آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں تو دلی محبت کے لیے آیا تھا`، انسٹاگرام کے مورخین جو اپنے شہر کا ماضی نئی نسل کو دکھا رہے ہیں
- مصنف, زویا متین
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
عمیر شاہ سات برس کے تھے جب پہلی بار ان کا تاریخ سے آمنا سامنا ہوا۔ ان کی ملاقات اپنے آبائی شہر کولکتہ میں ایک ایک شخص سے ہوئی جو سکے جمع کرتا تھا۔ عمیر کی بھی اس مشغلے میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور وہ بھی نایاب سکے جمع کرنے لگے۔
جیسے جیسے اس کی کلیکشن بڑھتی گئی، عمیر نے ان سکوں پر بنی سلطنتوں کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔
وہ کہتے ہیں ’میں 16 سال کی عمر میں ان جگہوں اور لوگوں کے لیے دیوانہ وار محبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔‘
27 برس کے شاہ اب دہلی میں رہتے ہیں جہاں وہ فیشن برانڈز کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کام کرتے ہیں۔ لیکن آج بھی وہ سکے جمع کرتے ہیں۔
وہ انسٹاگرام پر تاریخ کے حصوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔
تاریخ کو محض سنیپ شاٹ کی صورت میں انسٹاگرام پر لے جانا اس کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ عمیر ان انسٹاگرام پوسٹوں پر جو موسیقی لگاتے ہیں ان کے اشعار میں تاریخی حقائق کا ذکر ہوتا ہے۔ ان میں ایسی دلچسپ کہانیاں ہوتی ہیں جن میں ہم وفات پا چکے شہنشاہوں، ظالم جنوں اور سلطنتوں کو ختم کرنے والی بغاوتوں کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ عام طور پر یہ تقریباً 300 الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
شاہ کہتے ہیں ’جب میں کسی کھنڈر کو دیکھتا ہوں، تو میرا دماغ اس ڈھانچے کو اس وقت کی زندہ یادوں کے طور پر بنانے کی کوشش کرتا ہے جب اسے بنایا گیا تھا۔ اور میں فوری طور پر اس کی کہانی سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔‘
برسوں سے دہلی کی تاریخ، تاریخدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شاہ جیسے اور لوگوں کو ڈھونڈا جائے جو شہر کو دوبارہ دریافت کر رہے ہیں اور اس کے دلچسپ ماضی کو انسٹاگرام پر بیان کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور اپنی اس کاوش میں عمیر شاہ اکیلے نہیں ہیں۔
سنیپ ڈیل کے ساتھ کام کرنے والے 34 سالہ رامین خان ان مشہور مقامات کے لیے انڈیا کے دارالحکومت منتقل نہیں ہوئے، وہ تو یہاں محبت کے لیے آئے تھے۔
لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ شہر یقینی طور پر ان کے لیے ’کسی خوبصورت چیز کا آغاز‘ رہا ہے، ایک ایسا جذبہ جو دہلی کے بعد انھیں 10 ریاستوں میں لے گیا، جس کی تفصیلات وہ اپنے انسٹاگرام پیج سٹی ٹیلز پر پوسٹ کرتے ہیں۔
شاہ اور خان دونوں چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے ماضی سے عشق کرنے لگیں۔
شاہ کہتے ہیں ’زیادہ تر لوگ یادگاروں پر سیلفی لینے یا ریل پر ڈانس کرنے جاتے ہیں، مگر میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ سمجھیں کہ اس جگہ میں اور کیا کچھ موجود ہے۔‘
انسٹاگرام پر ان کے لاکھوں فالورز ہیں۔ اور وہ رانا صفوی جیسے نامور مورخین سے بھی تعریف سمیٹ چکے ہے۔
صفوی کہتی ہیں ’ہمیں ماضی کو حال سے جوڑنے اور مورخین کی طرف سے کی گئی تمام تحقیق آسان فارمیٹ میں دکھانے کے لیے ان جیسے انسٹاگرامرز کی ضرورت ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ جو کر رہے ہیں، بہت خوبصورت ہے۔‘
’ہم سب سیکھتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہمارے کام میں بہتری آتی جاتی ہے اور میں نے انھیں اپنے تجربات اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتے دیکھا ہے۔‘
دہلی کے ہر کونے میں تاریخ ہے، یہ شاندار قلعوں سے لے کر خوفناک مقبروں تک تاریخ سے بھرا ہوا ہے۔
ہر سال دھند کے باوجود موسم سرما اس شہر کی دلکشی میں اضافہ کرتا ہے۔ ایسے دن بھی آتے ہیں جب دھوپ کی ہلکی ہلکی چمک سونے کے پاؤڈر کی طرح شہر پر پڑتی ہے، یہ وسیع و عریض باغات سے گھرے شاندار مقبروں کو تلاش کرنے کے لیے بہترین وقت ہے۔
موسم سرما کی ایسی ہی ایک دوپہر کو شاہ اور خان نے شہر کے مہرولی آرکیالوجیکل پارک کے دورے پر آئے دو الگ الگ گروپس کی رہنمائی کی، حال ہی میں انھوں نے یہ کام شروع کیا ہے۔
تقریباً 200 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا اور تقریباً 100 پتھروں کے کھنڈرات اور مقبروں کے ساتھ، مہرولی ان سات شہروں میں سے ایک ہے جو مل کر اب دہلی کا حصہ ہیں۔
خان نے کہا کہ ’زیادہ تر لوگ ان یادگاروں کو تاج محل یا قطب مینار جیسی اہمیت نہیں دیتے حالانکہ ایسا ہونا چاہیے۔‘
قطب مینار، شہر کی مشہور یادگاروں میں سے ایک، صرف چند میٹر کے فاصلے پر ہے اور عام طور پر زائرین سے بھرا رہتا ہے۔
صدیوں پر محیط فن تعمیر کے ساتھ، تغلقوں سے لے کر لودھیوں، مغلوں سے لے کر انگریزوں اور یہاں تک کہ راجپوتوں تک، وہ کہتے ہیں کہ یہ شہر اپنے ماضی میں انمول راز لیے ہوئے ہے۔
لیکن مہرولی میں اسی دن یہاں کچھ لوگ کرکٹ کھیلنے آئے ہیں اور ان کی چیخیں کبھی کبھار دوپہر کی خاموشی کو توڑ دیتی ہیں۔
یہاں غفلت کے آثار نمایاں ہیں۔
ہر جگہ جنگلی جھاڑیوں سے بھری پڑی ہے۔ قدیم صحنوں میں کئی لوگ لکڑیاں جلاتے اور تمباکو نوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اگر آپ خستہ حال لیکن خوبصورت سیڑھیوں کے اندر دیکھیں تو کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں۔
خان کہتے ہیں کہ ناقص دیکھ بھال کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ دلچسپی اور معلومات کی کمی ہے۔
خان نے کہا کہ ’لوگ تاریخ کو بورنگ اور خشک موضوع سمجھتے ہیں، اس لیے وہ کبھی بھی سیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ مہرولی کی طرف اس لیے کھینچے آئے کیونکہ وہ بھولی ہوئی یادگاروں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اور وہ ایسی ہی اور جگہیں تلاش کرنا چاہتے تھے، تاکہ وہ ان کے بارے میں آگاہی پھیلا سکیں۔
خزانے تلاش کرنے والے شکاری کی طرح وہ بھی نقشہ استعمال کرتے ہیں لیکن گوگل پر۔
اور اس نے انھیں کچھ غیر متوقع مقامات دکھائے ہیں۔ جس میں ان کی پسندیدہ: پڑوسی ریاست ہریانہ میں 15ویں صدی کی مسجد ہے جو اب ایکسرکاریاسکول میں تبدیل ہو چکی ہے۔
’جب میں ان کم جانی جانے والی جگہوں کے بارے میں پوسٹ کرتا ہوں تو لوگ پرجوش ہو جاتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ انھیں بھی مزید جاننے پر مجبور کرے گا۔‘
شاہ نے بھی کئی اہم مقامات ڈھونڈے ہیں۔
مہرولی میں یہ ایک دو منزلہ مغل مقبرہ ہے، اس کی ٹائلیں اور نقش و نگار اب گندگی سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے سے وکٹورین فن تعمیر کے آثارمعلوم ہوتے ہیں۔
شاہ کہتے ہیں کہ اس ’ناقابل معافی حماقت‘ کے پیچھے ایک برطانوی ایجنٹ تھامس میٹکالف ہے، جس نے مقبرے میں ترمیم کی اور اسے "مہمانوں کے لیے ایکریزورٹ" کے طور پر استعمال کیا۔
شاہ نے ہنستے ہوئے کہا ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دہلی کا پہلا B&B تھا۔‘
شہر کے دوسرے سرے پر وسیع و عریض پرانا شہر شاہجہان آباد یا پرانی دہلی واقع ہے۔ سابقہ مغل دارالحکومت تنگ گلیوں، الگ الگ مکانات اور چھوٹی دکانوںکی بھول بھلیا ہے - اور ہندوستان کے سب سے مشہور فن تعمیر کا مرکز ہے، جس میں لال قلعہ اور جامع مسجد شامل ہیں۔
28 سالہ ابو سفیان جامع مسجد کے قریب رہتے ہیں اور میڈیا کنسلٹنٹ ہیں۔ لیکن اپنے فارغ وقت میں وہ ایک انسٹاگرام پیج چلاتے ہیں - پرانی دلی والاوں کیباتیں یا ان دی ورڈز آف پرانی دہلی۔
وہ اپنے 84,000 فالورز کو ان گلیوں میں گرتی ہوئی عمارتوں کے بیچ بہت سی حویلیوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ شاندار جین مندر؛ اور ان گلیوں میں فروخت ہونےوالے بہت سی پکوانوں کے پیچھے کی کہانیاں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتے ہیں ’صرف ایک چیز ہے جو مجھے یہ کرنے کی تحریک دیتی ہے اور وہ ہے شہر کے لیے جذبہ۔‘
صفوی کا کہنا ہے کہ وہ ’پرانی دہلی کو اپنے ہاتھ کی پشت کی طرح جانتی ہیں۔‘
’میں نے شاہجہان آباد پر اپنی کتاب کے لیے ان کے ساتھ کافی تلاش کی ہے اور اس کا متعدد بار ذکر کیا ہے۔‘
جہاں شاہ اور خان ان پتھروں اور ستونوں کی طرف متوجہ ہیں جو مل کر ایک یادگار بناتے ہیں، وہیں سفیان کی دلچسپی کا مرکز وہ لوگ ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں آتے ہیں - مقامی لوگ، سیاح اور تاریخ کے دیگر شائقین۔
ایک ٹور میں کئی سٹاپ شامل ہوتے ہیں جب وہ راستے میں لوگوں کو سلام کرنے رکتے ہیں، یا ان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے تجسس سے بھرے چہرے کے ساتھ کسی عمارت میں داخل ہوتے ہیں۔
سفیان کہتے ہیں، '’دہلی نہ ختم ہونے والے رازوں کا شہر ہے۔ ہمارے لیے بہت سا کام باقی ہے۔ لیکن فی الحال، ایک وقت میں ایک ہی گلی۔‘