مغل فن مصوری: چاول پر چوگان کا میدان

    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

مغلوں کی تاریخ کے اوراق الٹنے کے بعد یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مغل فن مصوری ہندوستانی فن مصوری کی تاریخ میں نہ صرف حسین حادثہ ہے بلکہ ایک حسین اضافہ بھی ہے۔

وہ چیزیں جو مغلوں کے ہاتھوں رواج پائيں اور ان کی سرپرستی کی پناہ میں آئيں ان میں تزئین کاری اور شبیہ سازی قابل ذکر ہیں۔ مغل فن مصوری نے کئی تاریخی مراحل طے کیے اور کئی خاندانوں کے ہاتھوں ترقی کے ان مدارج کو پہنچی۔

منگولوں سے اگر فن مصوری کا آغاز ہوا تو تیموروں نے اسے اپنے خون سے سینچا اور ایران کے صفوی بادشاہوں نے اس کی ناز برداری کی۔

14 ویں صدی سے 16 ویں صدی تک ایران کی فن مصوری تزئین کاری تک محدود تھا کیونکہ درباروں میں کتابوں کی تزئین کا رواج عام تھا۔ اس دور میں ہرات اور بخارا اس کا مرکز رہے۔ عباسی خاندان کے حکمرانوں نے اس فن کو آگے بڑھایا۔

منگولوں کے متواتر حملوں سے علوم و فنون کی ترویج میں بڑی رکاوٹ آئی، سیاسی انتشار نے لوگوں کے سکون کو درہم برہم کر دیا لیکن جلد ہی ان کی تلواریں نیام میں چلی گئیں۔ درباروں میں فنون پر دسترس رکھنے والے جمع ہوئے اور پھر ایک بار سمرقند اور بخارا ماہرین فن سے بھر گيا۔

بابر فنون لطیفہ کا بڑا دلدادہ تھا۔ شاعری، مصوری اور فلسفے میں اسے بڑی دلچسپی تھی۔ تزک بابری میں اس نے ایران کے مشہور مصور بہزاد کے قلم کی بڑی تعریف کی ہے۔ بابر کا یہ ذوق موروثی تھا۔ تیمور کی طرح وہ بھی جلال و جمال کا پرستار تھا۔

افسوس کہ زندگی کی رزم آرائيوں نے اسے مہلت نہیں دی اور جب ماہرین فن کی سرپرستی کا وقت آيا تو اس نے صدائے اجل کو لبیک کہا۔

ہمایوں بھی اپنے والد بابر کی طرح جمالیات کا دلدادہ تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ ایک خوبصورت سی فاختہ کہیں سے آ نکلی۔ شہنشاہ نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور مصوروں کو بلواکر اس کی تصویر بنائی اور پھر اسے آزاد کر دیا۔ ایران کے دور اقامت میں ہمایوں کی کئی نامور مصوروں سے ملاقات ہوئی جو بعد میں ان کی دعوت پر ہندوستان آئے اور یہیں سے مصوری کے ایک نئے سکول کی ابتدا ہوئی ہے جو بعد میں مغل فن مصوری کے نام سے مشہور ہوئی۔

ایرانی مصوروں نے مصوری کے ایسے معجزے دکھائے کہ اگر حادثات زمانہ اور انقلابات وقت سے محفوظ رہ جاتے تو لوگوں کو محو حیرت بنائے رہتے۔ میر سید علی اور عبدالصمد نے چاول کے دانے پر چوگان کا پورا میدان دکھایا جس میں تماشائیوں سمیت کھلاڑیوں اور گھوڑوں کی شبیہیں تھیں۔

عبدالصمد نے ہندوستانی مصوروں کی مدد سے داستان امیر حمزہ کی تزئین کا کام سر انجام دیا اور بادشاہ سے نادرالعصر کا خطاب حاصل کیا۔ اس میں کل ملا کر 1375 تصاویر ہیں۔

بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں فن مصوری کی بھی تجدید ہوئي۔ ایرانی اور ہندوستانی مصوروں کی اتنی بڑی تعداد اس سے قبل کبھی کسی دربار میں اکٹھا نہیں ہوئي تھی۔ دو مختلف مزاج کے مصور جب مل بیٹھے تو ان کے قلم میں یکسانیت آئی اور اکبر کا دربار فن مصوری کا گہوارہ بن گيا۔

اکبر کے عہد کی معروف کتاب آئين اکبری میں اس کا مفصل ذکر ہے۔ اکبر نے درباری مصوروں کو اپنے دادا کی کتاب بابر نامہ کی تزئین کا کام سپرد کیا اور تزئین کاری کو فروغ دیا۔ رزم نامہ، تیمور نامہ، خمسۂ نظامی اور بہارستان کی تزئين کاری اکبری عہد کا انمول خزانہ ہیں۔

جمال پرست بادشاہ جہانگیر زندگی کو حسن کے آئینے میں دیکھنے کا قائل تھا اور کم و بیش شاہجہاں کی بھی یہی حالت تھی۔ جہانگیر کو شراب و جام سے بہت قرب حاصل رہا چنانچہ اس زمانے کی مصوری میں یہی علامتیں جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

شاہجہانی دور میں طلائی کا کام ہویدا ہوا۔ معروف مورخ بنارسی پرشاد سکسینہ کا خیال ہے کہ تصویروں میں طلائی کاری اثر فن تعمیر کے زیر اثر آيا کیونکہ شاہجہاں نے تاج محل کی تعمیر میں طلائی کاری پر بڑا زور دیا تھا۔

شاہ جہاں کی طرح ان کا بڑا لڑکا دارا شکوہ بھی مصوری کا بڑا دلدادہ تھا اور ان کا مرقع انڈو ایرانی فن میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اورنگزیب کو ذاتی طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن دربار کے امرا میں اس فن کا چرچا تھا۔ اورنگزیب کے قیام دکن نے بہت سے لوگوں کو دکن کا ساکن بنا دیا۔ پیسہ حاصل کرنے کے لیے مصوروں نے عوام کی دلچسپی کی چیزیں بنانا شروع کیں تاکہ فروخت میں آسانی ہو۔

اس طرح دکن میں مصوری کے ایک نئے سکول کی ابتدا ہوئی اور فن مصوری دربار سے نکل کر عوام تک پہنچا۔ دکن کے علاوہ مصوروں کے کئی کنبے مختلف سمتوں پر نکل پڑے جن میں سے کچھ اودھ کے دربار میں آ گئے، کچھ پٹنہ چلے گئے اور کچھ اورنگ آباد اور حیدرآباد چلے گئے۔

مغلوں کے زوال کے ساتھ مغربی فن مصوری کا عروج ہونے لگا۔ در حقیقت مغل فن مصوری کی کہانی ہندوستانی تاریخ سے کم دلچسپ نہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔