’غداری کے قانون سے چھٹکارا پانا ضروری ہے‘

جب اداکارہ رامیا نے پاکستان کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان جہنم نہیں ہے تو ایک وکیل نے ان کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ دائر کر دیا

،تصویر کا ذریعہRAMYA TWITTER HANDLE

،تصویر کا کیپشنجب اداکارہ رامیا نے پاکستان کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان جہنم نہیں ہے تو ایک وکیل نے ان کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ دائر کر دیا
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی، دہلی

انڈیا میں فیس بک پوسٹ لائیک کرنے، یوگا گرو پر تنقید کرنے، حریف کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائي کرنے، کارٹون بنانے، یونیورسٹی امتحان میں اشتعال انگیز سوالات پوچھنے، یا پھر سنیما ہال میں قومی ترانے کے وقت کھڑا نہ ہونے پر بھی غداری کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے جب اداکارہ اور سیاسی لیڈر راميا نے پاکستان کی تعریف کی تو ایک وکیل نے ان پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے عدالت میں عرضی دائر کر دی۔

راميا حال ہی میں اسلام آباد سے واپس آئی تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان ’جہنم نہیں‘ ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا تھا کہ پاکستان جانا جہنم جانا ایک برابر ہے۔

وکیل کے وٹّھل گوڈا راميا کی رائے سے خوش نہیں ہوئے۔ انھوں نے ہمارے ساتھی عمران قریشی سے بات کرتے ہوئے بنگلور میں کہا: ’پاکستان کے لوگوں کو اچھا کہہ کر راميا نے ملک سے غداری کی ہے۔ یہ ملک سے بغاوت کرنے جیسی بات ہے۔‘

رامياحال ہی میں اسلام آباد سے واپس آئی تھیں اور انہیں لگا کہ پاکستان جہنم نہیں ہے جبکہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا تھا کہ پاکستان جانا جہنم میں جانے جیسا ہی ہے

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنرامياحال ہی میں اسلام آباد سے واپس آئی تھیں اور انہیں لگا کہ پاکستان جہنم نہیں ہے جبکہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا تھا کہ پاکستان جانا جہنم میں جانے جیسا ہی ہے

اس ماہ کے آغاز میں ہی بینگلور میں پولیس نے عالمی حقوق انسانی کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے خلاف ملک سے بغاوت کا کیس درج کیا تھا۔ الزام ہے کہ ایمنیسٹی کے ایک پروگرام میں ’ملک مخالف نعرے‘ لگے تھے۔

انڈیا میں حکومتیں انگریزوں کے زمانے کے اس قانون کا استعمال طلبہ، صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کرتی آئی ہیں۔

ملک کی سپریم کورٹ نے اس قانون کے استعمال کے لیے حدود مقرر کیے ہوئے تقریباً 50 برس سے زیادہ ہو گئے ہیں، لیکن اقتدار میں موجود لوگ سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق سنہ 2014 میں غداری کے کل 47 مقدمات دائر کیے گئے اور 58 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے بہت سے معاملات میں کسی طرح کے تشدد یا تشدد بھڑکانے جیسا معاملہ نہیں تھا۔ جرم صرف اور ایک کیس میں ثابت ہو پایا۔

لوگ تمل ناڈو میں ایک جوہری پلانٹ لگائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے تھے، ان کو ’ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے‎‘ کے جرم میں حراست میں لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلوگ تمل ناڈو میں ایک جوہری پلانٹ لگائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے تھے، ان کو ’ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے‎‘ کے جرم میں حراست میں لیا گیا

سنہ 2012 اور 2013 میں تقریبا 23،000 ہزار لوگ تمل ناڈو میں ایک ایٹمی پلانٹ لگائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے تھے، ان کو ’ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے‎‘ کے جرم میں حراست میں لیا گیا۔ اس میں سے نو ہزار لوگوں کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔

اس تحریک کے روح و رواں ایس پی ادے کمار کا کہنا ہے کہ ’پولیس غداری جیسے کیس میں کچھ ملزمان کا نام تو لے لیتی تھی اور بعد میں بغیر نام لیے ملزمان میں دو ہزار تعداد کا اور اضافہ کر دیتی تھی۔‘

مظاہرین کے خلاف تقریباً 140 مقدمے آج بھی جاری ہیں، جن میں نصف غداری سے متعلق ہیں۔

اودے کمار کہتے ہیں: ’اس قانون کا استعمال اب حکومت کی مخالفت کرنے والوں کے دل میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں

میڈیا ویب سائٹ ’دی ہوٹ‘ کا کہنا ہے کہ ’اس سال تو جیسے غداری کے مقدمات کی بارش ہو رہی ہے۔‘

ابھی کچھ دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بعض طلبہ کے خلاف بھی ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابھی کچھ دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بعض طلبہ کے خلاف بھی ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

رواں برس 2016 کے آٹھ ماہ میں ملک سے بغارت کے 18 کیسوں میں 19 لوگوں کو ملزم بنایا جا چکا ہے۔

بھارت میں انصاف کا نظام کافی سست رو ہے۔ جن لوگوں پر ایسے مقدمات چلتے ہیں، انھیں اپنا پاسپورٹ جمع کرنا ہوتا ہے، وہ سرکاری نوکری کے لیے درخواست نہیں دے سکتے اور بلائے جانے پر کورٹ میں حاضر ہونا پڑتا ہے جبکہ مقدمہ لڑنے کے لیے خطیر رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کی شریک مصنفہ جے شري بجوريا کا کہنا ہےکہ اس طرح کے ’زیادہ تر مقدمات میں الزام تو شاید ہی کبھی ثابت ہو پائیں، لیکن اس طرح کے کیس اپنے انجام تک پہنچتے پہنچتے خود ایک بڑی سزا بن جاتے ہیں۔‘

اس ماہ کے آغاز میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’کامن كاز‘نے سپریم کورٹ میں اس قانون کے ’غلط استعمال‘ کو چیلنج کیا ہے۔

کامن كاز نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ مقدمہ درج ہونے سے پہلے مقامی پولیس کے سربراہ تحریری طور پر اس بات کا ذکر کریں کہ جس کے خلاف مقدمہ درج ہو رہا ہے اس کے کسی بیان یا حرکت سے تشدد یا معاشرے میں گڑبڑ پھیل سکتی ہے۔

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ اس قانون سے جلدی چھٹکارا پا لینا چاہیے۔

وکیل کرونا نندی کا کہنا ہے: ’بغاوت کے قانون کو جابرانہ قوانین کی تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ بات اب واضح ہے کہ اس قانون کو ختم کرنا ایک اچھا آغاز ہو گا۔ جیسا کہ نہرو نے کہا تھا: ’ہم جتنی جلدی اس قانون سے چھٹکارا پا لیں، اتنا ہی بہتر ہے۔‘

اور نہرو کی یہ بات بھی 50 برس پرانی ہے۔