کرناٹک میں حجاب پر تنازع: کالج کی طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا پر بحث

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے اوڈیپی ضلعے کے ایک سرکاری کالج میں حجاب پر پابندی کے معاملے نے اتنا طول پکڑ لیا ہے کہ منگل کی رات یہ معاملہ انڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں کئی گھنٹے شامل رہا۔

انڈیا میں حجاب یا برقعہ کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن اس کے متعلق وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی تنازع اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

منگل کی رات 'حجاب اِز آور رائٹ' یعنی 'حجاب ہمارا حق ہے' ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا جس میں بیشتر لوگوں نے اوڈیپی کی طالبات کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

معاملہ کیا ہے؟

اوڈیپی کے سرکاری پری یونیورسٹی کالج کی انتظامیہ کی جانب سے حجاب کے خلاف سخت اقدام کی وجہ سے کالج کی آٹھ طالبات کئی ہفتوں سے کلاسز میں نہیں جا سکی ہیں۔

جب سوشل میڈیا پر سکول کی سیڑھیوں پر بیٹھی ان طالبات کی تصاویر سامنے آئیں تو بہت سے لوگوں نے اسے انڈیا کے آئین میں شہریوں کو حاصل مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا۔

ہم نے کرناٹک ریاست کے دارالحکومت بنگلور میں مقیم سینيئر صحافی عمران قریشی سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ اوڈیپی میں مسلمانوں کی آبادی کم ہے اور سرکاری کالج میں مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار طالبات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی کالج کی انتظامیہ سے بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ کالج پوری طرح سے لڑکیوں کا ہے اس لیے ایسا فیصلہ لیا گیا ہے اور اگر کالج میں لڑکے لڑکیاں دونوں ہوتے تو معاملہ مختلف ہوتا۔

عمران قریشی نے مزید بتایا کہ کالج میں ہزار طالبات میں سے صرف 75 مسلمان ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان 75 میں سے صرف ایک درجن لڑکیاں حجاب یا برقعہ پہنتی ہیں۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کے بعد جب یہ معاملہ طول پکڑنے لگا تو انھوں نے ان طالبات کے والدین سے بات کی۔

'پہلے آٹھ لڑکیاں حجاب پر مصر تھیں، پھر چھ مصر رہیں اور اب چار حجاب کے ساتھ ہی کلاس روم میں بیٹھنے کی بات کہہ رہی ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ ابھی ان کی کسی لڑکی یا ان کے اہل خانہ سے بات نہیں ہوئی ہے۔

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا لائرز ایسوسی ایشن فار جسٹس نے اس معاملے میں ریاستی حکومت سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ 'طالبات کے خلاف کالج انتظامیہ اور سٹاف کا عمل ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔'

عمران قریشی نے بتایا کہ معاملہ اب اوڈیپی کے نائب کمشنر اور ریاست کے وزیر تعلیم کے سامنے ہے کہ وہ اس پر کس قسم کا فیصلہ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کیا جا رہا جس میں یہ لڑکیاں اپنا موقف پیش کر رہی ہیں۔

انڈیا کے معروف اخبار دی ٹیلیگراف میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایک لڑکی نے کہا کہ وہ روزانہ اس امید پر کالج جاتی ہیں کہ انھیں کلاس میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ لیکن وہ سارا دن کلاس سے باہر کیمپس میں گزارتی ہیں اور اپنی ہم جماعت سے نوٹ بک لے کر اسے کاپی کرتی ہیں۔

اخبار کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ 'ہم صرف حجاب پہننے کی اجازت چاہتی ہیں، جو ہمارے جذبات، ہماری شناخت اور ہمارے بنیادی حقوق سے جُڑا ہے۔'

ان کے سامنے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ان کے امتحانات سر پر ہیں اور وہ کلاس رومز سے باہر ہیں۔

سوشل میڈیا پر تبصرے

شمیلہ نامی ایک ٹوئٹر صارف نے چھ لڑکیوں کی اپیل کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: 'کرناٹک کے اوڈیپی کی مسلم لڑکیاں اسی کالج میں پڑھنا چاہتی ہیں لیکن حجاب کے ساتھ۔ وہ انتظامیہ سے التجا کر رہی ہیں کہ انھیں اس بات پر مجبور نہ کیا جائے کہ وہ تعلیم کا انتخاب کریں یا پھر حجاب کا، وہ دونوں چاہتی ہیں۔'

پونم کا چاند نامی صارف 'حجاب از آور رائٹ' کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھتی ہیں کہ 'اگر آپ شارٹس پہننے کے حق میں ہیں تو آپ کو حجاب پہننے کے حق میں بھی ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ دونوں پسند کے معاملات ہیں اور اس کا فیصلہ صرف خواتین کو کرنا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ان کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ اسی منطق سے کیا وہ سعودی عرب اور افغانستان میں خواتین کے حجاب نہ پہننے کے خواتین کے حق کے بارے میں کھڑی ہوں گی تو ان کا جواب تھا کہ 'اگر خواتین یہ فیصلہ کرتی ہیں تو ضرور۔'

پولیس افسر اور ’ڈینائل اینڈ ڈپریویشن‘ کتاب کے مصنف عبد الرحمان نے لکھا کہ 'لباس، کھانا اور مذہب وغیرہ کسی فرد کی ذاتی آزادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تک کہ کسی کالج میں لباس کا سخت کوڈ نافذ نہ ہو کوئی کالج لڑکیوں کو حجاب پہننے سے نہیں روک سکتا۔ اوڈیپی کا کالج غیر ضروری طور پر لڑکیوں کے حقوق میں مداخلت کر رہا ہے۔ ان لڑکیوں کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔'

بہر حال اس قسم کی بہت سے ٹویٹس ہیں جن میں ان لڑکیوں کی حمایت کی گئی ہے اور ان کے لیے آواز بلند کی گئی ہے۔

رضا اے خان نامی ایک صارف نے پرنسپل اور ہیڈ ماسٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: 'کیا آپ سکھ طالب علموں سے پگڑی اتارنے کے لیے کہیں گے؟ کیا آپ ہندو طالبات سے بِندی ہٹانے کے لیے کہیں گے؟ تو پھر مسلم لڑکیوں سے حجاب ہٹانے پر زبردستی کیوں؟ یہ شرمناک، غیر انسانی اور غیر آئینی ہے۔ لڑکیو کہو کہ حجاب ہمارا حق ہے۔'

بہر حال ریاست کرناٹک میں بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد سے اس قسم کے معاملات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بات دو مذاہب بطور خاص ہندو اور مسلمان کے درمیان شادی یا دوستی کی ہو جسے سخت گیر ہندو 'لو جہاد' کا نام دیتے ہیں یا پھر بات تبدیلی مذہب کی ہو اس پر سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مسیحی برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔

تعلیمی اداروں میں پھٹی ہوئی جینز پہننے اور ویلنٹائن ڈے منانے کی مخالفت بھی نظر آئی ہے۔

جب اوڈیپی کے کالج میں حجاب کا معاملہ سامنے آیا تو اس کے رد عمل میں وہاں سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر چکمنگلور میں کوپا کے ایک کو-ایڈ کالج میں بہت سے طالبات نے زعفرانی رنگ کا سکارف پہننا شروع کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ رنگ ہندوؤں سے منسلک رنگ ہے اور اسے انڈیا میں بھگوا کہا جاتا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر چیز کو بھگوا رنگ میں رنگنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بہر حال عمران قریشی نے بتایا کہ چکمنگلور کے کالج کا معاملہ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین سے بات چیت کے بعد حل کر لیا گیا ہے۔ اوڈیپی کے پرنسپل کا خیال ہے کہ ان کے پری کالج کا معاملہ بھی حل کر لیا جائے گا۔