریقے استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر پاتے۔‘ سامیہ علی شاہ کے مطابق یہ تقریباً تولیدی عمر کی خواتین کا تقریباً 17 فیصد ہے۔

’اگر ان خواتین ہی کو جدید مانع حمل کے طریقوں تک رسائی دے دی جائے تو پاکستان کا سی پی آر فوری طور پر 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔‘

تو سوال یہ ہے کہ ایسا ہو کیوں نہیں پایا اور اس کے حصول میں دقت کیا ہے۔

’ابارشن کی گولی کا غلط استعمال زیادہ ہو رہا ہے‘

ڈاکٹر رابعہ نتاش لاہور کے حمید لطیف ہسپتال کے ’لائف سینٹر‘ میں گذشتہ کئی برس سے گائناکالوجسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پاکستان میں مانع حمل کے طریقے استعمال کرنے کے بجائے حمل گرانے کے غیر محفوظ طریقے استعمال کرنے کا رجحان زیادہ نظر آتا ہے۔

’ابارشن یا حمل گرانے کی گولی میڈیکل سٹورز پر باآسانی دستیاب ہے۔ ہمارے ہاں اس کا غلط اور غیر ضروری استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے۔‘ ڈاکٹر رابعہ نتاش کے مطابق بہت سی خواتین ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر خود ہی انٹرنیٹ سے دیکھ کر یہ دوا استعمال کر لیتی ہیں۔

اس طرح کے ابارشن کے نتیجے میں ناصرف خاتون کی جان کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ اس سے خواتین کی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات بھی پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر رابعہ نتاش کے مطابق ان صورتوں میں جہاں اسقاطِ حمل کا یہ طریقہ استعمال نہیں کیا جا سکتا وہاں خواتین غیر ارادی حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے سے چھٹکارا پانے کے لیے عطائی ڈاکٹروں اور دائیوں کی مدد لے لیتی ہیں۔

'ہمارے پاس ایک ایسی خاتون بھی ایمرجنسی میں لائی گئیں جن کے اسقاط حمل کے دوران انٹریاں تک دائی نے کھینچ کر نکال دی تھیں۔ بہت کوشش کے بعد بھی ہم ان کی جان نہیں بچا پائے تھے۔‘

ڈاکٹر رابعہ نتاش سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین اور شادی شدہ جوڑوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ’مانع حمل کے طریقے اپنانا ابارشن یا اسقاطِ حمل سے بہتر ہے۔‘

خواتین کے پاس مانع حمل کے کون سے آپشنز موجود ہیں؟

ڈاکٹر رابعہ نتاش نے بتایا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مانع حمل کے تقریباً تمام جدید طریقے میسر ہیں جو انتہائی مؤثر اور محفوظ ہیں۔

یہ صرف شادی شدہ جوڑوں یا خواتین کی ضروریات پر منحصر ہے کہ وہ کس نوعیت کی خاندانی منصوبہ بندی چاہتے ہیں اور اس کے مطابق وہ طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

’ہمارے پاس ایسی گولیاں موجود ہیں جو پانی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں، اس کے علاوہ سرنج کے ذریعے دی جانی والی ادویات بھی ہیں۔‘ اس کے علاوہ ایسی ادویات بھی موجود ہیں جنہیں ’لانگ ایکٹنگ ریورسیبل‘ طریقہ کار بھی کہا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ان جوڑوں کے لیے موزوں ہے جو بچوں کے درمیان کچھ سال کا وقفہ چاہتے ہیں۔ ’اس کے لیے ایسے امپلانٹس موجود ہیں اور یہ تین سے پانچ سال تک مانع حمل کا انتہائی مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔‘

اس کے علاوہ ’انٹرا یوٹیرائن ڈیوائسز‘ یعنی رحم میں رکھے جانے والے آلے ہیں جن میں ’کاپر ٹی‘ اور ’مائیرینا‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر رابعہ کے مطابق خاص طور پر کاپر ٹی ایک ایسا آلہ ہے جو انتہائی سستہ اور مؤثر طریقہ ہے۔

پاکستان میں خواتین یہ طریقے کیوں نہیں اپنا رہیں؟

ڈاکٹر رابعہ نتاش کہتی ہیں کہ ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جو شادی شدہ جوڑے یا خواتین مانع حمل کے ان جدید طریقوں کو استعمال نہیں کرتیں یا کرنے سے ڈرتے ہیں ان میں ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

’مثال کے طور پر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ گولیاں کھانے سے یا انجیکشن لینے سے خواتین بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہیں، یہ تاثر سراسر غلط ہے۔‘ اس کے برعکس ابارشن کے غیر محفوظ طریقوں میں یہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر رابعہ کے مطابق مانع حمل کے جدید طریقے یعنی انٹرا یوٹرائن ڈیواسز کے ایک حوالے سے ایک غلط خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ رحم میں رکھے جانے والی کاپر ٹی اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہے یا اس سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

’یہ بھی بالکل غلط ہے۔ اگر کاپر ٹی مستند ڈاکٹر کے ذریعے رکھوائی جائے تو ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی جگہ چھوڑ دے اور اس کے حوالے سے یہ تاثر کہ یہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے، بالکل غلط ہے۔‘

ڈاکٹر رابعہ کے مطابق یہ طریقے پوری دنیا میں ان کے محفوظ ہونے کی مکمل تصدیق کے بعد ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

جو خواتین اپنانا چاہتی ہیں وہ مانع حمل کیوں نہیں کر رہیں؟

عفت لطیف گذشتہ کئی برس سے لاہور میں لیڈی ہیلتھ ورکر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی فرائض میں خواتین اور شادی شدہ جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے حوالے سے آگاہی اور ان کو اپنانے میں ان کی مدد کرنا شامل ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آج سے دس سے بارہ برس قبل خاص طور پر دیہی علاقوں کی خواتین کو خاندانی منصوبہ پر آمادہ کرنا بہت مشکل ثابت ہوتا تھا۔ تاہم گذشتہ کئی برس سے اس رجحان میں انھوں نے تبدیلی دیکھی ہے۔

’اب بہت سی ایسی خواتین ہیں جو مانع حمل کے طریقے اپنانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ابھی بچہ نہیں چاہیے کیونکہ ہمارے وسائل اتنے نہیں ہیں کہ ہم اس کی پرورش کر سکیں۔ ان کے خاوند بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘

عفت لطیف بتاتی ہیں کہ ’بہت سے ایسے شادی شدہ جوڑے ان سے مانع حمل کے طریقے حاصل کرتے تھے جن میں گولیاں اور کنڈوم وغیرہ شامل تھے۔ ان میں زیادہ تر وہ جوڑے شامل تھے جو یا تو خود میڈیکل سٹور سے کنڈوم یا گولیاں خریدنے میں شرم محسوس کرتے تھے۔ یا ان کی اتنی استطاعت نہیں تھی کہ وہ یہ طریقے خرید سکیں۔‘

لیڈی ہیلتھ ورکر عفت لطیف کے مطابق گذشتہ لگ بھگ دو برس سے انھیں حکومت کی طرف سے مانع حمل کے یہ آلات فراہم ہی نہیں کیے جا رہے تھے۔ اس لیے وہ ان خواتین تک نہیں پہنچ رہے تھے جو لیڈی ہیلتھ ورکرز پر انحصار کرتی تھیں۔

’وہ ہم سے ہی یہ طریقے حاصل کرتے تھے کیونکہ انھیں ہم پر اعتبار بھی تھا اور انھیں یہ گھر بیٹھے مفت مل جاتے تھے۔ لیکن ہمیں جب مل ہی نہیں رہے تو ہم ان کو کیسے پہنچائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کئی جوڑوں کو جانتی ہیں جن کے ہاں اس دوران غیر ارادی زچگیاں ہو چکی ہیں۔

’ان کی ساس نہیں چاہتی کہ ہم ان سے ملیں‘

لیڈی ہیلتھ ورکر عفت لطیف کے مطابق وہ خواتین جو خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے استعمال کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پاتیں، ان میں زیادہ تر پر سسرال یا خاوند کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے۔

’بہت سی خواتین ایسی ہیں جن کی ساس چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹے کا خاندان بڑا ہو یا کچھ کو زیادہ بیٹے چاہیے ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنی بہوؤں کو خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے اپنانے سے منع کرتی ہیں۔ ان کی ساس نہیں چاہتیں کہ ہم ان سے ملیں۔‘

اس کے باوجود لیڈی ہیلتھ ورکرز خواتین کا اعتماد حاصل کرتی ہیں اور ان سے مل کر انھیں فیملی پلاننگ کے فوائد سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔

تاہم عفت لطیف کے خیال میں پاکستان میں سی پی آر کے نہ بڑھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو دوسری کئی مہمات پر لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنے فرائض پوری طرح ادا کرنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔

پاکستان میں مانع حمل مصنوعات کی کمی کیوں ہے؟

پاکستان میں مانع حمل کے طریقوں کے استعمال کی شرح یعنی سی پی آر خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح 62 جبکہ ایران میں 74 فیصد سے زیادہ ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم کے سابق مشیر برائے صحت اور ہیلتھ سسٹمز کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مانع حمل آلات یا طریقوں کی دستیابی انتہائی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ 'گذشتہ دو سے تین برس میں پاکستان کے کم از کم پچاس فیصد اضلاع کے پبلک سیکٹر یا سرکاری سطح کی سہولیات میں مانع حمل کے آلات یا طریقے دستیاب ہی نہیں تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خواتین کو ان کی ضرورت تھی بھی تو وہ انھیں دستیاب نہیں تھے۔'

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اس عدم دستیابی کی وجہ یہ تھی کہ حکومتی سطح پر مانع حمل کے آلات کے حصول اور ان کی سپلائی کا نظام صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا۔ بروقت حصول اور سپلائی نہیں کی جاتی۔

مانع حمل کے زیادہ تر طریقے امپورٹ کیے جاتے ہیں

ان کے خیال میں ’اس میں اٹھارویں ترمیم کا بھی ایک بڑا عمل دخل ہے۔ سنہ 2010 کے بعد سی پی آر نہ بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صوبے اپنے طور پر اور وفاق اپنے طور پر اور وفاق اپنے طور پر خریداری کر رہے تھے جس میں ہم آہنگی نہیں تھی۔‘

اس فقدان کی دوسری وجہ ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق یہ بھی تھی کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے زیادہ تر مانع حمل کے آلات درآمد کیے جاتے تھے، مقامی سطح پر ان کی تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔

’پاکستان میں کنڈوم نہیں بنتے، یہاں آئی یو ڈیز نہیں بنتیں، کئی انجیکٹیبلز نہیں بنتے۔ صرف کچھ گولیاں ہیں اور چند ایک انجیکشنز ہیں جو پاکستان میں بنتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گذشتہ متواتر حکومتوں کی ترجیحات میں یہ مسئلہ شامل ہی نہیں رہا۔ حکومتوں کی اس جانب بھی رہنمائی نہیں کی گئی کہ انھیں مقامی سطح پر صحت کی کن بنیادی مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔

’اس لیے جو کاروباری شعبہ ہے اس کو اس ہی میں فائدہ نظر آتا ہے کہ کونٹراسیپٹوز کو باہر سے منگوایا جائے۔‘

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ چند برسوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے آگاہی دینے کی مہمات بھی سرکاری سرپرستی میں ہوتی نظر نہیں آئیں۔

ان کے خیال میں پاکستان میں پریکیورمنٹ اور سپلائی کے سسٹم میں بہت زیادہ بہتری لانے اور حکومت کو کونٹراسیپٹوز کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے پالیسی کو ریویو کرنے کی فوری ضرورت ہے۔