مسلمان لڑکیوں کے اغوا اور ریپ کی دھمکی دینے والے شخص کی ویڈیو وائرل، گرفتاری کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہVideo Screenshot
انڈیا میں مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرنے اور ریپ کی دھمکیاں دینے والے شخص کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد پولیس نے اس شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اش شخص کا تعلق ریاست اترپردیش کے سیتا پور ضلعے سے ہے۔
ملزم بجرنگ منی داس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کا ریپ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
شوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو وایرل ہونے اور گرفتاری کے مطالبے کے بعد بجرنگ منی داس نے ایک ویڈیو پیغام میں معافی مانگی ہے۔ ملزم نے ویڈیو میں کہا ہے کہ وہ تمام ماؤں بہنوں سے معافی مانگتا ہے۔ ملزم نے کہا ہے کہ اگر اس کی کسی بات سے ماؤں بہنوں کو ٹھیس پہنچی ہے تو اسے معاف کر دیں۔ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کا احترام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ٹویٹ میں ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے جیل بھیجنے کے لیے ان کی ویڈیو وائرل کی جا رہی ہے اور یہ کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
ریاست میں خواتین کمیشن نے اتر پردیش کے ڈی جی پی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بجرنگ منی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا
سیتا پور پولیس کا کہنا ہے کہ بجرنگ منی کے خلاف مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اب کارروائی کی جائے گی۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بجرنگ منی کی یہ ویڈیو 2 اپریل کو ریکارڈ کی گئی تھی جب بجرنگ منی داس نے نوراتری اور ہندوؤں کے نئے سال کے موقع پر جلوس نکالا تھا۔
بجرنگ منی پر الزام ہے کہ جیسے ہی وہ مسجد کے سامنے پہنچا اس نے لاؤڈ سپیکر پر نفرت انگیز تقریر شروع کردی۔ جب سے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے، لوگ مسلسل اس کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا اس موقع پر وہاں موجود پولیسں والوں سے بھی سوال پوچھا جائے گا۔
جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ پولیس ہی ایسے لوگوں کو تحفظ دے رہی ہے۔







