اسلاموفوبیا پر قرارداد کی مخالفت: ‘انڈیا نے مخالفت اس لیے کی کہ کل کو اُن پر بھی انگلیاں اٹھیں گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن مقرر کیا ہے۔ دنیا بھر میں مذہبِ اسلام کے پیروکاروں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کو روکنے کے لیے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اس حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ اس قرارداد کو او آئی سی کے 57 ملکوں کے علاوہ آٹھ دیگر ملکوں نے بھی سپانسر کیا تھا جن میں چین اور روس بھی شامل تھے۔
لیکن انڈیا نے اس قرارداد کی منظوری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ میں انڈیا کے نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ اس قرارداد سے ہندو، سکھ اور بودھ جیسے دیگر مذاہب کے خلاف ہونے والا تشدد، تفریق اور نفرت نظر انداز ہو جائے گی۔
کیا وجہ ہے کہ انڈیا جیسا ملک جہاں کروڑوں مسلمان بستے ہیں، ایک ایسی قرارداد کی مخالفت کر رہا ہے جس کا مقصد کسی مذہب کے لوگوں کے خلاف تشدد اور نفرت کو روکنا ہے؟
اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد میں کیا کہا گیا ہے؟
پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے قرارداد کو پیش کرتے ہوئے کہا ’اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے۔ یہ رحجان دنیا کے کئی علاقوں میں بڑھ رہا ہے۔ اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا دنیا کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں، تفریق اور تشدد کی شکل میں نظر آتا ہے۔ پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اس طرح کا تشدد، تفریق اور معاندانہ برتاؤ مسلمانوں کے حقوقِ انسانی کی شدید پامالی کا باعث ہے، اور اس سے مسلم ملکوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔‘
تاہم انڈیا کا موقف ہے کہ یہ قرارداد ایک مخصوص مذہب ک خلاف تو آواز اٹھاتی ہے مگر اس سے دیگر مذاہب کے لوگوں کو نشانہ بنائے جانے کو نظر انداز کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں انڈیا کے نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ ’ایک مذہب کو اجاگر کرنا ایک الگ بات ہے اور ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت مخالف دن منانا ایک بالکل مختلف بات ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس قرارداد سے تمام دیگر مذاہب کے خلاف ہونے والی نفرت اور تشدد کی سنگینی دب کر رہ جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹی ایس تریمورتی نے ہندو، سکھ ، اور بودھ مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف نفرت اور تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں ہندوازم کے ایک کروڑ 20 لاکھ پیروکار ہیں، بودھ مذہب کے 53 کروڑ ماننے والے ہیں اور تین کروڑ سے زیادہ سکھ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ صرف ایک مخصوص مذہب نہیں بلکہ ہر مذہب نفرت اور تشدد کا شکار ہے۔‘
‘کل کو ان پر بھی انگلیاں اٹھیں گی‘
انڈیا کے معروف صحافی اور تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد ایک اچھا قدم ہے مگر انڈیا کو اس قرارداد پر اس لیے تشویش ہے کیونکہ کل اس کے اوپر بھی انگلیاں اٹھیں گی۔
’انڈیا ایک طرف مذہبی برابری، جمہوریت اور رواداری کی بات کرتا ہے اور دوسری جانب شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) جیسا مذہبی تفریق پر مبنی قانون پاس کرتا ہے۔ ملک کی جمہوریت کو اکثریتی مذہب کے پیرائے میں ڈھالا جا رہا ہے۔ اور اقوام متحدہ میں رواداری کی بات کی جا رہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انڈیا نے چند مہینے قبل بھی اقوام متحدہ میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ مذہبی نفرت کا رجحان صرف ابراہیمی مذاہب کے خلاف ہی نہیں بلکہ ہندو، بودھ اور سکھ مذہب کے خلاف بھی پھیل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے سفیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بامیان میں گوتم بدھ کے قدیم مجسمے کا انہدام، گردواروں کی بے حرمتی، گردواروں میں سکھوں کا قتل عام، مندروں پر حملے اور مندروں کی مورتیوں کو منہدم کرنے کا جشن منائے جانے جیسے واقعات غیر ابراہیمی مذاہب کے خلاف مذہبی نفرت کی عصری شکل ہیں۔
انڈیا کے روز نامہ 'دی ہندو' کے معروف تجزیہ کار امت بروا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے اسلاموفوبیا کی قرارداد کے حوالے سے بڑی عجیب وغریب پوزیشن لی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘اسلاموفوبیا ایک سنگین معاملہ ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے کہ یہ اب دنیا کے سنٹر سٹیج پر ایک گمبھیر مسئلے کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔ اسلاموفوبیا پر توجہ مرکوز نہ ہونے کا ایک اہم سبب دہشت گردی تھا۔‘
تاہم امت بروا کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد سے کہیں زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا کے ممالک اپنے اپنے ملکوں میں اسلاموفوبیا پر قابو پانے کے لیے اس کے خلاف سخت قوانین بنائیں۔
انھوں نے انڈیا کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘جہاں تک ہندو اور سکھ مذہب کے خلاف مذہبی نفرت کا سوال ہے وہ زیادہ تر مغربی ملکوں کی کم علمی کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘انڈیا نے یہ پوزیشن ملک کی ڈومیسٹک آڈیئنس کو پیغام دینے کے لیے اختیار کی ہے۔‘
انڈیا میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں اور ملک کی آبادی میں تقریباً چودہ فیصد ہیں۔ انڈونیشا اور پاکستان کے ساتھ انڈیا مسلم آبادی والے سب سے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں میں بی جے پی کی حکومت آنے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور مذہبی نفرت کے واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
کچھ عرصے سے اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور بعض عرب ممالک بھی انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کے سوال پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔













