داؤد ابراہیم: منی لانڈرنگ کیس میں داؤد ابراہیم سے مبینہ طور پر منسلک افراد اور مقامات پر چھاپے

داؤد ابراہیم

،تصویر کا ذریعہPTI

انڈیا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے ایک کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں انڈیا کو مطلوب ترین افراد میں شامل داؤد ابراہیم سے مبینہ طور پر منسلک افراد اور کاروباروں پر چھاپے مارے ہیں۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ای ڈی حکام کی ایک ٹیم نے منگل کی صبح داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ ان چھاپوں کے دوران ایک شخص کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق تقریباً دس مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں جن میں سے نو مقامات ممبئی میں ہیں جبکہ ممبئی سے ملحقہ علاقے میں بھی ایک جگہ چھاپہ مارا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے ایک سیاست دان بھی داؤد ابراہیم کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وجہ سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے نشانے پر ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

خبررساں اداروں کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ داؤد ابراہیم کے ساتھ ریاست کے رہنماؤں اور مبینہ معاونین کے درمیان رقم کے لین دین کی بھی جانچ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً 15 دن پہلے انڈیا کی قومی تفتیشی ایجنسی، این آئی اے، نے داؤد ابراہیم پر انڈیا میں دہشت گردی پھیلانے اور انڈیا میں مبینہ طور پر اُن کے لیے کام کرنے والے بعض افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

اس ایف آئی آر میں کن شخصیات کا نام شامل ہے اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے لیکن انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریاست مہاراشٹر میں برسراقتدار جماعت شیوسینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے کہا ہے کہ اگر ان ایجنسیوں کے پاس واقعی ایسی معلومات ہیں جو ملک مخالف ہیں تو اس معاملے میں ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

سنجے راؤت

،تصویر کا ذریعہAni

،تصویر کا کیپشنشیو سینا رہنما اور ترجمان سنجے راؤت

سنجے راوت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی اور قومی سلامتی ایسا نازک مسئلہ ہے کہ اس کے متعلق جاری تحقیقات پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔

دوسری جانب این آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں اے بی جی شپیارڈ لمیٹڈ اور اور اس کے سابق چیئرمین رشی کملیش اگروال اور ديگر لوگوں پر بینک کے ایک کنشورشیئم سے 22842 کروڑ سے زیادہ کے گھپلے کا الزام ہے۔

اور اس کی بنیاد پر سنجے راوت نے کہا کہ 'ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ ملک میں ہونے والے سب سے بڑے فراڈ پر کیا کرتی ہے۔ کون لوگ ہیں جنھوں نے ملک کے اتنے بڑے بینک گھپلے کو دبانے کی کوشش کی۔۔۔ اور دو سال تک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہونے دی۔ اس کے مرکزی ملزمان ملک سے کیسے فرار ہو گئے؟'

داؤد ابراہیم انڈیا کو سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں مطلوب ہیں۔

انڈیا کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان کے شہر کراچی میں رہائش پزیر ہیں لیکن پاکستان اس سے انکار کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل داؤد ابراہیم کی جو املاک ضبط کی گئی تھیں ان میں سے تین کی نیلامی سنہ 2017 میں ہوئی تھی۔