منگل پانڈے: انگریزوں کے خلاف بغاوت میں پہلی گولی چلانے والے سپاہی جن کی پوری رجمنٹ بطور سزا تحلیل کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہRAJ PUBLICATION
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ رپورٹ پہلی مرتبہ بی بی سی ویب سائیٹ پر 19 اپریل 2022 کو شائع ہوئی تھی جسے آج منگل پانڈے کے یوم پیدائش (19 جولائی 1827) کی مناسبت سے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔
19ویں صدی کے وسط میں کلکتہ سے 16 میل دور بیرک پور ایک پُرسکون فوجی چھاؤنی ہوا کرتی تھی۔ اس زمانے میں زیادہ تر ہندوستانی فوجی یہاں تعینات تھے اور وہیں برطانوی گورنر جنرل کی رہائش گاہ بھی تھی۔ سنہ 1857 کے آغاز میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انگریزوں کے خلاف بغاوت کا پہلا بگل اِسی چھاؤنی سے بجے گا۔
29 مارچ سنہ 1857 کو اتوار کا دن تھا۔ لیکن اتوار کی دوپہر کے سکون کو ایک سپاہی منگل پانڈے نے درہم برہم کر دیا۔
مشہور مؤرخ رودرانشو مکھرجی اپنی کتاب ’ڈیٹ لائن 1857 ریوولٹ اگینسٹ دی راج‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اُس وقت منگل پانڈے نے اپنی رجمنٹ کا کوٹ پہنا ہوا تھا لیکن پتلون کے بجائے وہ دھوتی پہنے ہوئے تھے۔ وہ ننگے پاؤں تھے اور ان کے پاس بھاری بھرکم بندوق تھی۔‘
’انھوں نے وہاں پہنچ کر سپاہیوں کو بہن کو گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ فرنگی یہاں پر ہیں۔ تم تیار کیوں نہیں ہو رہے ہو؟ اِن گولیوں (کارتوس کے خول) کو کاٹنے سے ہی ہم بے دین ہو جائیں گے۔ دین کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ تم لوگوں نے مجھے یہ سب کرنے پر اُکسا تو دیا لیکن اب تم میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہROLI BOOKS
رائفل کے نئے کارتوس بغاوت کی وجہ بنے
منگل پانڈے کے باغی رویے کی وجہ برطانوی فوج میں متعارف کروائی جانے والی ’انفیلڈ پی-53‘ رائفل میں استعمال ہونے والی گولیاں تھیں۔ سنہ 1856 سے پہلے ہندوستانی فوجی ’براؤن بیز‘ نامی بندوق استعمال کرتے تھے۔
مگر سنہ 1856 میں ہندوستانی فوجیوں کے استعمال کے لیے ایک نئی بندوق متعارف کروائی گئی لیکن اس بندوق کو لوڈ کرنے سے پہلے کارتوس کو دانت سے کاٹنا پڑتا تھا۔
ہندوستانی فوجیوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ ان رائفلوں میں استعمال ہونے والے کارتوسوں میں گائے اور سور کی چربی استعمال کی گئی ہیں۔ فوجیوں کا خیال تھا کہ اس سے (سور اور گائے کی چربی منھ میں لینے سے) اُن کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستانی فوجیوں میں یہ رائے عامہ بھی بن چکی تھی کہ انگریزوں نے دانستہ طور پر ہندوستانی سپاہیوں کو نیچا دکھانے کے لیے ایسا کیا ہے۔ اس کے پیچھے ایک اور کہانی بھی تھی۔
لیفٹیننٹ جے اے رائٹ نے منگل پانڈے کے مقدمے میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک بار ایک نچلی ذات کے خلاصی نے برہمن سپاہی کے برتن سے پانی پینے کی خواہش ظاہر کی۔ اس سپاہی نے اسے یہ کہتے ہوئے پانی پلانے سے انکار کر دیا کہ اس سے اس کا برتن ناپاک ہو جائے گا۔ اس پر نچلی ذات والے نے جواب دیا کہ جلد ہی تمہاری ذات نہیں رہے گی کیونکہ تمہیں سور اور گائے کی چربی سے بنے کارتوس کاٹنا ہوں گے۔ جلد ہی یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ حکومت ان کی ذات اور مذہب کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہROLI BOOKS
سپاہیوں نے نئے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کیا
دو فروری 1857 کو بیرک پور میں شام کی پریڈ کے دوران، دوسری مقامی انفنٹری کے سپاہیوں نے ان فیلڈ رائفلز میں استعمال ہونے والے کارتوسوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سفید فام افسروں کے وفادار سپاہیوں نے انھیں اطلاع دی کہ ہندوستانی سپاہی رات کو مل کر برطانوی افسروں کو مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ سب سے شدید احتجاج برہان پور میں تعینات 19 مقامی انفنٹری کے سپاہیوں کی طرف سے تھا۔
جب انھوں نے نئے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا تو انگریزوں کو ان کی مخالفت پر قابو پانے کے لیے توپ خانے کو بلانا پڑا۔
اسی دن ان فوجیوں نے بیرک پور میں ٹیلی گراف کے دفتر کو جلا دیا اور برطانوی افسروں کے گھروں پر تیر برسائے۔
جے ڈبلیو کے نے اپنی کتاب ’دی ہسٹری آف دی سپائی وار‘ میں لکھا کہ ’شاید اس کا تعلق اس مشہور افواہ سے بھی تھا کہ پلاسی کی جنگ کے سو سال بعد یعنی 1857 میں ہندوستان میں برطانوی راج ختم ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل پانڈے نے لیفٹیننٹ بو پر پہلی گولی چلائی
منگل پانڈے 22 سال کی عمر میں سنہ 1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال کی فوج میں شامل ہوئے۔ 15 اور 27 مارچ کے درمیان، منگل پانڈے نے ہنومان (ہندو بھگوان) اور شیو (ہندو بھگوان) کی مسلسل پوجا کی۔
29 مارچ کو شام 5:10 بجے جیسے ہی منگل پانڈے نے ہنگامہ شروع کیا، لیفٹیننٹ بی ایچ بو پریڈ گراؤنڈ پہنچ گئے۔
منگل پانڈے نے دیکھتے ہی اُن پر گولی چلائی جو اُن کے گھوڑے کی ٹانگ میں جا لگی۔ گھوڑا جیسے ہی لڑکھڑایا تو لیفٹینٹ بی ایچ بو اس پر سے گِر گئے، مگر واپس کھڑے ہوتے ہی لیفٹیننٹ نے منگل پانڈے پر جوابی فائر کیا جو انھیں نہیں لگا۔ بو کے پیچھے پیچھے سارجنٹ میجر ہیوسن بھی آ گئے۔
یہ بھی پڑھیے
پی جی او ٹیلر نے اپنی کتاب ’واٹ ریلی ہیپینڈ ڈیورنگ دی میوٹینی‘ میں لکھا کہ ’صورتحال کو دیکھ کر ہیوسن اور بو دونوں نے اپنی تلواریں نکال لیں۔ تلواروں کے علاوہ اُن کے پاس پستول بھی تھے۔ منگل پانڈے نے اپنی تلوار سے بو اور ہیوسن دونوں پر حملہ کیا۔ وہاں موجود تمام ہندوستانی سپاہی یہ تماشا دیکھتے رہے، ان میں سے شیخ پلٹو کے علاوہ کوئی بھی انگریز افسروں کی مدد کو نہ آیا۔ انھوں نے منگل پانڈے کی کمر کو پیچھے سے پکڑ لیا۔ جس کے نتیجے میں دونوں انگریز افسر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہNIYOGI BOOKS
ہندوستانی فوجیوں نے انگریز افسر کو دھکا دیا
ہیوسن نے بعد میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ’منگل پانڈے کا وار پوری طاقت سے مجھ پر نہیں پڑا۔ نتیجے کے طور پر، مجھے صرف ایک خراش آئی۔ لیفٹیننٹ بو منگل پانڈے کے براہ راست حملے کا نشانہ بن گئے۔ ان کی جیکٹ خون سے رنگی ہوئی تھی۔ لیکن اسی دوران ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر بندوق سے اس کی پشت پر ایک وار کیا جس سے وہ نیچے گر گیا۔‘
’میں اس سپاہی کو نہیں پہچان سکا لیکن میں دیکھ سکتا تھا کہ اس نے رجمنٹ کی وردی پہن رکھی تھی۔ میں نے اٹھتے ہی بائیں ہاتھ سے منگل کے کوٹ کا کالر پکڑ لیا۔ میں نے اسے اپنی تلوار سے کئی بار مارا۔ اس نے مجھ پر بھی تلوار چلائی اور میں زخمی ہو کر دوبارہ نیچے گر گیا۔ منگل نے اپنا بایاں ہاتھ ہمیں دھکیلنے کے لیے اور دایاں ہاتھ ہمیں مارنے کے لیے استعمال کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNIYOGI BOOKS
منگل پانڈے نے خود کو گولی مار لی
اسی دوران جائے وقوع پر 34 مقامی انفنٹری کے کمانڈنگ آفیسر کرنل ایس جی ویلر بھی پہنچ گئے۔ انھوں نے وہاں موجود سپاہیوں سے منگل پانڈے کو گرفتار کرنے کو کہا لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
رودرانشو مکھرجی لکھتے ہیں کہ ’بعد میں ویلر نے گواہی دی کہ میں مجبور محسوس کر رہا تھا۔ اسی وقت ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل ہیئرسی بھی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ جب ہرسے منگل پانڈے کی طرف بڑھ رہا تھا تو کسی نے چیخ کر کہا، اس کے پاس بھاری بندوق ہے۔ جب اس کے بڑے بیٹے نے اسے خبردار کیا کہ وہ آپ پر نشانہ لگا رہا ہے، تو ہیئرسی نے کہا ’جان، اگر میں مر گیا تو تم آگے بڑھ کر اس آدمی کو ختم کر دینا۔‘
اسی دوران ہيئرسی کوارٹر گارڈ پر اپنی پستول لہراتے ہوئے پہنچے اور انھوں نے اسے حکم دیا، میری بات سُنو۔ اگر کوئی سپاہی میرے حکم پر مارچ نہیں کرتا تو میں اسے اسی وقت گولی مار دوں گا۔ اس بار ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی، لیکن جیسے ہی تمام سپاہی منگل پانڈے کی طرف بڑھے، انھوں نے اپنی بندوق کی نلی اپنےسینے پر رکھ لی اور بندوق کے ٹریگر کو پیر سے دبا دیا۔
گولی ان کے سینے، کندھے اور گردن کو زخمی کرتے ہوئے نکل گئی اور اس کے کوٹ میں آگ لگ گئی۔ منگل پیٹ کے بل گر پڑے۔ ایک سکھ سپاہی نے ان کے جسم کے نیچے سے ان کی خون آلود تلوار نکالی۔ منگل کو فوراً گرفتار کر کے ہسپتال بھیج دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہNIYOGI BOOKS
شیخ پلٹو کی ترقی
شیخ پلٹو نے منگل کو پیچھے سے پکڑ تو لیا تھا لیکن وہ اس کا ہاتھ پکڑنے میں ناکام رہا۔ ایک بار جب اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو منگل نے اسے اپنی کہنی سے چوٹ پہنچائی۔
منگل پانڈے کا کورٹ مارشل شروع ہونے سے پہلے ہی پلٹو کو ترقی دے دی گئی تھی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران منگل پانڈے نے اعتراف کیا کہ اس پورے معاملے میں ان کا کوئی ساتھی ملوث نہیں تھا۔
اس سوال پر کہ کیا آپ فائر کرتے وقت نشے میں تھے، منگل نے کہا کہ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے بھنگ اور افیون کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ میں نے کس کو مارا ہے اور کس کو نہیں۔

،تصویر کا ذریعہNIYOGI BOOKS
منگل پانڈے کو پھانسی دی گئی
ان دنوں سفید فام افسر پر حملہ کرنا اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔
سپاہی نمبر 1446 منگل پانڈے کو اس حملے کے لیے موت کی سزا سُنائی گئی اور 8 اپریل سنہ 1857 کو صبح 5.30 بجے انھیں سپاہیوں کے سامنے پھانسی دے دی گئی۔ کسی بھی برطانوی افسر سے ان کے طرز عمل کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔
اس سے قبل منگل پانڈے کو پھانسی دینے کی تاریخ 18 اپریل مقرر کی گئی تھی لیکن انگریزوں کو لگا کہ کہیں یہ بغاوت دوسرے علاقوں تک نہ پھیل جائے اس لیے انھوں نے دس دن پہلے ہی منگل کو پھانسی دے دی۔ منگل پانڈے 1857 کی بغاوت میں مرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔

،تصویر کا ذریعہRUPA & COMPANY
جمعدار ایشوری پرساد کو بھی پھانسی دی گئی
رودرانشو مکھرجی لکھتے ہیں کہ ’اگرچہ اس کے پیچھے کوئی سازش نہ ہو، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شیخ پلٹو کے علاوہ کوئی ہندوستانی سپاہی انگریز افسروں کی مدد اور منگل پانڈے کو روکنے کے لیے آگے نہیں آیا، جب کہ وہ اس وقت تقریباً 400 فوجی یہ واقعہ براہ راست دیکھ رہے تھے۔‘
مزید پڑھیے
’جب سارجنٹ میجر نے وہاں موجود جمعدار ایشوری پرساد سے پوچھا کہ منگل کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا جواب تھا، میں کیا کر سکتا تھا، میں بے بس تھا۔ ان کے اس بیان کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں۔ نمبر ایک کہ وہ بھی اس منصوبے میں شامل تھے۔ دوسرا وہ چاہتے تھے کہ تمام سفید فام افسران جائے وقوعہ پر پہنچ جائیں اور تیسرے وہ جانتے تھے کہ منگل پانڈے کو باقی فوجیوں کی حمایت حاصل ہے اور ان پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔ انگریزوں نے اس کی بے بسی کی درخواست قبول نہیں کی اور انھیں بھی 21 اپریل 1857 کو پھانسی دے دی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہNIYOGI BOOKS
منگل پانڈے کو ساتھی فوجیوں کی حمایت
اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ منگل پانڈے کو وہاں موجود ہندوستانی فوجیوں کی حمایت حاصل تھی۔ بڑی تعداد میں فوجی وہاں موجود تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے نام پر انگریزوں کی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔
امریش مشرا اپنی کتاب ’منگل پانڈے دی ٹرو سٹوری آف این انڈین ریوولیوشنری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستان کے فوجیوں نے بھلے ہی کھلے عام بغاوت نہ کی ہو، لیکن ان کی اجتماعی بے عملی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے احتجاج اور انحراف کا موڈ بنا رکھا تھا۔ ان کے کام سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منگل پانڈے جو کچھ بھی کر رہے تھے، انھیں ان کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ جب ہیئرسی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بھاری بندوق سے ڈرتے ہیں تو وہ سب خاموش رہے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک نامعلوم فوجی نے ہیوزن کو اپنی بندوق کے بٹ سے مارا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سزا کے طور پر 34ویں رجمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا
ایک ماہ بعد مخالفت اور نفرت کا یہ اشارہ شمالی ہندوستان کی کئی فوجی چھاؤنیوں میں بغاوت کی شکل میں ظاہر ہوا اور برطانوی سپاہیوں نے باغی سپاہیوں کو منگل پانڈے کی ذات کے پنڈت کے نام پر ’پینڈیز‘ کے نام سے مخاطب کرنا شروع کر دیا۔
منگل پانڈے کی موت پر کلکتہ سے لے کر پٹنہ اور گنگا کے دوآبے میں سوگ منایا گیا۔
دس مئی کو میرٹھ میں بغاوت کے بعد منگل پانڈے کے دوست نقی علی نے ان کی راکھ ان کے گاؤں میں ان کی ماں کو سونپی۔
بعد ازاں، جب اپریل سنہ 1857 میں منگل پانڈے کی 34ویں رجمنٹ کو اجتماعی سزا کے طور پر تحلیل کر دیا گیا تو اس کے تمام سپاہیوں نے احتجاجاً اپنی ٹوپیاں زمین پر پھینک دیں اور پریڈ گراؤنڈ سے نکلنے سے پہلے انھیں پاؤں سے روندا۔










