گیان واپی مسجد کا تنازع انڈیا میں نئے مذہبی تنازعے کا آغاز ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہROBERT NICKELSBERG/GETTY IMAGES
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
انڈیا کے قدیم ترین مقدس شہر وارانسی یعنی بنارس میں ایک مندر اور مسجد کی دیواریں ملتی ہیں جہاں ہندو مسلمان ایک زمانے سے ایک ساتھ عبادت کرتے رہے ہیں۔
لیکن آج وہاں بھاری حفاظتی نفریاں تعینات ہیں جو اس کی تلخ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ گیانواپی مسجد سولھویں صدی کی عظیم ہندو عبادت گاہ وشوناتھ مندر کے کھنڈرات پر بنائی گئی ہے۔ چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر اس مندر کو سنہ 1669 میں جزوی طور پر منہدم کر دیا گیا تھا۔
اب یہ جگہ ایک ایسے تنازعے کی زد میں ہے جو، ہندو اکثریت والے انڈیا میں جہاں مسلمان سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں، تازہ کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
ہندو درخواست گزاروں کا ایک گروپ ایک مقامی عدالت میں مسجد کے پیچھے ایک مزار اور احاطے کے اندر دیگر مقامات پر پوجا کرنے کے لیے رسائی کی درخواست لے کر پہنچا ہے۔ ایک متنازع عدالتی حکم کے تحت مسجد کے ویڈیو ریکارڈ کے ساتھ سروے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ وہاں پتھر کی ایک ایسی چیز ملی ہے جو کہ ہندو دیوتا شیو کی علامت ہے۔ جبکہ مسجد کی انتظامیہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
اس کے بعد مسجد کے ایک حصے کو عدالت نے مسجد کی انتظامیہ کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع دیے بغیر سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ تنازع اب انڈیا کی عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے، جس نے منگل کو کہا کہ کمپلیکس کی حفاظت کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی مسجد میں نمازیں جاری رہیں گی۔
اس کی وجہ سے ایک ایسے تنازعے کے دوبارہ شروع ہونے کا خدشتہ پیدا ہو گيا ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہنے کے بعد سنہ 1992 میں ایودھیا کے مقدس شہر میں ہندو ہجوم کے ہاتھوں بابری مسجد کے انہدام کی شکل میں سامنے آیا تھا۔
ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی چھ سالہ طویل مہم کے نتیجے میں بابری مسجد کا تنازعہ اپنے عروج پر پہنچا تھا۔ اس وقت یہ پارٹی اپوزیشن میں تھی۔ اور مسجد کے انہدام کے نتیجے میں جو فسادات پھوٹ پڑے اس میں ملک بھر میں تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پھر سنہ 2019 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ایودھیا میں متنازع جگہ ہندوؤں کو دی جائے جہاں اب مندر کی تعمیر ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو وہاں کافی دور مسجد بنانے کے لیے ایک اور پلاٹ دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1991 کا ایک قانون جسے 'پلیسز آف ورشپ ایکٹ' یعنی عبادت گاہوں کا قانون کہا جاتا ہے وہ عبادت گاہ کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اس کے مذہبی کردار کو 15 اگست سنہ 1947 کو ہندوستان کے یوم آزادی کے موقعے پر جیسا تھا اسی صورت میں رہنے دیے جانے پر اصرار کرتا ہے۔ وارانسی کے تنازع کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع سنہ 1991 کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ایک ممتاز مسلم رہنما اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ 'مسجد موجود ہے اور موجود رہے گی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ وارنسی ریاست اتر پردیش میں ہے جہاں یہ تنازع سامنے آیا ہے۔ اس ریاست میں حکمراں بی جے پی کے ایک رہنما کا خیال ہے کہ پتھر پر کچھ بھی نہیں ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کہتے ہیں کہ 'سچائی سامنے آ گئی ہے۔۔۔ ہم اس معاملے میں عدالت کے احکامات کا خیرمقدم کریں گے اور اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔'
یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ کون سی حقیقت بے نقاب ہونے والی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس مقام پر ایک مندر موجود تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں کمپریٹو ریلیجن اینڈ انڈین سٹڈیز کی پروفیسر ڈیانا ایل اک کے مطابق مندر 'کافی وسیع و عریض تھا، ایک مرکزی حرم پر مشتمل تھا اور آٹھ پویلین سے گھرا ہوا تھا۔'
پروفیسر اک کا کہنا ہے کہ یہ بھی ثابت ہے کہ مندر کی تعمیر کے ایک صدی سے بھی کم عرصے میں اس مندر کو 'اورنگ زیب کے حکم پر گرا دیا گیا تھا۔ نصف منہدم یہ عمارت موجودہ گیانواپی مسجد کی بنیاد بن گئی۔'

،تصویر کا ذریعہDEAGOSTINI/GETTY IMAGES
یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ مسجد مندر کے کھنڈرات پر بنی ہے۔ پروفیسر اک بیان کرتی ہیں کہ 'پرانے مندر کی ایک دیوار اب بھی کھڑی ہے، جو مسجد کے ماحول میں ہندو زیور کی طرح قائم ہے'۔
'جب مسجد کو عقب سے دیکھا جائے تو، دونوں روایات کا ڈرامائی تضاد واضح نظر آتا ہے۔ پرانے مندر کی پتھر کی آرائشی دیوار، اپنی تباہ حالیہ حالت میں بھی شاندار ہے جبکہ اس کے اوپر مسجد کا سادہ سفید چکنا گنبد کھڑا ہے۔
'اورنگ زیب: دی مین اینڈ دی متھ' نامی کتاب کی مصنفہ آڈری ٹرشکی کے مطابق، حقیقت یہ ہے کہ تباہ شدہ مندر کی دیوار کا ایک حصہ عمارت میں شامل کیا گیا تھا 'مغل حکمرانی کی مخالفت کے سنگین نتائج کے بارے میں مذہبی رنگ میں پیغام ہو سکتا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
مورخین کا خیال ہے کہ اورنگزیب کے ذریعہ مندر پر حملہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے سرپرستوں نے ہندو بادشاہ اور مغلوں کے بڑے دشمن شیواجی کے قید سے فرار ہونے میں سہولت فراہم کی تھی۔
یونیورسٹی آف ایریزونا میں جنوبی ایشیا کی تاریخ پڑھانے والے رچرڈ ایم ایٹن کا کہنا ہے کہ 'ان مندروں کی سرپرستی ایسے افراد کرتے تھے جو ریاستی اختیار کو تسلیم کرتے تھے لیکن جو بعد میں ریاست کے دشمن بن جاتے انھیں مغل حکمرانوں کی طرف سے اکثر نشانہ بنایا جاتا تھا۔'

،تصویر کا ذریعہROBERT NICKELSBERG/GETTY IMAGES
پروفیسر ایٹن کے مطابق اورنگ زیب کے 49 سالہ دور حکومت میں مغل افسران کے ہاتھوں کم از کم 14 مندروں کو 'یقینی طور پر منہدم' کیا گيا تھا۔ انھوں نے 12ویں اور 18ویں صدی کے درمیان ہندوستان میں مندروں کے توڑے جانے کی 80 مثالیں درج کی ہیں۔
وہ کہتے ہیں: 'ہمیں ہندوستانی تاریخ میں مندروں کی بے حرمتی کی صحیح تعداد کبھی نہیں معلوم ہوسکے گی۔' تاہم مورخین در حقیقت جتنا جانتے ہیں وہ دائیں بازو کے مبالغہ آمیز دعووں سے بہت دور ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے دور حکومت میں 60,000 مندروں کو منہدم کیا گیا تھا۔
پروفیسر ایٹن کا کہنا ہے کہ مندروں کے ڈھانے میں مغل حکمران قدیم ہندوستانی نظیر کی پیروی کر رہے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ 12ویں صدی کے آخر سے مسلمان بادشاہوں اور کم از کم 7ویں صدی سے ہندو بادشاہوں نے بھی 'ہندو بادشاہوں یا ریاستی باغیوں کی سرپرستی والے مندروں کو لوٹا، نئے سرے سے تعمیر کیا، یا تباہ کیا، جو شکست خوردہ حکمرانوں کو خوار کرنے کا عام طریقہ تھا، اس طرح ان کی سیاسی ساکھ کو ختم کرنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مورخین کا کہنا ہے کہ یہ کو غیر معمولی بات نہیں تھی۔ یورپی تاریخ میں مذہبی تنازعات اور گرجا گھروں کی بے حرمتی کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر، شمالی یورپ نے 18ویں صدی میں پروٹسٹنٹ بغاوت کے دوران بہت سے کیتھولک ڈھانچے کو منہدم ہوتے یا ان کی بے حرمتی دیکھا۔ اسی طرح سنہ 1566 میں یوٹریچٹ کیتھیڈرل کی بے حرمتی، یا سنہ 1559 میں سکاٹ لینڈ میں سینٹ اینڈریوز کیتھیڈرل کی تقریباً مکمل مسماری شامل ہیں۔
لیکن انڈیا کے ممتاز مبصر پرتاپ بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ 'سیکولرازم مزید گہرا ہو گا اگر یہ تاریخ کو تاریخ رہنے دے، اور تاریخ کو سیکولر اخلاقیات کی بنیاد نہ بنائے۔' اور یہ کہ وارانسی میں جاری تنازع صرف 'ایک اور فرقہ وارانہ محاذ' کھولنے ک ہی مترادف ہوگا۔
دائیں طرف جھکاؤ رکھنے والے کالم نگار سوپن داس گپتا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خدشات قبل از وقت ہیں۔ انھوں نے لکھا: 'ابھی تک، مسجد کو ہٹانے اور سابقہ موجودہ حالت کو بحال کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ قانون کسی عبادتگاہ کے موجودہ مذہبی کردار کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر اس حد تک سہی ہے کہ وارانسی میں موجودہ تنازعے کا مقصد عبادت کرنے والوں کے لیے مزید جگہ کو محفوظ بنانا ہو سکتا ہے۔
اس طرح کی یقین دہانیوں کو ماننے والے زیادہ لوگ نہیں ہیں۔ پچھلے سال سپریم کورٹ نے عبادت گاہوں کے قانون کو چیلنج کرنے والی ایک پٹیشن کو قبول کیا، جو خود ایک نئی فالٹ لائن کھول سکتا ہے۔
انڈین سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج مدن لوکر کہتے ہیں: 'یہ مہم (واراناسی میں) ان بہت سی دیگر عبادت گاہوں کے حوالے سے مطالبات کے سلسلے کی شروعات ہے جن پر [ہندو] دعوے ہیں۔'
او یہ بہ آسانی زندگی بھر کے تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔












