’پاکستان جہنم نہیں ہے‘ کہنے پر غداری کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
جنوبی ہندوستان کی اداکارہ اور سیاستدان رمیا نے کہا ہے کہ وہ بغاوت کا مقدمہ قائم کیے جانے کے باوجود اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ ’پاکستان جہنم نہیں ہے۔‘
رمیا کا اصل نام دویا سپندنا ہے اور ان کا تعلق جنوبی ریاست کرناٹک سے ہے۔ وہ کانگریس سے وابستہ اور سابق رکن پارلیمان ہیں۔ حال ہی میں وہ سارک کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد گئی تھیں۔
رمیا پر یہ کہنے کا الزام ہے کہ ’پاکستان جہنم نہیں ہے، وہاں کے لوگ ہم جیسے ہی ہیں اور وہاں ہماری اچھی دیکھ بھال کی گئی۔‘
انھوں نے بظاہر یہ بات بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے ایک بیان کے جواب میں کہی تھی۔ مسٹر پاریکر نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ایک مقابلے میں پانچ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کل ہمارے جوانوں نے پانچ لوگوں کو واپس بھیج دیا، پاکستان میں جانا اور نرک (جہنم) میں جانا ایک ہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRAMYA TWITTER HANDLE
بغاوت کا مقدمہ قائم کیے جانے کے بعد رمیا نے بنگلور میں ایک ٹی وی چینل سےبات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جس کے لیے وہ معافی مانگیں۔
انھوں نے کہا کہ ’معافی مانگنا میرے لیے سب سے آسان کام ہے۔۔۔ لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں، آج کل ملک میں حالات کچھ ایسے ہیں کہ کسی کے بھی خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور میرے خیال میں اسے ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘
گذشتہ ہفتے ہی انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بھی پولیس نے بغاوت کا مقدمہ قائم کیا تھا جس کے بعد ایمنیسٹی نے بھارت میں اپنا کام بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایمنیسٹی کے ایک پروگرام میں دیش مخالف نعرے بلند کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTWITER
انڈیا میں گذشتہ چند مہینوں سے بغاوت سے متعلق قانون پر بحث جاری ہے اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا الزام ہے کہ اظہار خیال کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے اس قانون کا بے جا استعمال کیا جارہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی تھی جب جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور بعض دیگر طلبہ کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئِے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے کشمیر کی آزادی کے حق میں اور بھارت کی سالمیت کے خلاف نعرے لگائے تھے۔
رمیا کے خلاف مقدمہ ایک وکیل کے وٹل گوڑا کی شکایت پر قائم کیا گیا ہے۔ مقدمے کی ابتدائی سماعت27 اگست کو ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
کرناٹک میں بی جے پی اور اس کی طلبہ تنظیم کے کارکن رمیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یا تو وہ معافی مانگیں یا پاکستان چلی جائیں۔ سوشل میڈیا میں بھی ان کے بیان پر بحث جاری ہے۔ بعض ان کی حمایت ہیں اور بعض انھیں پاکستان چلے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
لیکن رمیا کا کہنا ہے کہ یہ ان کی رائے ہے اور انھیں اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ اتنا سب کچھ ہو رہا ہے (انڈوپاک تعلقات میں تلخی) اور ایسے حالات میں آپ پا کستان کی تعریف کیسے کر سکتی ہیں؟ لیکن میرا جواب ہے کہ میں پاکستان کے شہریوں کی بات کر رہی تھی، اور میں اپنے تجربے کی بات کر رہی تھی، اگر یہ غلط ہے تو ہمارا خدا ہی حافظ ہے۔‘







