آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نوجوت سنگھ سدھو: کیا پنجاب میں کانگریس کی شکست کی ایک وجہ سدھو بھی ہیں؟
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
انڈیا کے ریاستی انتخابات میں اب تک کے نتائج کے مطابق عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں حکمراں کانگریس پارٹی کا تقریباً صفایا کر دیا ہے۔
نتائج حیران کن نہیں ہیں کیونکہ پارٹی کے کچھ سینئر رہنما پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ پنجاب میں کانگریس کی شکست یقینی ہے۔
فروری کے وسط میں پارٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر قانون اشونی کمار نے پیشگوئی کی تھی کہ پنجاب اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی جیت ہوگی اور کانگریس کی شکست ہوگی۔
انھوں نے کہا تھا 'جہاں تک میں سمجھتا ہوں، کانگریس پنجاب میں الیکشن ہار رہی ہے اور عام آدمی پارٹی جیت رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں کبھی اکالی دل اور کانگریس کا غلبہ تھا وہاں اب نئے امیدواروں کو حمایت مل رہی ہے'۔
اشونی کمار نے اس وقت جو کہا تھا، 7 مارچ کے بعد کے ایگزٹ پول بھی یہی کہہ رہے تھے۔ کئی ماہرین نے پچھلے سال کہا تھا کہ جب سے پارٹی قیادت نے نوجوت سنگھ سدھو کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں اس وقت سے ریاست کے لوگ کانگریس کے زوال کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے درمیان پنجاب کی سیاست میں کیپٹن امریندر سنگھ کی جگہ لینا ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
بی بی سی پنجابی سروس کے ایڈیٹر اتل سانگر کہتے ہیں کہ کانگریس کی شکست کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ سدھو بھی ہیں۔
وہ کہتے ہیں 'کرکٹر سے سیاست دان بننے والے نوجوت سنگھ سدھو جو دو بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے، پنجاب کے انتخابی نتائج میں کانگریس کی ذلت آمیز ہار کے ذمہ دار بڑے عوامل میں سے ایک ضرور ہیں۔ تاہم، وہ واحد وجہ نہیں ہیں'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری
باغی کانگریس رہنما سنجے جھا نے نتائج آنے کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا 'پارٹی کے 23 ناراض رہنماؤں کا مذاق اڑایا گیا، مجھے معطل کر دیا گیا، ہم نے کانگریس قیادت کو خبردار کیا تھا، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی، کسی نے پرواہ نہیں کی'۔
اتل سانگر اس سے متفق نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کانگریس قیادت کی اجتماعی ناکامی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کو بھی ان نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ان کے بقول 'ہم کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت میں ساڑھے چار سال کے ادھورے وعدے اور خراب کارکردگی اس شکست کے لیے ذمہ دار ہیں، لیکن ساتھ ہی سدھو، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی ہیں'۔
یہ بھی پڑھیے
امریندر بمقابلہ سدھو
تھوڑا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کو روکنے کے لیے، جو ایک آزاد رہنما کے طور پر پنجاب پر حکومت کر رہے تھے، راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا نے نوجوت سنگھ سدھو کو تقریباً کھلی چھوٹ دے دی تھی۔
سدھو نے کیپٹن امریندر سنگھ پر تقریباً ایک سال تک بغیر کسی روک ٹوک کے ادھورے وعدوں اور بدعنوانی کے حوالے سے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا۔
اتل سانگر کہتے ہیں 'سدھو نے ایک یوٹیوب چینل شروع کیا اور اس پر کیپٹن امریندر سنگھ کی حکومت پر تنقید شروع کردی۔ انہوں نے کیپٹن کی حکومت کے خلاف ماحول پیدا کیا اور پھر چرنجیت سنگھ چنی کو پنجاب کانگریس کے صدر کے طور پر وزیراعلیٰ بنائے جانے کے بعد بھی اسے جاری رکھا'۔
ان کے مطابق ’کانگریس ہائی کمان نے دلت لیڈر چرنجیت سنگھ چنی کو اپنے وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر پیش کر کے سمارٹ کارڈ تو کھیلا، اس نے بار بار اس پیغام کو تقویت بخشی کہ پارٹی غریبوں کے لیے کھڑی ہے۔ لیکن پارٹی یہ بھول گئی کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ سکھ ہونا چاہیے ’اس نے اپنے روایتی ہندو ووٹ بیس اور جاٹ سکھ ووٹروں کو الگ کر دیا ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔‘
کیا پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے گورننس ماڈل کی جیت ہوئی؟
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام نے کیجریوال ماڈل آف گورننس کو موقع دیا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ آج پورے ملک میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کیجریوال ہیں تو کاروبار، روزگار، تعلیم، صحت کی سہولیات ایمانداری سے مل سکتی ہیں۔
2017 کے انتخابات میں بھی یہ توقع کی جارہی تھی کہ عام آدمی پارٹی پنجاب کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔ لیکن اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔
لیکن پارٹی کے رہنماؤں نے ہمت نہیں ہاری اور اسی وقت سے اگلے اسمبلی انتخابات کی تیاری شروع کر دی، جس کا اسے کافی فائدہ ہوا۔
کجریوال اور بھگونت مان نے صرف صحت، تعلیم، بے روزگاری اور خواتین کے لیے سہولیات پر توجہ مرکوز کی۔
انہوں نے اپنی مہم کو سکیورٹی کے مسائل، خالصتان کے الزامات، پنجابی غیر پنجابی الزامات سے متاثر نہیں ہونے دیا۔ باقی تمام جماعتیں ان پر یہ الزامات لگا رہی تھیں۔