انڈین نصاب سے مغل دربار کے ساتھ فیض کے اشعار بھی ’غائب‘

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈین میڈیا کے مطابق انڈیا کے مرکزی تعلیمی نظام سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے سنہ 23-2022 سیشن کے لیے چند اہم موضوعات کو ہٹا دیا ہے جن میں ’مغل دربار‘ سمیت فیض احمد فیض کے اشعار پر مبنی دو پوسٹرز بھی شامل ہیں۔

یہ تبدیلی دسویں، گیارھویں اور بارھویں جماعت کی تاریخ اور سیاست کی درسی کتابوں میں کی گئی ہے۔

معروف اخبار ’دی ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق 11ویں اور 12ویں کے نصاب سے ’غیر وابستہ تحریک، سرد جنگ کا زمانہ، افریقی اور ایشائی خطے میں اسلامی سلطنت کا عروج، مغل دربار کے کرانیکل، اور صنعتی انقلاب جیسے اہم موضوعات نکال دیے گئے ہیں۔‘

جبکہ دسویں جماعت کے نصاب سے فیض احمد فیض کی دو نظموں کے چند سطور پر مبنی پوسٹرز کو حذف کر دیا گیا ہے۔

ان میں سے ایک پوسٹر انہد ’ایکٹ ناؤ فار ہارمنی اینڈ ڈیموکریسی‘ نامی تنظیم کی بنوایا گیا تھا جبکہ دوسرا ’والنٹری ہیلتھ ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ نے بنایا ہے۔

بی بی سی نے انہد کی سبراہ شبنم ہاشمی سے اس بابت بات کی تو انھوں نے کہا کہ انھیں بھی اس کا علم میڈیا سے ہی ہوا ہے اور انھوں نے دونوں پوسٹرز بی بی سی کو بھیجے۔ انھوں نے مختصر بات کے دوران اتنا ضرور کہا کہ اگرچہ پہلے سے شائع ہونے والے کتب میں یہ موجود ہو لیکن آئندہ شائع ہونے والی کتابوں سے ممکنہ طور پر اسے ہٹا دیا جائے، کیونکہ موجودہ حکومت نے پہلے بھی ایسا کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس کے متعلق بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے اپنے ایک ٹویٹ میں ان موضوعات کو ہٹائے جانے کو ایک تصویر کے ذریعے پیش کرتے ہوئے سخت گیر نظریات کی حامل ہندو تنظیم آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اور آر ایس ایس کے مخفف کا نیا فل فارم لکھتے ہوئے اسے ’راشٹریہ شکشا شریڈر‘ یعنی ’قومی تعلیم کو کترنے والا‘ کہا ہے۔

اس بابت بی بی سی نے سی بی ایس ای اور نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے سربراہان سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہاں سے خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔

واضح رہے کہ سی بی ایس ای کے تحت این سی ای آر ٹی کی تیار کردہ کتابیں ہی شامل نصاب ہوتی ہیں۔

بی بی سی نے این سی ای آر ٹی کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے تو انھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ نصاب تعلیم میں وقت کے ساتھ ردو بدل ہوتا ہے اور اسے ماہرین کی ورکشاپ یا کمیٹی میں طے کیا جاتا ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس مکتبۂ فکر کے ماہرین کو اس میں مدعو کرتے ہیں۔

ایک زمانے سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں آنے کے بعد سے تعلیم کو بھی ’زعفرانی‘ رنگ میں رنگا جا رہا ہے اور یہ اس کی ایک مثال ہے۔

این سی ای آر ٹی کے اُردو شعبے کے سربراہ فاروق انصاری نے بتایا کہ این سی ای آر ٹی کتاب سے مذکورہ چیزیں نہیں ہٹائی گئی ہیں البتہ یہ تعلیمی بورڈ کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کیا پڑھائے اور کیا نہ پڑھائے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ حق ریاست کے تعلیمی بورڈز کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ریٹائرڈ عہدیدار نے بتایا کہ ہریانہ کے بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں پریم چند کی کہانی ’عیدگاہ‘ نہیں پڑھانی ہے کیونکہ ان کی ریاست ہندو اکثریتی ریاست ہے۔

تعلیم کے شعبے سے وابستہ سینیئر فیلو فضل الرحمان سے ہم نے جب اس بابت دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت اور ان کے مکتبۂ فکر کا پرانا ایجنڈا ہے جسے وہ تیزی کے ساتھ نافذ کر رہے ہیں۔

انڈین تھنک ٹینک ’انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز‘ میں سینیئر فیلو نے کہا کہ ’جہاں تک مجھے یاد ہے کہ سنہ 2001 کی واجپئی حکومت میں بھی اس قسم کی کوشش ہوئی تھی لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن اب ان کی حکومت مضبوط ہے، حزبِ اختلاف کمزور ہے اس لیے وہ بہت تیزی کے ساتھ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

فضل الرحمان کے مطابق بی جے پی یا آر ایس ایس کا یقین بہت زیادہ انتخابی سیاست میں نہیں ہے وہ معاشی، سماجی، تاریخی، لسانی ہر سطح پر تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ نصاب سے ایسی چیزوں کو ہٹا دینا چاہتے ہیں تاکہ انھیں آئندہ اپنے بیانیہ کے پھیلانے میں کوئی دقت نہ ہو۔

مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فرض کر لیں کہ اگر یہ حکومت تاریخ کے نصاب سے مغل دور کو ہٹانے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا پھر اس کے ہندوستانی اور رواداری کے پہلو کو حذف کر دیتی ہے تو پھر انھیں اپنا بیانیہ پھیلانے میں آسانی ہو گی اور اس کے بعد اگر ان کی حکومت جاتی بھی رہی تو بھی کسی دوسری حکومت کے لیے اسے دوبارہ شامل نصاب کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا، تقریبا ناممکن ہو گا۔‘

ہم نے پہلے اورنگزیب اور گرو تیغ بہادر کے حوالے سے کی جانے والی ایک خبر میں یہ پایا تھا کہ کس طرح پہلے این سی ای آر ٹی سے شائع ہونے والی چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب سے ایک بیانیہ کو ہٹا دیا گیا تھا۔

چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب میں گرو تیغ بہادر کے قتل کا ذکر اِن الفاظ میں ہوا تھا جو اب بدلا جا چکا ہے۔

'بہر حال سنہ 1675 میں گرو تیغ بہادر کو ان کے پانچ پیرو کاروں کے ساتھ پکڑ کر دہلی لایا گیا۔ اس کے لیے سرکاری جواز بعد کے فارسی ماخذ میں یہ دیا گیا کہ آسام سے واپسی کے بعد انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے ایک پیرو حافظ آدم کے ساتھ مل کر پنجاب کے صوبے میں لوٹ اور قتل و غارت گری مچا رکھی تھی۔‘

اس وقت جب وزیر اور بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی نے اسے ہٹانے کی بات کہی تھی تو انڈیا کے تاریخ دانوں نے بڑے پیمانے پر اُس کی مخالفت کی تھی جس میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش چندر اور پروفیسر بپن چندر کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کے ایم شریمالی، پروفیسر ارجن دیو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر عرفان حبیب شامل تھے۔

بہرحال تازہ واقعے کے تحت فیض احمد فیض کی نظم کی چند انقلابی سطریں اس طرح ہیں جنھیں ہٹائے جانے کی بات کی گئی ہے۔

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں،

تمہت عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار سے پابہ جولاں چلو

کہا جاتا ہے کہ یہ نظم فیض احمد فیض نے اس وقت لکھی تھی جب انھیں ایک جیل سے ہتھکڑیوں میں ایک تانگے پر بٹھا کر دانت کے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گيا تھا۔

دوسری چند سطور یہ ہیں:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

کہا جاتا ہے کہ یہ نظم انھوں نے سنہ 1974 میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے معروف صحافی اور مصنف ساگریکا گھوش نے فیص احمد فیض کی انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’وقت کس طرح بدلتا ہے۔ سی بی ایس ای نے اپنے نصاب سے فیض کی نظموں کو ہٹا دیا۔ سنہ 1981 میں اٹل بہاری واجپئی نے فیض احمد فیض کا گرمجوشی سے استقبال کیا تھا۔ وہ ان کی شاعری کے بڑے پُرستار تھے۔ اس وقت کسی کو بھی سرحد کے پار کی آواز کی تعریف کرنے پر ’ملک دشمن‘ نہیں سمجھا گیا۔‘

اسی طرح صحافی راجدیپ سردیسائی نے لکھا: جب آپ سکول کے نصاب سے ’جمہوریت اور تنوع‘ پر مبنی کسی باب کو ہٹا دیں گے تو آپ ایسی نئی نسل پیدا کریں گے جنھیں نہ جمہوریت اور نہ ہی ڈائیورسٹی میں یقین ہو گا۔‘

بہرحال بہت سے لوگ سی بی ایس ای کے فیصلے سے خوش بھی ہیں اور یہ لکھ رہے ہیں کہ جب مغلوں نے آپ کی تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کی تھی تو اس وقت آپ کی جمہوریت والی فکر کہاں تھی۔

بیرسٹر سوچترا وجین نے ایک سکرین شاٹ پوسٹ کیا ہے جس میں ان دس چیزوں کا ذکر ہے جسے سی بی ایس ای نے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور اس کے آخر میں لکھا ہے کہ ’آج آپ از سر نو لکھ سکتے ہیں، پھر سے بنا سکتے ہیں، کسی چیز کو مٹا سکتے ہیں، بلڈوز کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ یادوں اور تاریخ کے لینڈ سکیپ کو بھی۔‘

فضل الرحمان نے کہا کہ تعلیم میں اس طرح کی تبدیلی لا کر یہ لوگ بچوں کے ذہن سے ہی اس قسم کی چیزیں مہو کر دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کے بیانیے کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف تعلیم کے میدان میں بلکہ ہر شعبے میں اس طرح کی تبدیل کر رہے ہیں جس میں ان کے ایجنڈے درست بیٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند برسوں میں ٹی پر بچوں کے لیے جو کارٹون دیکھائے جا رہے ہیں اس میں بھی ایسے کردار ہیں جو مذہبی اساطیر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں تشدد کو سراہا جاتا ہے۔