انڈین سپریم کورٹ نے بغاوت کے قانون پر عملدرآمد روک دیا

غداری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطلبہ کا اس قانون کے خلاف احتجاج

انڈین سپریم کورٹ نے نوآبادیاتی دور یعنی برطانوی راج کے ایک متنازع بغاوت کے قانون پر عمل درآمد کو روک دیا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اِس قانون کے تحت اس وقت تک کوئی مقدمہ درج نہ کرے جب تک عدالت اس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت مکمل نہیں کر لیتی۔

عدالت نے حکم دیا کہ بغاوت کے قانون کے تحت درج تمام مقدمات پر کارروائی کو روک دیا جائے۔

حکومت پرالزام لگایا گیا ہے کہ وہ اس قانون کو سیاست دانوں، صحافیوں اور حکومت کے ناقدین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ منگل کے روز حکومت نے کہا کہ وہ پہلے اس قانون کا دفاع کرے گی اور پھر اس کا جائزہ لے گی۔

عدالت نے کہا کہ جن لوگوں پر پہلے ہی اس قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور وہ جیلوں میں ہیں، وہ ٹرائل کورٹس سے ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی سپریم کورٹ

انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما اور درخواست گزاروں کے وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انڈیا بھر میں بغاوت کے 800 سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں اور تقریباً 13 ہزار لوگ جیلوں میں ہیں۔

ویب سائٹ آرٹیکل 14 کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 کے بعد جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے پچھلی دہائی کے دوران 405 انڈین شہریوں کے خلاف سیاست دانوں اور حکومتوں پر تنقید کرنے کے لیے غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

line

ابھی جشن منانے کی ضرورت نہیں؟

دہلی میں بی بی سی کے نمائندے سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا بغاوت کے قانون کو روکنے کا فیصلہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے نوآبادیاتی دور کے قانون کا استعمال کیا ہے۔ قدیم تعزیرات ہند کی خوفناک دفعہ 124a کو طلبہ، صحافیوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں، اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف بنیادی طور پر اختلاف رائے اور آزادی اظہار کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک قانون جو بنیادی طور پر 19ویں اور 20 ویں صدی کے اوائل میں برطانوی راج سے آزادی کے خواہاں ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا اب اسے مسلسل جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کے ذریعے مخالفت کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ اسے انڈیا کی لیے شرم کی بات کہتے ہیں۔

لیکن ابھی جشن منانا قبل از وقت ہو گا۔

'یہ دیکھنا باقی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کس طرح اس جبر والے قانون کا 'دوبارہ جائزہ' لیتی ہے اور کس طرح اس پر 'نظر ثانی' کرتی ہے۔ کیا اس میں ردوبدل اور ترمیم کی جائے گی؟ یا پھر اسے ختم کر دیا جائے گا؟

'زیادہ تر انڈین اس قانون کو جاتا دیکھ کر خوش ہوں گے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جدید جمہوریت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے جلد دفن کر دیا جائے۔'

line

یہ قانون پچھلے سال اس وقت سرخیوں میں آیا جب اسے ایک ایسے طالب علم کے خلاف استعمال کیا گیا جس نے ایک دستاویز شیئر کی تھی جس کا مقصد زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کی مدد کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس کا استعمال سکول کے ایک ڈرامے کے سلسلے میں بھی کیا گیا تھا جس میں نو سے 12 سال کے بچے شامل تھے۔ اس کا استعمال فیس بک پوسٹ کو پسند کرنے کے لیے بھی کیا گيا اور بعض ایسے لوگوں کے خلاف بھی کیا گیا جو سینیما گھروں میں قومی ترانہ بجائے جانے کے وقت احترام میں کھڑے نہیں ہوئے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

اس جرم کی سزا مالی جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا، یا دونوں ہے۔

سنہ 1962 میں سپریم کورٹ نے اس قانون کے استعمال پر حدود عائد کی تھیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں حکام ان پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھل کر اس کا استعمال کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون زیادہ تر ان لوگوں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اتھارٹی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ انڈیا کے سست رفتار عدالتی نظام کو دیکھتے ہوئے یہ مقدمات برسوں تک چلتے رہتے ہیں۔

دریں اثنا غداری کے قانون کے تحت جن لوگوں پر الزام لگایا گیا ہے، انھیں اپنے پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے ہوتے ہیں، وہ سرکاری ملازمتوں کے اہل نہیں رہتے اور جب بھی ضرورت ہو انھیں عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔