اولڈ ایج ہوم میں رہنے والی خاتون نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو اپنا وارث کیوں بنایا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, راجیش ڈوبریال
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے دہرادون کی خوشحال کالونی دلان والا کے معروف سکول ویلہم (لڑکیوں) سے متصل پریم دھام آشرم میں منگل کی صبح سے ہی کافی چہل پہل تھی۔
وہاں جمع ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا میڈیا سے تعلق تھا جو یہاں رہنے والی 79 سالہ پشپا منجیال سے ملنے آئے تھے۔
پشپا منجیال کی آنکھوں میں اب روشنی نہیں رہی لیکن وہ اچانک بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آگئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو اپنی تمام جائیداد کا وارث قرار دیا ہے۔
ان جائیداد کی قیمت لاکھوں میں بتائی جارہی ہے جس میں 10 تولہ سونا بھی شامل ہے۔
ان میں کئی بینکوں کے 17 بینک ڈپازٹ سرٹیفکیٹ ہیں، جن کی قیمت تقریباً 20 لاکھ روپے ہے۔ انھوں نے ان سب دولت کا وارث راہل گاندھی کو بنایا ہے۔
ایسے وقت میں جب راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کو انتخابات میں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، پشپا منجیال کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو بحر تحیر میں ڈال دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAJESH DOBARIYAL
کانگریس رہنما کو سونپا گیا وصیت نامہ
پشپا منجیال نے پیر کو ریاست میں کانگریس کے سابق صدر پریتم سنگھ کو اپنی وصیت سونپی۔ واضح رہے کہ انھوں نے یہ وصیت 9 مارچ 2022 سے ہی تیار کرا رکھی تھی۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ یہ معاملہ اب روشنی میں آ یا ہے، لیکن پشپا پچھلے دس سالوں سے جو بھی بچت کر رہی تھیں، ان سب میں اپنا وارث راہل گاندھی کو ہی بنا رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشپا منجیال نے پریم دھام اولڈ ایج ہوم میں آنے والی یوگا ٹیچر سیما جوہر کے ذریعے کانگریس میٹروپولیٹن صدر لال چند شرما سے رابطہ کیا۔ شرما انھیں کانگریس کے سابق ریاستی صدر پریتم سنگھ سے ملاقات کے لیے لے گئے۔
شرما کے مطابق، پشپا منجیال 'راہل گاندھی کے خیالات سے بہت متاثر ہیں جن کے خاندان نے اس ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں' اور اسی لیے انھوں نے راہل گاندھی کو اپنا وارث منتخب کیا۔
بی بی سی ہندی سے بات چیت کرتے ہوئے پشپا منجیال نے بھی یہی وجہ بتائی۔
پشپا کہتی ہیں: 'راہل گاندھی کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہ غریبوں کے بارے میں بہت کچھ سوچتے ہیں۔ اگر ان (راہل گاندھی) کا بس چلے تو وہ جادو کی چھڑی گھمائیں اور تمام غریبوں کو امیر بنا دیں۔'

،تصویر کا ذریعہRAJESH DOBARIYAL
راہل گاندھی کو وارث بنانے کی وجہ
پشپا یہ بھی بتاتی ہیں کہ انھوں نے راہل گاندھی کی اچھائی کے بارے میں صرف ٹی وی پر سنا ہے۔ بہر حال وہ ان بارے میں زیادہ بات کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آئيں۔
لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے ایسا عطیہ دیا ہو۔ پشپا سنہ 1999 میں بطور ٹیچر ریٹائر ہوئیں، انھوں نے اپنی بچت سے 25 لاکھ روپے دون ہسپتال کو عطیہ کیے۔ لیکن اب وہ ہسپتال کے رویے سے خوش نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتی ہیں کہ 'اس رقم کا ہسپتال نے کیا کیا، یہ کبھی نہیں بتایا گیا، جبکہ عطیہ کرنے میں یہ شرط تھی کہ انھیں ہر سال خرچ ہونے والی رقم کے بارے میں معلومات دینا ہوں گی۔'
پشپا کے مطابق یہ بھی ایک وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے اثاثے چیف منسٹر یا وزیر اعظم ریلیف فنڈ کے بجائے راہل گاندھی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہRAJESH DOBARIYAL
ان کے ساتھ رہنے والوں نے کیا کہا؟
ویسے میڈیا میں پشپا منجیال کے نام پر جتنا چرچا ہوا، پریم دھام آشرم میں اتنی ہی خاموشی چھائی رہی۔
آشرم میں رہنے والی دیگر خواتین پشپا کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ زیادہ تر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اپنے کمرے میں رہتی ہیں اور کسی سے بات نہیں کرتیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک شخص نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ یہاں لوگ پشپا کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔
ان ملازمین کے مطابق 'ان کے رشتہ دار اس شہر میں رہتے ہیں لیکن انھوں نے کبھی کسی کی مدد نہیں کی۔ وہ بہت بخیل ہیں۔'
پریم دھام آشرم ایک مسیحی خیراتی ادارہ چلاتا ہے جسے 'فرانسسکن سسٹرز آف آور لیڈی آف گریس' کہا جاتا ہے۔
پشپا کو خوش رکھنا آسان نہیں
آشرم کی انچارج سسٹر انجلین نے بتایا کہ پریم دھام اولڈ ایج ہوم سنہ 1990 سے چل رہا ہے۔ اس کی سب سے پرانی رکن پشپا ہیں۔ وہ اس آشرم میں گزشتہ 23 سالوں سے رہ رہی ہیں۔
اس وقت آشرم میں 29 خواتین اور ایک مرد رہتے ہیں جبکہ یہاں 40 لوگوں کے رہنے کی گنجائش ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAJESH DOBARIYAL
پریم دھام آشرم میں ہماری ملاقات کویتا سے ہوئی۔ کویتا پچھلے کچھ عرصے سے آشرم کے بوڑھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے آ رہی ہیں۔ وہ ان عورتوں کی باتیں سنتی ہے اور اپنے دکھ بھلا کر خدا سے لو لگانے کی تلقین کرتی ہیں۔
کویتا کے خیال سے آشرم میں انتظامات بہت اچھے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ پشپا منجیال کو خوش رکھنا آسان نہیں ہے۔ اولڈ ایج ہوم میں خواتین سے بات چیت کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ ایک بار پشپا نے دہرادون کے ضلع مجسٹریٹ سے کھانے کی شکایت کر دی تھی۔
وہ کھانا لے کر ضلع مجسٹریٹ کے دفتر پہنچ گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کھانے اور پانی میں مٹی ملائی جاتی ہے۔
بہر حال اس وقت ہونے والی تحقیقات میں ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر پشپا منجیال کو بہت سے لوگ سراہتے نظر آ رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ جب تک اس جیسی فکر والی خواتین ہیں اس وقت تک انڈیا کا مستقبل تابناک ہے۔
ویجو چیرین نامی ایک صارف نے لکھا کہ کانگریس آج کہیں زیادہ اچھی پوزیشن میں ہوتی اگر ان کے رہنماؤں کو راہل گاندھی میں اس کا نصف بھروسہ بھی ہوتا جتنا پشپا منجیال کو ہے۔











