سدھو موسے والا: انڈین گلوکار کے قتل پر عام آدمی پارٹی تنقید کی زد میں، پاکستانی مداح بھی افسردہ

انڈیا کے پنجابی گلوکار اور کانگریس رہنما سدھو موسے والا کو ریاست پنجاب کے ضلع منسہ میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس نے ان کے قتل کی تصدیق کر دی ہے۔

منسہ کے سول سرجن ڈاکٹر رنجیت سنگھ نے بی بی سی کے نمائندے اروند چھابڑا کو بتایا کہ ’سدھو موسے والا سمیت تین لوگوں کو ہسپتال لایا گیا۔ سدھو ہسپتال لائے جانے سے قبل ہلاک ہو چکے تھے۔ باقی زخمیوں کو پٹیالہ میں راجیندر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سدھو کے جسم پر چار سے پانچ گولیوں کے نشانات ہیں۔ اُنھیں سینے اور ٹانگ میں گولی ماری گئی ہے۔‘

بھٹنڈا رینج کے پولیس انسپیکٹر جنرل شیو کمار ورما نے نمائندہ بی بی سی پنجابی اروند چھابڑا کو بتایا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

’فی الوقت اس واقعے سے متعلق معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ چلتی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور یہ واقعہ جواہرکے گاؤں کے پاس پیش آیا۔‘

پولیس نے اب تک کیا بتایا ہے؟

  • شبھ دیپ سنگھ سدھو ساڑھے چار بجے اپنے دو دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلے
  • اُن پر شام ساڑھے پانچ بجے جواہرکے گاؤں کے قریب حملہ کیا گیا
  • پولیس کے مطابق اس واقعے میں لارنس بشنوئی گینگ ملوث ہے جس نے کینیڈا سے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے
  • سدھو موسے والا کے ساتھ چار سکیورٹی گارڈز تعینات تھے جن میں سے دو کو ایک مقامی یادگاری دن پر سکیورٹی ضروریات کی وجہ سے واپس لے لیا گیا تھا
  • سدھو اپنے سکیورٹی گارڈز اور بلٹ پروف گاڑی کے بغیر گھر سے نکلے
  • وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا ہے
  • جائے وقوعہ سے تین مختلف بندوقوں کی 30 گولیوں کے خول ملے ہیں جن کے سائز نو ملی میٹر اور چار ملی میٹر ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب میں اس وقت عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے جس پر سدھو موسے والا کے قتل کے بعد شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

دلی کے وزیرِ اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ٹویٹ کی کہ ’سدھو موسے والا کا قتل بہت افسوس ناک اور صدمہ انگیز ہے۔ میں نے ابھی ابھی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سے بات کی ہے۔ ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

دوسری طرف پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ٹویٹ کی کہ سدھو موسے والا کا بے رحمانہ قتل نہایت صدمہ انگیز ہے۔ اُنھوں نے لکھا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر خراب ہو گئی ہے اور مجرمان کو قانون کی کوئی فکر نہیں۔

اُنھوں نے مزید لکھا کہ عام آدمی پارٹی کی پنجاب حکومت بری طرح ناکام ہو گئی ہے اور پنجاب میں اب کوئی محفوظ نہیں ہے۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اُنھیں کانگریس کے ابھرتے ہوئے رہنما اور باصلاحیت فنکار کی موت پر افسوس ہے۔ اُنھوں نے اُن کے خاندان اور مداحوں کو تعزیت پیش کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سمبت سواراج نے کہا کہ پنجاب میں کیجریوال کی حکومت نے پہلے سدھو موسے والا کی سکیورٹی ختم کی اور پھر اُن تمام لوگوں کی خفیہ فہرست عام کر دی جن کی سکیورٹی ہٹائی گئی تھی۔ ایک طرح سے یہ قاتلوں کو دعوت نامہ تھا کہ ہم نے سکیورٹی ہٹا دی ہے، اب آؤ اور اپنا کام پورا کرو۔

سدھو موسے والا کی ہلاکت پر پاکستان سے بھی سوشل میڈیا پر اُن کے مداحوں نے دکھ کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ آج اُن کا دل بہت اداس ہے کیونکہ اُن کا سب سے پسندیدہ سنگر سدھو موسے والا اب اس جہان میں نہیں رہا۔

ایک اور صارف وارث گجر نے لکھا کہ اس واقعے سے اُنھیں انڈین اداکار عرفان خان کی وہ بات یاد آ گئی ہے کہ 'جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں تو موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے۔'

چوہدری سمیع اللہ نامی صارف نے لکھا کہ وہ رواں سال پاکستان میں سدھو موسے والا کے کنسرٹ میں شرکت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ اُنھیں اب یہ خبر ملی ہے۔ اُنھوں نے لکھا کہ سدھو ویر، آپ بہت جلدی چلے گئے۔

احمد رضا نامی صارف نے اُنھیں ایک منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔