آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حجاب اور شال کی بحث: زعفرانی یا بسنتی رنگ کو کیا کیا ’رنگ‘ دیا جا رہا ہے
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حجاب کی مخالفت میں بہت سے لڑکے لڑکیاں بھگوا (زعفرانی) رنگ کی شال، پگڑیوں اور دوپٹے میں نظر آئے جسے ہندوتوا کا رنگ کہا جاتا ہے اور سنگھ پریوار والے اسے اپنا نشان سمجھتے ہیں۔
چنانچہ سوشل میڈیا پر جہاں ’حجاب میری شناخت‘ کے تحت بات ہو رہی تھی وہیں ’بھگوا میری پہچان‘ اور ’بھگوا میری شان‘ کا بھی ذکر ہو رہا تھا۔
انڈیا میں آج کل اس رنگ کو برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور دوسری ہندو تنظیموں کی تقریبات اور جلسے جلوسوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈیا کے قومی پرچم میں بھی اس رنگ کی نمائندگی ہے جسے عرف عام میں ہندو مذہب سے جوڑا جاتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے قومی پرچم میں یہ قوت اور ہمت کی علامت کے طور پر شامل کیا گیا ہے، نہ کہ یہ کسی مذہب کی نمائندگی کرتا ہے۔
دہلی کی معروف جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں کمپریٹو ریلیجن (تقابلی مذہب) کی سابق پروفیسر اور ٹیگور نیشنل فیلو مدھو کھنا کا کہنا ہے کہ یہ رنگ تیاگ اور سنیاس کا رنگ ہے۔
ہندو مذہب کی سکالر مدھو کھنا نے بتایا کہ ’اس رنگ کا پہلا ذکر اس وقت ملتا ہے جب آدی شنکرا چاریہ سنیاس لیتے ہیں تو وہ اس رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔‘
آدی شنکراچاریہ قدیم ویدک دور کے ایک سکالر تھے لیکن ان کے دور زندگی کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے اور مختلف سکالر اسے مختلف طریقے سے بتاتے ہیں۔
مدھو کھنا نے یہ بھی کہا کہ ’اس نظریے کا آج کی بی جے پی سے کوئی لینا دینا نہیں، کیونکہ آج یہ اس قدر ایک مخصوص مکتبۂ فکر سے منسلک ہو گیا ہے کہ میں نے تو عام طور پر یہ رنگ ہی پہننا چھوڑ دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ آگ کا رنگ ہے، یہ سورج کا رنگ ہے، اور اس کی دوسرے مذابب میں بھی اہمیت ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس کے مختلف شیڈز یا پرتو ہیں اور ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے۔
’یہ صبح کا رنگ ہے، روشن خیالی کا رنگ ہے، گیان کے پرکاش (علم کی روشنی) کا رنگ ہے، بسنت کا رنگ ہے، روحانی سفر کا رنگ ہے، اسے عرف عام میں نارنجی اور کیسریا بھی کہا جا سکتا ہے۔‘
بدھ مت اور زعفرانی رنگ
اس رنگ کے متعلق بدھ مت کے سکالر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقابلی مذاہب کے استاد ڈاکٹر احمد شعیب نے بتایا کہ اس رنگ کو بودھ راہبوں کی شناخت کے لیے بذات خود مہاتما بدھ نے پسند کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’مہاتما بدھ کے عہد میں 360 قسم کے سادھو سنیاسی (یعنی تارک الدنیا) ہوا کرتے تھے اس لیے جب ان کے سامنے یہ شکایت کی گئی کہ لوگ ان میں اور دوسرے بھکشوؤں (سادھوؤں) میں تمیز نہیں کر پاتے ہیں اور انھیں دوسروں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو مہاتما بدھ نے ان کے لیے گیروکا یعنی گیروا (زعفرانی رنگ کا) لباس پسند کیا۔
’یہ واضح طور پر ان کی شناخت ظاہر کرنے کے لیے اور انھیں باقی تمام فرقے کے سادھوؤں سے ممتاز کرنے کے لیے تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’بودھ بھکشو سال کے تین ماہ کہیں نہیں نکلتے تھے، جسے ورشا آواس (بارش کے موسم کے دوران قیام) کہا جاتا تھا اور اس کے بعد جب وہ نکلتے تو انھیں جو کپڑے عطیے میں دیے جاتے وہ تھان کی شکل میں ہوتے تھے اور بودھ راہب انھیں خود سے ایک ساتھ رنگنے کا کام کرتے تھے تاکہ ان کے شیڈز مختلف نہ ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ کام انھوں نے ہندو برہمن سادھوؤں اور جین کے سیفد لباس سے مختلف نظر آنے کے لیے کیا تھا تاکہ کوئی کنفیوژن نہ رہے۔‘
انھوں نے آج کے تناظر میں کہا کہ بودھ مذہب کے ماننے والوں میں بھی اب مختلف رنگ پہنتے ہیں۔ سری لنکا کے بودھ بکھشو تقریباً میرون (بادامی قرمزی) رنگ کا لباس پہنتے تو برما اور تھائی لینڈ والے دوسرے شیڈ کا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج آپ گیرو کے شیڈ سے بتا سکتے ہیں کہ وہ کس ملک کا بودھ بھکشو ہے۔‘ تاہم انھوں نے اس رنگ کے موجودہ دور کے ہندو نظریات میں شامل ہونے کی روایت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سکھ مذہب اور زعفرانی رنگ
بہر حال اس رنگ کا تعلق سکھ مذہب سے بھی گہرا بتایا جاتا ہے۔ اسے اس مذہب میں جوش اور قربانی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کا ایک شیڈ جسے بسنتی یا کیسریا کہا جاتا ہے وہ سکھوں کے موجودہ پرچم نشان صاحب میں نظر آتا ہے۔
بہت سے سکھ پیروکار بسنتی یا زعفرانی لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں اور وہ ایک طرح سے دنیا ترک کر دینے کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔ بہت سے سکھ خاص مواقع پر اور عام طور پر بھی بسنتی یا زعفرانی رنگ کی پگڑی پہننا پسند کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ آگ میں تین طرح کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ درمیان میں سرخ، اس کے بعد پیلا اور پھر زعفرانی۔ اور ہندو مذہب میں چونکہ آگ کی اہمیت ہے اس لیے ان رنگوں کی بھی اہمیت ہے، چنانچہ مدھو کھنا کہتی ہیں کہ شادی بیاہ میں سرخ جوڑا اور کم کم کی سرخ بندیا بہت اہمیت کی حامل ہے۔
مسلمانوں میں بھی بسنتی رنگ کا چلن
کہا جاتا ہے کہ چشتیہ سلسلے کی خانقاہوں اور درگاہوں میں بسنت کے رنگ کا چلن رہا ہے اور امیر خسرو کے زمانے میں بسنت کا جشن اور میلے دھوم دھام سے منائے جاتے تھے۔
مسلمانوں میں اس کی ابتدا کے بارے میں عام خیال ہے کہ امیر خسرو کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیا اپنے بھانجے کی جواں مرگی سے بہت زیادہ افسردہ رہا کرتے تھے۔
ایک دن امیر خسرو دہلی میں کالکا جی مندر سے گزر رہے تھے جہاں بسنتی رنگ میں مبلوس لوگ مستی کے عالم میں گیت گا رہے تھے اور دیوی کو خوش کرنے کے لیے سرسوں اور گیندے کے پھولوں کے ہار نذر کر رہے تھے۔
جب امیر خسرو کو پتہ چلا کہ یہ جشن کس لیے ہے تو انھوں نے بھی وہی حلیہ اختیار کیا اور جھومتے ہوئے نظام الدین اولیا کے پاس پہنچے تاکہ انھیں خوش کر سکیں۔ کہتے ہیں کہ اسی حلیہ میں وہ یہ گیت گا رہے تھے:
تو تو صاحب مرا محبوبِ الٰہی
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے
ہمری چنریا، پیا کی پگڑیا
وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے
تو تو صاحب مرا محبوبِ الہٰی
انھیں اس حال میں دیکھ کر نظام الدین اولیا مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ اس دن کی مناسبت سے ہر سال بسنت پنچمی کے موقعے پر چشتیہ سلسلے کی درگاہوں پر اس طرح کے مناظر نظر آتے ہیں۔
مراٹھوں کا رنگ
کہا جاتا ہے کہ آر ایس ایس نے یہ رنگ مراٹھوں کے پرچم سے لیا ہے اور وہ ایک زمانے تک انڈیا کے قومی ترنگے کے بدلے اپنے زعفرانی پرچم کو اہمیت دیتے رہے۔
سیاسی مبصر شمس الاسلام نے ایک پروگرام میں دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ’آرگنائزر‘ نے 14 اگست 1947 کو ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ترنگا ایک ’بد شگون‘ ہے اور ہندو اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔
وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ ’زعفرانی جھنڈا کبھی ہندوؤں کا جھنڈا نہیں تھا۔ یہ پیشواؤں اور بعد میں پنجاب کے گندھاری باباؤں کا رنگ تھا۔ لیکن کیا وہ یہ قبول کریں گے کہ انھیں گندھاریوں سے یہ وراثت ملی ہے؟ نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
مہاراشٹرا ٹائمز کے سینیئر صحافی سمر کھڑاس کا کہنا ہے کہ مراٹھا کے زعفرانی پرچم سے بھی آر ایس ایس کے پرچم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی بنیاد میں ہندو رہنما ونائیک دامودر ساورکر کے افکار شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مراٹھا کوئی ذات نہیں ہے بلکہ وہاں کی لال مٹی سے جڑے لوگوں کا یہ رنگ ہے۔ ان دونوں کے بھگوے کے رنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھوں کے سب سے طاقتور بادشاہ شیواجی مہاراج کے سامنے جب کلیان کے صوبے دار کی بہو کو پکڑ کر پیش کیا گیا تو انھوں نے اس کی عزت کی اور پرائی عورت کو ماں کہا۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر میری ماں بھی اتنی خوبصورت ہوتی تو میں بھی خوبصورت ہوتا۔‘
سمر کھڑاس کے مطابق اس کے بعد انھوں نے تحفے تحائف اور احترام کے ساتھ انھیں واپس بھیج دیا اور اس کے بعد یہ اعلان کیا کہ ’مستقبل میں کسی بھی عورت کو قیدی نہ بنایا جائے یا اسے مال غنیمت نہ سمجھا جائے۔‘
سمر کھڑاس نے کہا کہ ساورکر نے شیوا جی پر تحریر کردہ اپنے چھ صفحات میں ان کے اس عمل کو ’سنکرن وکروتی‘ یعنی خراب سوچ کہا ہے۔ یعنی ساورکر کے مطابق اس عورت کے ساتھ انھیں دشمن کی طرح سلوک کرنا چاہیے تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ آج جس طرح حجاب میں ملبوس ایک اکیلی لڑکی کو اتنے سارے لوگ زعفرانی شال کے ساتھ ہراساں کر رہے تھے وہ شیواجی کے نظریے کے حامل تو قطعی طور پر نہیں ہو سکتے، کیونکہ شیوا جی کے یہاں عورت کی عزت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ رنگ کا اس قسم کے افکار و خیلات سے کوئی لینا دینا نہیں۔
انھوں نے آر ایس ایس کے رہنام گولورکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گولورکر نے مسلمانوں، مسیحی اور کمیونسٹوں کو ہندوؤں کا دشمن بتایا ہے لیکن ان کی تحریروں سے ایک چوتھا دشمن بھی سامنے آتا ہے اور وہ ’ستری‘ یعنی عورت ہے۔ اور یہ جو کچھ ہوا ہے وہ اسی نظریے کا مظہر ہے۔
انھوں نے کہا کہ حالانکہ یہودی بھی ’باہر‘ کے لوگ ہیں لیکن انھیں دشمن نہیں کہا گيا ہے۔ ’یہ رنگ کا معاملہ نہیں بلکہ ان کی مسلم مخالفت کی علامت ہے۔‘