بہار میں شراب نوشی کے خلاف نئے سرکاری فرمان پر استاتذہ پریشان: ’شرابیوں کو پکڑیں یا بچوں کو پڑھائیں‘

،تصویر کا ذریعہKen Redding
بہار میں شراب پر پابندی کے باوجود زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شراب مافیا پر قابو پانے کے لیے اب بہار حکومت نے ایک نیا اعلان کیا ہے۔
بہار کے محکمہ تعلیم کی نئی ہدایات کے مطابق اساتذہ چوری چھپے شراب پینے یا شراب بیچنے والوں کی معلومات شراب کی ممانعت کرے والے محکمے کے موبائل نمبر پر دیں گے، جن کی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔
سرکاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پرائمری اور سیکنڈری سمیت تمام سکولوں کے اساتذہ اپنے اردگرد شراب پینے والوں اور شراب فروشوں کے بارے میں سرکاری افسران کو آگاہ کریں گے۔
اس کے لیے فون نمبر بھی دیے کیے گئے ہیں جس میں دو موبائل نمبر اور دو ٹول فری نمبر بھی ہیں۔ اس نئے اعلان پر اساتذہ ناراض ہیں اور انھوں نے بہار میں کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کو کامیاب بنانے کے لیے اساتذہ سے صرف اپیل کی گئی ہے۔
’اساتذہ کی جان کو خطرہ ہو گا‘
سہرسہ ضلع کے علاقے سیواشرم پٹوری کی ایک ٹیچر انجو مہتو کہتی ہیں کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ بہار میں شراب نوشی کے خلاف کام کرنے والے کتنے کارکنان یا افسران کی موت ہوئی ہے۔ حکومت اب وہی کام اساتذہ کو دے رہی ہے۔ حکومت کی ہدایات میں لکھا ہے کہ اطلاعات دینے والوں کے نام صیغۂ راز میں رکھے جائیں گے لیکن بڑے دفاتر سے نام بڑی آسانی سے لیک ہو جاتے ہیں جو ان کے قتل کا باعث بنتے ہیں، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اساتذہ کے نام سامنے نہیں آئیں گے؟
سوپیل ضلع کے میگھناتھ جھا کنیا مڈل سکول کی ٹیچر دلاری دیوی کہتی ہی: ’ہمارا کام بچوں کو تعلیم دینا ہے، ایسے فضول کام کرنا نہیں، جس سے غیر ضروری طور پر ہماری اور ہمارے گھر والوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔ کیا بہار پولیس اور انٹیلیجنس کے محکمے اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ حکومت کو ایسا حکم جاری کرنا پڑا؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSUBHENDU GHOSH /HINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES
سہرسہ کے گڈول ہائی سکول کی ٹیچر کرن دیوی کہتی ہیں کہ ’شراب کی ممانعت کے بعد بھی بہار میں اندھا دھند شراب فروخت ہو رہی ہے۔ زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں رک رہا ہے۔ آپ کو شراب مافیا کی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا۔ یہ بتائیں کہ جس مافیا کے سامنے حکومت اور پولیس جھکتی ہے، ایسے میں ہم اساتذہ اور خاص طور پر خواتین ان کا کیا بگاڑ لیں گی؟
کرن دیوی کہتی ہیں کہ ’حکومت نے کہا ہے کہ معلومات کو خفیہ رکھا جائے گی لیکن جب خود سرکاری محکمے کے لوگوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں تو معلومات کو کیسے خفیہ رکھا جا سکتا ہے؟ اگر غلطی سے میرا نام لیک ہو جاتا ہے تو میرے گھر والوں کا کیا ہوگا یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور ہمیں تحفظ کے لیے ہتھیار بھی نہیں دیے گئے۔‘
بہار میں اساتذہ کی کمی
بہار میں ویسے بھی اساتذہ کی بہت کمی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پہلی سے بارہویں جماعت تک کے سکولوں میں 3.15 لاکھ اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 3,276 ایلیمنٹری سکول صرف ایک ایک استاد کے سہارے ہیں اور 12,507 سکول صرف دو دواساتذہ کے بھروسے چل رہے ہیں۔
اساتذہ کی شدید کمی کے درمیان حکومت کی طرف سے بار بار غیر تعلیمی احکامات جاری کرنے سے بہار کے سکول میں تعلیمی نظام مزید خراب ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
بہار میں طلبہ کی تحریک کی آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکومت کا یہ حکم اساتذہ کو احتجاج پر مجبور کر رہا ہے۔
30 جنوری کو پٹنہ، بیگوسرائے اور دیگر اضلاع میں اساتذہ نے بہار میں شراب پر پابندی سے متعلق محکمے کے حکم کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ایلیمنٹری ٹیچرز ایسوسی ایشن بہار کے ریاستی کوآرڈینیٹر راجو سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اساتذہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ پڑھانے کے بجائے، کورونا کے دور میں قرنطینہ سینٹر میں دوائیں تقسیم کریں اور کھلے میں رفع حاجت کو روکیں۔ اس بار یہ فیصلہ انتہائی افسوس ناک اور مضحکہ خیز ہے۔ حکومت جلد ہی یہ حکم واپس نہیں لیتی تو ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘
وہیں ٹیچرز ایسوسی ایشن کے بہار ریاستی صدر امیت وکرم کا کہنا ہے کہ ’شراب پینے اور بیچنے والوں کی نشاندہی کرنے اور اساتذہ کو اس کی اطلاع دینے سے متعلق محکمہ تعلیم کا حکم ’تغلقی فرمان' ہے۔‘
بہار کے مادھے پورہ ضلع کے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول میں تعینات منی گپتا کہتی ہیں کہ ’کورونا کی وجہ سے دو سال سے تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ بہار کے گاؤں میں آن لائن تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس عرصے میں طالب علموں کا جو نقصان ہوا ہے حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اساتذہ کی مدد سے اس کی تلافی کیسے کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کبھی ہمیں کھلے میں رفع حاجت سے روکنے کے لیے اور کبھی شرابیوں کو پکڑنے کے لیے بھیجتی ہے۔‘

حکومت کا موقف
اساتذہ کے احتجاج کے بعد ریاستی وزیر تعلیم وجے چودھری نے میڈیا کے سامنے صفائی دیتے ہوئے کہا: ’اساتذہ کو شراب پکڑنے کا کوئی ہدف نہیں دیا گیا ہے، بس اساتذہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس پابندی کو کامیاب بنائیں۔ یہ سب غیر ضروری وہم پیدا کیا جا رہا ہے۔‘
بہار حکومت کی جانب سے اساتذہ کو دیا جانے والا یہ پہلا ٹاسک نہیں ہے جس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بہار میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کو تلاش کر کے انھیں روکنے کا کام بھی سرکاری اساتذہ کو سونپا گیا تھا جس پر شدید تنقید ہوئی تھی۔
بہار میں حکومت کی جانب ے اساتذہ کو تعلیم کے علاوہ بہت سی دوسری ذمہ داریاں دی گئی ہیں، جیسا کہ:
- قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی
- کورونا کی دوائیوں کی تقسیم ڈیوٹی اور ماسک چیکنگ
- جانوروں کی مردم شماری
- کھلے میں رفع حاجت کو روکنے کا کام
- خوراک کی تقسیم
- مِڈ ڈے میل کا کام
- بچوں کا اندراج اور ان کے بارے میں مکمل معلومات رکھنا وغیرہ۔








