چین کی سکڑتی ہوئی آبادی کس کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شیو جیان پین
- عہدہ, دی کنورسیشن سے ماخوذ
دنیا کی سب سے بڑی قوم سکڑ رہی ہے یعنی اس کی تعداد کم ہونے کو ہے۔
چین دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے، پھر بھی چار غیر معمولی دہائیوں کے بعد جس میں ملک کی آبادی 66 کروڑ سے ایک ارب 40 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، اب ان کی آبادی رواں سال کم ہونے کے راستے پر گامزن ہے اور سنہ 1959-1961 کی قحط سالی کے بعد پہلی بار ایسا دیکھا جانے والا ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق چین کی آبادی سنہ 2021 میں 1.41212 ارب سے بڑھ کر صرف 1.41260 ارب تک پہنچی ہے یعنی سال بھر میں آبادی میں صرف 480,000 کا ریکارڈ کم اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ایک دہائی قبل ہر سال 80 لاکھ کی اوسط سے اضافہ ہو رہا تھا۔ ایسے میں اضافہ نسبتا معمولی ہے اور سالانہ ترقی کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
اگرچہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے کیے گئے سخت اقدامات کے پیش نظر بچے پیدا کرنے میں ہچکچاہٹ ولادت کی شرح میں سست روی کا سبب ہو سکتا ہے لیکن یہ کمی متواتر کئی برسوں سے محسوس کی جا رہی ہے۔
سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں چین کی شرح پیدائش (فی عورت پیدائش) 2.6 بچہ تھی جو کہ اموات کی جگہ لینے کے لیے درکار 2.1 فیصد سے کافی زیادہ تھی۔ یہ 1994 سے 1.6 اور 1.7 بچہ فی عورت کے درمیان ہے، اور سنہ 2020 میں یہ 1.3 جبکہ سنہ 2021 میں صرف 1.15 بچہ فی عورت پر آ گئی ہے۔
دوسرے ممالک سے مقابلے کے لحاظ سے، آسٹریلیا اور امریکہ میں شرح پیدائش 1.6 فی عورت ہے۔ جبکہ عمر رسیدہ لوگوں کی زیادہ تعداد والے ملک جاپان میں یہ 1.3 فی عورت ہے۔
یہ کمی اس صورت حال میں ہو رہی ہے جب چین نے سنہ 2016 میں اپنی ایک بچے کی پالیسی کو ترک کر دیا ہے اور تین بچوں والی پالیسی متعارف کرایا اور حکومت نے اس کے لیے ٹیکس اور دیگر مراعات سے حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔
اس بارے میں مختلف آرا ہیں کہ آخر چینی خواتین ریاستی مراعات کے باوجود بچے پیدا کرنے سے کیوں گریزاں ہیں۔ ایک توجیہ یہ ہے کہ ملک کو چھوٹے خاندانوں کی عادت پڑ گئی ہے۔ ایک ممکنہ وجہ گزر بسر کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، جب کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا تعلق شادی کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہوسکتا ہے، جس سے پیدائش میں تاخیر ہوتی ہے اور بچے پیدا کرنے کی خواہش کم ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSheldon Cooper/Getty Images
اس کے علاوہ چین میں بچے پیدا کرنے کی عمر والی خواتین توقعات سے کم ہیں۔ سنہ 1980 کے بعد سے صرف ایک بچہ پیدا کرنے تک محدود، بہت سے جوڑوں نے لڑکے کا انتخاب کیا جس کے نتیجے میں یہ شرح پیدائش کے وقت ہر 100 لڑکیوں پر 106 لڑکوں سے بڑھ کر 120 جبکہ بعض صوبوں میں 130 تک پہنچ گئی۔
چین کی کل آبادی گذشتہ سال 1,000 میں صرف 0.34 فیصد بڑھی جو کہ قحط سالی کے بعد سے سب سےکم رہی۔ شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کی ایک ٹیم کی طرف سے تیار کیے گئے تخمینوں کے مطابق رواں سال اس میں قحط کے بعد پہلی بار ہر ہزار میں 0.49 فیصد کی کمی آئی ہے۔
آبادی میں کمی کا یہ اہم موڑ توقع سے ایک دہائی پہلے آ گیا ہے۔
ابھی حال ہی میں یعنی سنہ 2019 میں چائنا اکیڈمی آف سوشل سائنسز نے توقع کی تھی کہ سنہ 2029 تک آبادی 1.44 ارب تک پہنچ جائے گی۔ اقوام متحدہ کی 2019 پاپولیشن پراسپیکٹس رپورٹ نے بعد میں سنہ 2031-32 میں چین کی آبادی کا تخمینہ 1.46 ارب لگایا تھا۔
شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کی ٹیم نے سنہ 2021 کے بعد سالانہ اوسطاً 1.1 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے، جس سے 2100 میں چین کی آبادی 587 ملین تک نیچے آ جائے گی جو کہ آج کی آبادی کے نصف سے بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس پیشین گوئی کے پیچھے معقول مفروضہ یہ ہے کہ چین کی شرح افزائش اب اور 2030 کے درمیان 1.15 سے گر کر 1.1 تک پہنچ جائے گی اور سنہ 2100 تک وہیں رہے گی۔
آبادی میں اس تیز گراوٹ کا چین کی معیشت پر گہرا اثر پڑے گا۔
چین میں کام کرنے والی عمر والے افراد کی آبادی سنہ 2014 میں عروج پر تھی اور 2100 تک اس میں ایک تہائی سے بھی کم ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چین کی عمر رسیدہ آبادی (65 سال اور اس سے زیادہ عمر کی) کے بارے میں توقع کی جاتی ہے کہ کس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ وہ سنہ 2080 تک کام کرنے والے لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہWang Huabin / Getty Images
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ہر 20 عمر رسیدہ افراد کی مدد کے لیے 100 کام کرنے کی عمر والے لوگ دستیاب ہیں جبکہ سنہ 2100 تک 100 کام کرنے والے چینیوں کو 120 عمر رسیدہ چینیوں کی مدد کرنی ہوگی۔
چین کی کام کرنے کی عمر والی آبادی میں 1.73 فیصد کی سالانہ اوسط کمی بہت کم اقتصادی ترقی کا منظر پیش کرتی ہے، جب تک کہ پیداواری صلاحیت میں تیزی سے ترقی نہ ہو۔
تیزی سے سکڑتی ہوئی لیبر فورس کی وجہ سے چین میں زیادہ لیبر لاگت کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے وہاں سے کم مارجن والے لیبر انٹینسیو مینوفیکچرنگ شعبہ ویتنام، بنگلہ دیش اور انڈیا جیسے محنت کش ممالک کی طرف جانے کو تیار ہے۔
پہلے سے ہی چین میں مینوفیکچرنگ لیبر کی لاگت ویتنام کے مقابلے دو گنا زیادہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین کو اپنے زیادہ پیداواری وسائل کو صحت، طبی سہولیات اور عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کی خدمات کی فراہمی کے لیے مختص کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مطالبات کو پورا کیا جا سکے۔
آسٹریلیا کی وکٹوریہ یونیورسٹی میں سینٹر آف پالیسی سٹڈیز کے نمونے سے پتہ چلتا ہے کہ چین کے پنشن کے نظام میں تبدیلی کے بغیر، اس کی پنشن کی ادائیگی 2020 میں جی ڈی پی کے چار فیصد سے پانچ گنا بڑھ کر سنہ 2100 میں جی ڈی پی کے 20 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
آسٹریلیا جیسے وسائل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے ان تبدیلیوں کی وجہ سے انھیں چین سے باہر کے مینوفیکچررز کی طرف دیکھنا ہوگا۔ امریکہ سمیت اشیا کے درآمد کنندگان کے لیے مصنوعات کا منبع بتدریج مینوفیکچرنگ کے نئے اور ابھرتے ہوئے مراکز کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
یہ 'چینی صدی' ہو گی جیسی پیشین گوئی کے باوجود آبادی کے یہ تخمینے بتاتے ہیں کہ اس کے اثرات کہیں اور منتقل ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پڑوسی ملک انڈیا کے لیے بھی یہ صدی ہوسکتی ہے جس کی آبادی آنے والی دہائی میں ممکنہ طور پر چین کو پیچھے چھوڑنے والی ہے۔
یہ مضمون پہلے پہل دی کنورسیشن میں شائع ہوا تھا اور کامن لائسنس کے تحت اس کا ایک ایڈیٹڈ روپ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔









