آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سدھو موسے والا کے قتل کے ملزمان لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کون ہیں؟
پنجابی گلوکار اور کانگریس پارٹی کے رہنما سدھو موسے والا کو اتوار کی شام کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نہ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں جا رہے تھے اور نہ ہی ان کے سکیورٹی کمانڈوز ان کے ہمراہ تھے۔
ذرائع کے مطابق جائے واردات سے تین مختلف ہتھیاروں کی گولیوں کے 30 خالی شیل ملے ہیں۔ حملے کے مقام سے ملنے والے یہ شیل نائن ایم ایم، سیون پوائنٹ سکس ٹو ایم ایم اور پوائنٹ تھری زیرو ایم ایم کے ہیں۔
سدھو موسے والا کے قتل میں ’لارنس بشنوئی گروپ‘ کا نام لیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس وی کے بھنوارہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واقعہ 'لارنس بشنوئی' اور 'لکی پٹیال' نامی گروہوں کی لڑائی کا نتیجہ لگ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بشنوئی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس نے وکی میتھوخیرہ کے قتل کا بدلہ لیا ہے۔‘
ڈائریکٹر جنرل پولیس کے مطابق وکی میتھوخیرہ کے قتل کے سلسلے میں تین حملہ آوروں سنی، انیل اور بھولو کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ تینوں ملزمان ہریانہ کے رہائشی ہیں جنھیں دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
سدھو موسے والا کے مینیجر شگون پریت کو بھی وکی میتھوخیرہ کے قتل میں نامزد کیا گیا ہے لیکن وہ آسٹریلیا فرار ہو گئے ہیں۔
لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کون ہیں؟
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بشنوئی گروپ کے تقریباً 700 ارکان ہیں۔ اس گروپ میں پروفیشنل نشانے باز قاتل شامل ہیں اور یہ پنجاب، ہریانہ، دہلی، راجستھان اور ہماچل سمیت کئی علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس گروپ کے اثرات دوسرے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں جن میں کینیڈا بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
31 سالہ لارنس بشنوئی اس گروہ کا سرغنہ ہے اور کئی مقدموں میں نامزد ہے جن میں قتل، ڈکیتی اور حملے شامل ہیں۔ پنجاب، دہلی اور راجستھان میں اس پر کئی مقدمات درج ہیں۔
بشنوئی کو پہلے راجستھان کی بھارت پور جیل میں رکھا گیا تھا لیکن ان دنوں وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں۔
پنجاب پولیس کو شبہ ہے کہ لارنس بشنوئی نے جیل میں بیٹھ کر سدھو موسے والا کے قتل کا منصوبہ بنایا اور ان کے ساتھی گولڈی برار نے کینیڈا میں بیٹھ کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے انتظامات کیے۔
انڈیا ٹو ڈے کے مطابق بشنوئی نے چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور اپنی تعلیم کے دوران ہی غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو گئے۔ بشنوئی اور گولڈی کی ملاقات سنہ 2009 میں ہوئی جب وہ طالبِ علم تھے اور گولڈی بھی بشنوئی کے ساتھ یونیورسٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے:
گولڈی برار
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ستیندر سنگھ عرف گولڈی برار کو گینگسٹر لارنس بشنوئی کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ گولڈی اس وقت کینیڈا میں مقیم ہے اور اس نے فیس بک کے ذریعے موسی والا کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گزشتہ سال فرید کوٹ کی ضلعی عدالت نے گولڈی کے خلاف یوتھ کانگریس لیڈر گرلال سنگھ پہلوان کے قتل کے سلسلے میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔ گولڈی کو گروگرام میں دوہرے قتل کیس میں بھی نامزد کیا گیا تھا۔
نیوز ویب سائٹ دا کوئنٹ کے مطابق بشنوئی برادری سے تعلق رکھنے والے لارنس بشنوئی کا نام اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ان کے گروپ کے ایک رکن کو بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کو قتل کی دھمکی دینے پر گرفتار کیا گیا۔
درحقیقت، بشنوئی برادری کالے ہرن (چنکارے) کی پوجا کرتی ہے اور لارنس گروپ کے رکن سمپت نہرا نے سلمان خان کے کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں اداکار کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پنجاب پولیس کی اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس نے لارنس بشنوئی اور گولڈی برار سمیت تین افراد کو بھٹنڈا سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب تنیوں افراد مالواکے علاقے میں ایک کاروباری شخصیت پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
لارنس بشنوئی کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کا خدشہ
بی بی سی کی سچترا موہنتی کے مطابق 29 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی نے دہلی کی پٹیالہ عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہےکہ انھیں خدشہ ہے کہ پنجاب پولیس انھیں ’جعلی پولیس مقابلے‘ میں مار دے گی۔
بشنوئی کے وکیل وشال چوپڑا نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طالب علم رہنما کی حیثیت سے ان کے خلاف پنجاب اور چنڈی گڑھ میں سیاسی مخالفین ہونے کی وجہ سے کئی مقدمات بنائے گئے ہیں۔ اسے خدشہ ہے کہ پنجاب پولیس اسے جعلی پولیس مقابلے میں مار سکتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ تہاڑ جیل اتھارٹی، جہاں بشنوئی کو رکھا گیا ہے، پنجاب یا کسی دوسری ریاست کی پولیس کو کسی بھی پروڈکشن وارنٹ کی پیشگی اطلاع دے۔
درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ بشنوئی کی تحویل کو کسی اور ریاستی پولیس کو منتقل نہ کیا جائے اور تحویل میں دینے سے پہلے ان کے وکیل کو مطلع کیا جائے۔