مالی وسائل سے محروم افغانستان میں زندگی مشکل سے مشکل تر

    • مصنف, سکندر کرمانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل

پانچ سالہ فضل الرحمان کی گردن میں سٹیج فور ٹیومر ہے اور افغان ڈاکٹر کیموتھراپی کے ذریعے اس کی زندگی کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ کابل کے جمہوریت ہسپتال میں پڑے ہیں جہاں مریضوں کی تعداد زیادہ اور وسائل بہت کم ہیں۔ جمہوریت ہسپتال ملک میں تین بڑے ہسپتالوں میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی کینسر کے مریضوں کا علاج جاری ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہسپتال میں امداد کا کیا اثر ہو رہا ہے، اور مزید امداد کی کیوں ضرورت ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس فنڈز کی فراہمی کے لیے آگے بڑھی ہے۔ یہاں علاج بالکل مفت ہے لیکن اب مریضوں کو کچھ دوائیاں خود خریدنی پڑتی ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے اور فضل الرحمان کے والد عبد الباری کے لیے ایک سو ڈالر تک کمانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

وہ ہمیں بتاتے ہیں: ’میں ہر اس شخص سے پیسے ادھار لے رہا ہوں جن کو میں جانتا ہوں، تاکہ سفر، یہاں رہنے اور دوائی خریدنے کے لیے میرے پاس کچھ رقم ہو۔‘

اس سے قبل افغانستان میں، تقریباً 75 فیصد عوامی اخراجات غیر ملکی گرانٹس سے پورے کیے جاتے تھے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے غیر ملکی گرانٹس بند ہو گئی ہیں، البتہ انسانی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سے تقریباً نو ارب ڈالر کو منجمد کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں فنڈز اور نقدی دونوں کی کمی ہے۔

گذشتہ ہفتے ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ خوراک کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔

شمالی صوبہ تخار سے تعلق رکھنے والی 50 سالہ مزاریہ جیسے مریض اپنے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اپنی تمام چیزیں فروخت کر رہے ہیں تاکہ وہ ادویات خرید سکیں جو ماضی میں مفت فراہم کی جاتی تھیں۔

مزاریہ کہتی ہے: ’ہم کیا کر سکتے تھے، ہم مزدور ہیں۔۔۔ ہمارے پاس ایک گائے اور ایک گدھا تھا۔ ہم نے انھیں بیچ دیا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔‘

’ہم نے اپنے بھائیوں اور اپنے شوہروں کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں سے رقم ادھار لی ہے۔‘

ڈاکٹر منوچر کینسر وارڈ کے انچارج ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات ہسپتال کا عملہ مل کر غریب ترین مریضوں کی طرف سے دوائیوں کی ادائیگی کرتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں: ’بدقسمتی سے ہمارے پاس بجٹ نہیں ہے۔‘

درحقیقت ان کا بجٹ صفر ہے۔ ہسپتال کا یہ شعبہ صرف اس لیے چل رہا ہے کیونکہ ریڈ کراس تنخواہیں دیتا ہے اور کچھ ادویات خریدتا ہے۔ اس کے برعکس پچھلے سال ان کو منسٹری آف پبلک ہیلتھ سے دس لاکھ ڈالر ملے تھے۔

اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے چار ارب ڈالر کا تقاضہ کیا ہے۔

گذشتہ ماہ ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس میں افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے 4.4 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر پھر صرف 2.4 بلین ڈالر سے کچھ زیادہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔

یہاں زندگیاں بچانے کے لیے امداد کی اشد ضرورت ہے۔ مشکل کا شکار خاندان اپنی کم عمر بیٹیوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہیں۔

لیکن امدادی کارکن اور سفارتکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان کو مزید پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے فوری امداد سے کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ترقیاتی فنڈز کو دوبارہ شروع کرنا اور افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر منجمند کرنا ایسے مسائل ہیں جن سے عالمی برادری اب بھی نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاص طور پر جب طالبان کا رویہ دن بدن سخت گیر ہوتا جا رہا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے ملک کے بیشتر حصوں میں لڑکیوں کو دوبارہ سکول جانے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی وجہ سے عالمی ڈونز فنڈز فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ اسی اثنا میں معاشرے کے وہ افراد جو پہلے ہی کمزور تھے وہ دوسروں سے زیادہ تکلیف اٹھا رہے ہیں۔

ہم نے کابل کے مشرقی کنارے پر بے گھر خاندانوں کے کیمپ کا دورہ کیا ہے۔

وہ جس لڑائی کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر یہاں کیمپوں میں پہنچے تھے اب وہ لڑائی بند ہو چکی ہے۔ ان کا شکوہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کو دوبارہ لوٹ نہیں سکتے اور نہ ہی ان میں اپنے گھروں کو پھر سے تعمیر کرنے کی سکت ہے۔

بچے کمیونٹی کے زیرِ انتظام کلاس روم میں جمع ہوتے ہیں۔ قریبی سرکاری سکول مفت ہے، لیکن 12 سالہ پروانہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس یونیفارم خریدنے کی استطاعت نہیں ہے۔ اسے آخری بار سکول گئے ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ ’زندگی بدتر ہوتی جا رہی ہے، میری ماں کپڑے دھوتی ہیں لیکن وہ اتنا نہیں کما سکتیں کہ ہمارے لیے ضروری خوراک خرید سکیں اور اب وہ بیمار ہو رہی ہیں۔‘

جوں جوں شام ہوتی ہے، کابل کی بہت سی نان کی دکانوں کے باہر، خواتین اور بچوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کو فرش پر بیٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس امید پر کہ گاہک انھیں ایک یا دو روٹی خرید کر دیں گے۔

شہر کے شمال میں ایک سڑک پر جہاں ایک مقامی خیراتی ادارہ روزانہ روٹیاں تقسیم کرتا ہے، یہاں سو کے قریب لوگ جمع ہیں۔

ادھر مایوسی کی فضا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم امدادی کارکن ہیں اور اس امید پر کہ ہم ان کا نام عطیہ لینے والوں کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں، وہ اپنے شناخت کارڈ کی کاپیاں ہمارے سامنے لہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک کہتا ہے ’اگر آپ ہماری مدد نہیں کر رہے ہیں تو آپ یہاں کیوں ہیں؟‘

جوں ہی ہم وہاں سے روانہ ہوتے ہیں تو پیچھے سے ایک آواز سنائی دیتی ہے۔ ’میرے بچے کبھی کھانا کھاتے ہیں اور کبھی نہیں کھاتے۔‘