اندرا گاندھی سے نریندر مودی: انڈیا میں وزیر اعظم کی سکیورٹی میں کب، کس طرح اضافہ ہوا اور اب ذمہ داری کس پر؟

،تصویر کا ذریعہAni
- مصنف, سدھ ناتھ گانو
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
یہ بات سنہ 1967 کی ہے۔ اس وقت کانگریس پارٹی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ (اوڈیشہ) میں اپنی انتخابی ریلی کر رہی تھی کہ ایک انتخابی ریلی میں بھیڑ نے اچانک سٹیج کی طرف پتھراؤ شروع کر دیا۔
سٹیج پر تقریر کرنے والی خاتون کو ایک پتھر لگا۔ ان کی ناک سے خون بہنے لگا۔ انھوں نے خون صاف کیا اور تقریر جاری رکھی۔
یہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ اس وقت انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں جنھیں سنہ 1984 میں ان کے محافظوں نے ہی قتل کر دیا۔
ملک میں وزیراعظم کی سکیورٹی ہمیشہ ہی ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ وزیر اعظم کے عہدے کی سکیورٹی کے تقاضے بھی بدلتے گئے۔
انڈین ریاست پنجاب کے حالیہ دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے قافلے کے بھیڑ میں پھنس جانے کے بعد ایک بار پھر وزیر اعظم کی سکیورٹی کے متعلق بحث شروع ہو گئی ہے۔
عوام جاننا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کی سکیورٹی کی ذمہ داری کس پر ہے اور اس کے لیے کس قسم کی تیاریاں کی گئی تھیں۔
حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی ریاست اترپردیش میں کئی ریلیاں کر چکے ہیں۔ بہرحال پانچ جنوری کو انھیں پنجاب میں ہونے والے جلسے میں شرکت کرنی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیروزپور میں ہونے والی اس ریلی کے لیے وزیراعظم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنا تھا لیکن خراب موسم کے باعث انھوں نے بذریعہ سڑک جانے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کا قافلہ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی جانب سے سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد ہی سڑک کے راستے روانہ ہوا تھا۔ ڈی جی پی نے یقین دہانی کرائی کہ سکیورٹی کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔
لیکن راستے میں کسانوں نے وزیر اعظم کے خلاف مظاہرہ کیا اور ان کے قافلے کو ایک پل پر رکنا پڑا۔ پولیس اہلکاروں نے سینکڑوں مظاہرین کو ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا۔
وزیراعظم کا قافلہ جس جگہ رکا وہ پاکستان کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی گاڑی پل پر 15-20 منٹ تک پھنسی رہی۔
اسے وزیر اعظم کی سکیورٹی میں بڑی کوتاہی قرار دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے ایک بیان میں کہا کہ 'کانگریس کے خونی ارادے ناکام ہو چکے ہیں'۔
سمریتی ایرانی نے یہاں تک کہا کہ کانگریس میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مودی سے نفرت کرتے ہیں اور وہ وزیر اعظم کی سلامتی کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اسمرتی ایرانی کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ریلی میں توقع کے مطابق لوگ جمع نہیں ہو سکے اور شرمناک صورتحال سے بچنے کے لیے وزیر اعظم نے اپنی ریلی منسوخ کر دی۔
لیکن وزیراعظم کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے، یہ سمجھنے کے لیے ہمیں اس موضوع کی تاریخ میں جانا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم اور سکیورٹی
جب پنڈت جواہر لعل نہرو سنہ 1947 میں آزاد انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بنے تو وہ کھلی گاڑی میں سفر کرتے تھے۔ نہرو ایک مقبول رہنما تھے لیکن انھیں احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سنہ 1967 میں جب اندرا گاندھی پر پتھراؤ کیا گیا تو وزیر اعظم کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ لیکن وزیر اعظم کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم موڑ سنہ 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد آیا۔
دراصل اندرا گاندھی کے زیر قیادت کانگریس حکومت نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل سے علیحدگی پسندوں کو باہر نکالنے کے لیے ایک فوجی آپریشن، 'آپریشن بلیو سٹار' شروع کیا تھا۔
30 اکتوبر سنہ 1984 کو اپنی تقریر میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ 'میں آج ہوں، کل نہیں ہوں گی، لیکن جب تک میں زندہ ہوں، میں اپنے خون کا ایک ایک قطرہ اپنی قوم کو مضبوط کرنے میں صرف کروں گی۔'
اگلے ہی دن 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کو ان کے اپنے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعے کے بعد دارالحکومت نئی دہلی میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے۔ اس وقت ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور امن و امان تہ و بالا ہو گیا۔
اگلے ہی سال سہنہ 1985 میں وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے سپیشل پروٹیکشن گروپ یا ایس پی جی (SPG) قائم کیا گیا۔ ایس پی جی ایکٹ سنہ 1988 میں پارلیمنٹ میں پاس ہوا تھا۔ کئی ممالک میں وزیر اعظم، صدر یا دیگر سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی کے لیے ایک سپیشل فورس بنائی گئی ہے، جیسے امریکہ میں سیکرٹ سروس۔
آپ نے وزیراعظم کے ساتھ سیاہ سفاری سوٹ، چشمے اور ہاتھ میں ہتھیار لیے چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہوگا۔ ان کے پاس واکی ٹاکیز ہوتی ہیں اور کانوں میں ایئر پیس لگے ہوتے ہیں۔ یہ ایس پی جی افسران ہیں۔
یہ ایس پی جی اہلکار مختلف قسم کی خصوصی تربیت سے گزرتے ہیں۔ وہ اس کام کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری وزیراعظم، سابق وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ ایس پی جی کے اہلکار وزیر اعظم کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ہیں۔ وزیر اعظم جہاں بھی جاتے ہیں، مقامی انتظامیہ کے ساتھ ایس پی جی انھیں وہاں سکیورٹی فراہم کرتی ہے۔
حالیہ مہینوں تک کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو بھی ایس پی جی تحفظ حاصل تھا لیکن مودی حکومت نے اب اسے واپس لے لیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی نے یہ انتقامی کارروائی کی ہے۔
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی ایس پی جی سکیورٹی واپس لینے کے بعد انھیں زیڈ پلس کیٹیگری کی سکیورٹی دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
ریاستی حکومت کا کیا کردار ہے؟
حال ہی میں وزیر اعظم مودی کے قافلے کے لیے 12 کروڑ روپے کی کار خریدی گئی ہے۔ اس پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے لیکن حکومت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سکیورٹی کے لیے اسے خریدنا ضروری تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ایک سینیئر آئی پی ایس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے دورے سے پہلے کس قسم کے حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
وزیر اعظم کی حفاظت کو برقرار رکھنا ایس پی جی کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ تمام انتظامات ریاستی پولیس کو کرنے ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم کے دورے سے پہلے ہی ایس پی جی کی ٹیم ریاست پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی بیورو ریاستی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAni
ریاستی پولیس کی ذمہ داری کیا ہے؟
- 1- وزیراعظم کے دورے کا راستہ صاف کرنا
- 2- جائے وقوعہ پر سکیورٹی فراہم کرنا
- 3- وزیر اعظم کے دورے کی نگرانی کرنا، کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کرنا
وزیراعظم کے دورے کا یہ منصوبہ صرف کاغذوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ دورے سے قبل اس کی موک ڈرل یعنی آزمائشی مشق بھی کی جاتی ہے۔
وزیر اعظم کے دورے کے لیے متبادل راستے بھی تیار رکھے جاتے ہیں اور ان کے قیام کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم اگر ہیلی کاپٹر سے سفر کرتے ہیں تو وقتاً فوقتاً موسم کی پیشگوئی کی جاتی ہے۔ یہ تمام اصول ایس پی جی کی بلیو بک میں لکھے گئے ہیں۔
ایس پی جی ملک کی اعلیٰ سکیورٹی ایجنسیوں میں شامل ہے اور وزیر اعظم کو محفوظ رکھنے کے لیے ایس پی جی کا سالانہ بجٹ 400 کروڑ سے زیادہ ہے۔ پچھلے سال پیش کیے گئے بجٹ میں ایس پی جی کا سالانہ بجٹ 429.05 کروڑ روپے تھا۔

،تصویر کا ذریعہAni
مودی کی سکیورٹی پر تنازع
مظاہرین کی جانب سے سڑک روکے جانے پر وزیر اعظم مودی کا قافلہ حسینی والا میں قومی شہدا کی یادگار پر جانے سے پہلے ہی واپس لوٹ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھٹنڈا ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد مودی نے مقامی پولیس اہلکاروں سے کہا کہ 'اپنے وزیر اعلیٰ کو شکریہ کہنا کہ میں زندہ لوٹ آیا۔'
وزارت داخلہ نے واقعے پر پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے انتظام میں کچھ غلط نہیں ہوا ہے۔
اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی وکرم سنگھ کا ماننا ہے کہ پنجاب پولیس نے اس معاملے میں شدید لاپرواہی کی ہے۔
وکرم سنگھ کہتے ہیں: 'لوگ یہ کہہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے اچانک اپنا روٹ تبدیل کر دیا تھا۔ راستہ اچانک ہی تبدیل کیا جاتا ہے۔ لیکن مظاہرین اچانک جمع نہیں ہوتے۔ وہ پہلے سے تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ انھیں روکا جا سکتا تھا لیکن روکا نہیں گیا۔'











