اکبر نے رات میں روشن گیند سے چوگان کو متعارف کرایا

    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

صدیوں پہلے تین ہزار سال قبل مسیح چوگان مشرقی ہندوستان کی ریاست منی پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں قبائیلیوں کی تفریح کا سامان تھا۔ پہاڑی علاقے میں چھوٹی نسل کے گھوڑے اور ٹٹو یا خچر آسانی سے دستیاب تھے۔ کھلی فضا میں گھوڑے دوڑانا اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔

انیسویں صدی کے اوائل میں انگریز افسروں نے اسے منظم شکل دینے کی کوشش کی سنہ 1854 میں انگریزی فوج کے ایک افسر نے سلچر میں پہلا چوگان کا ميچ منعقد کرایا اور اس سے تین سال قبل وہیں اولین مکب کا افتتاح ہوا تھا۔

ہندوستان میں مسلمان سلاطین نے چوگان کو ملک کے مختلف علاقوں میں مروج کیا۔ دسویں گیارھویں صدی میں غزنوی خاندان جو افغانستان اور پنجاب میں حکمراں تھے چوگان بڑے شوق سے کھیلا کرتے تھے۔ بعد ازاں لودھی خاندان کے حکمرانوں نے بھی چوگان کو شاہی سرپرستی دی۔ سکندر لودھی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چوگان کے بے حد شوقین تھے۔

چوگان کے لیے اعلی نسل کے گھوڑے ترکستان اور ایران سے مغل بادشاہوں کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔ قطب الدین ایبک ہندوستان کے پہلے بادشاہ ہوئے جن کی زندگی اسی کھیل کی نذر ہوئی ہے۔

ہندوستان میں بابر کی آمد نے چوگان کو شاہی کھیل کا درجہ دیا۔ وسط ایشیا کے خانہ بدوش چوگان کے ماہر ہوا کرتے تھے۔ کھیل کو قواعد و ضوابط کے بجائے کھیل ان کے لیے اہمیت رکھتے تھے اور سو سو لوگوں کی جماعت ایک دوسرے کے خلاف گھنٹوں چوگان کھیلا کرتی تھی۔

مغل بادشاہ اکبر نے مختلف کھیلوں اور تفریحات کو فروغ دیا اور اس کے ذریعے وہ لوگوں کی پہچان کرلیا کرتے تھے۔ نااہل سزا کے مستحق ہوتے تھے اور اہل انعام و اکرام سے نوازے جاتے تھے۔ اس طرح شاہی دربار عقل مند، حاضر دماغ لوگوں کی آماجگاہ تھا۔

اکبر خود چوگان کے دلدادہ تھے۔ تاریک راتوں میں وہ پلس کے پتوں سے بنی چمکدار روشن گیند سے چوگان کا لطف اٹھاتے تھے۔ چوگان کھیلنے کی چھڑی کا آخری سرا چاندی سے منھا جاتا تھا۔ اب چوگان قواعد و ضوابط کے ساتھ کھیلا جانے لگا اور اس کا انتظام ایک افسر کے سپرد ہوا۔

چوگان کی بازی صرف امرا اور وزرا تک محدود نہیں تھی بلکہ حرم کی خواتین اور شہزادیاں بھی اس کھیل کو بڑی مہارت کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ ملکہ نور جہاں چوگان کی ماہر کھلاڑی تھیں۔ حرم کی شہزادیاں جب گھوڑے دوڑاتی چوگان کی گیند کا پیچھا کرتیں تو ایک دلفریب سماں بندھ جاتا تھا اور دربار کے مصور و نقاش اس منظر کو قید کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ آج بھی دنیا کے بعض کتب خانوں میں ان کی تصاویر کے قلمی نسخے موجود ہیں۔

کھیل دنیا کی ہر تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ہر کھیل چاہے وہ گھر کی چاردیواری میں کھیلا جائے یا گھر سے باہر کھلے میدان میں کھیلنے والے کی قابلیت اور حاضر دماغی کا آئینہ ہوتا ہے۔

ہندوستان میں انگریزی حکومت کے سربراہوں نے چوگان کے کھیل کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور اسے آگے بڑھایا۔ آج چوگان اعلی حیثیت کے لوگوں میں دنیا کے بیشتر ممالک میں بڑے شوق سے کھیلا جاتا ہے۔

چوگان کے گھوڑوں کی پرورش اور تربیت پر بہت پیسے خرچ ہوتے ہیں اور ہر ریاست اس مقابلے کو جیتنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ یہ ان کے لیے باعث افتخار ہوتا ہے۔

عصر حاضر کی بھاگ دوڑ میں اگر جدید ورزش خانوں میں وقت گذارنے کے بجائے کھلی ہوا میں چوگان کا لطف لین تو جسمانی اور دماغی اعتبار سے صحت مند رہیں گے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔