وزیر اعظم مودی کے حفاظتی دستے میں ’مرسیڈیز مے بیک ایس 250 گارڈ‘ کی شمولیت پر سوشل میڈیا پر طنز کی بارش

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، دلی
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حفاظتی دستے میں حال ہی میں ایک نئی اور مہنگی کار کی شمولیت ملک میں تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ حزب اختلاف کے کئی رہنما اور سوشل میڈیا صارفین ’مرسیڈیز مے بیک ایس 250 گارڈ‘ کار کو مودی کے سادہ طرز زندگی کے دعوؤں کے برعکس سمجھتے ہیں۔
مے بیک ایک انتہائی عمدہ حفاظتی کار ہے جس کا استعمال دیگر ملکوں میں بھی حفاظتی دستے میں ہوتا ہے۔ یہ کار بلٹ پروف اور بلاسٹ پروف ہے۔ اس میں ہنگامی حالات میں تازہ آکسیجن کی فراہمی اور آگ بجھانے کا نظام ہے اور یہ ٹائر پنچر ہونے پر بھی چل سکتی ہے۔
اس معاملے پر تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا صارفین نے اس کار کی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے مودی کے پرانے دعوؤں اور اپیلوں پر سوالیہ نشان لگایا، مثلاً یہ کہ وہ ایک ’فقیر‘ اور ’پردھان سیوک‘ ہیں یا ان کی ’میڈ ان انڈیا‘ مصنوعات خریدنے کی اپیل۔
ترنمول کانگریس کے رہنما اور ایک سابق سول سرونٹ جواہر سرکار نے لکھا کہ ’12 کروڑ روپے سے زیادہ کی وزیراعظم کی گاڑی! ہر روز نئے کپڑوں کے لیے مے بیک چشمے۔ خدایا! یہ فقیر ان مراعات کو کبھی نہیں چھوڑے گا، ہارنے کے باوجود بھی۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
مودی کو اس سے قبل ایک ایسا سوٹ پہننے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پورے کپڑے پر ان کا نام کندہ ہوا تھا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکی قیمت تقریباً دس لاکھ روپے تھی۔
انڈین یوتھ کانگریس کے لیڈر شیش نارائن اوجھا نے لکھا کہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے تب وہ بی ایم ڈبلیو کار کا استعمال کرتے تھے۔ اوجھا نے نشاندہی کی کہ جب مودی نے سنگھ کی بی ایم ڈبلیو کے بجائے اسکارپیو کا انتخاب کیا، جو کہ عام انڈین عوام استعمال کرتی ہے، تو مودی کی خوب تعریف ہوئی لیکن انھوں نے جلد ہی اسے ترک کر لینڈ کروزر اور اس کے بعد لینڈ روور رکھ لی اور اب وہ مرسیڈیز مے بیک میں آگئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
مہیشور پیری نامی صارف نے سابق وزرائے اعظم کے زیر استعمال رہنے والی سرکاری کاروں کی نشاندہی کی۔
انھوں نے لکھا کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ، آئی کے گجرال اور دیو گوڑا ایمبیسڈر کاریں استعمال کرتے تھے تاہم اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ بی ایم ڈبلیو کا استعمال کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
مودی کا دعویٰ ہے کہ وہ بچپن میں اپنی آبائی ریاست گجرات کے ایک چھوٹے سٹیشن پر چائے فروخت کرتے تھے۔
یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی ابھی تک مکمل طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان کی تعلیمی ڈگریوں پر بھی ناقدین کے سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہیں ملے ہیں۔ اس صورت حال میں مخالفین کے مودی کے دعوؤں سے متعلق سوالات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
نامور وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ ’مودی کی سادگی کے دعوؤں کے باوجود ان کی پسند کافی مہنگی ہے۔ وہ لکھتے ہیں، 'مودی اس 12 کروڑ روپے کی کار کو اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ بکتر بند مرسڈیز مے بیک ایس 650 گارڈ رینج روور اور ٹویوٹا لینڈ کروزر سے اپ گریڈ کے طور پر آیا ہے۔ ایک دن میں 4 ڈیزائنر ملبوسات بدلنا اور ان کا 8000 کروڑ کا مخصوص طیارہ۔ ان کی پسند مہنگی ہے۔۔۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
وزیر اعظم کے ذریعے قائم کردہ ایک متنازع ایمرجنسی فنڈ ’پی ایم کیئرز‘ کا ذکر کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی لکھتے ہیں کہ ’پی ایم کیئرز فار مرسڈیز مے بیک۔ اب سمجھ میں آیا۔‘
حالانکہ میڈیا میں آنے والی ابتدائی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کار کی قیمت تقریباً 12 کروڑ روپے ہے لیکن ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اس کی اصل قیمت ’میڈیا رپورٹس میں بتائی گئی قیمت کا ایک تہائی ہے۔‘
سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے یہ اطلاع دی کہ ’مرسیڈیز مے بیک کی قیمت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سکیورٹی میں اضافہ سے متعلق دیگر تفصیلات کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نئی کاریں اپ گریڈ نہیں ہیں بلکہ معمول کے مطابق تبدیلیاں ہیں کیونکہ بی ایم ڈبلیو نے ان کے زیر استعمال ماڈل کو بنانا بند کر دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ صارفین نے مودی کے مے بیک کار کے استعمال کا جواز پیش کرتے ہوئے دوسرے لیڈروں کے مبینہ طرز زندگی پر تنقید کی۔
سومیا لوتھرا نے لکھا کہ ’وزیراعظم کے مے بیک پر دل جلا اور اس سے اختیارات کی بو آ رہی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے پاس نہ ہی وراثتی دولت ہے، نہ ہی جس کے آباؤ اجداد نے شراب اور کھانے کے پکوانوں کے بارے میں سنا ہے، اور نہ ہی اپنے کالج کے دنوں میں لندن میں رہا ہے، مے بیک خریدنے کی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ہندو دائیں بازو کے حامی اکثر جواہر لعل نہرو، راجیو گاندھی، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے مبینہ طرز زندگی پر تنقید کرتے ہیں۔
مودی خود کانگریسی لیڈروں کے خلاف اکثر طنزیہ لہجہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ 2019 میں انھوں نے ایک انتخابی ریلی میں کہا تھا کہ راجیو گاندھی اور ان کے خاندان بشمول اٹلی سے ان کے سسرال والوں نے 1987 اور 1988 میں بحری جہاز آئی این ایس وراٹ کو ایک جزیرے پر دس دنوں کی چھٹی کے لیے ذاتی ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا تھا۔
تاہم سابق سرکاری ملازم وجاہت حبیب اللہ نے، جو اس وقت اس جزیرے کے منتظم تھے، اخبار نیشنل ہیرالڈ میں مودی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی این ایس وراٹ پر اصل میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی تھی۔
انھوں نے اس اخبار کو بتایا کہ ’میٹنگ کے بعد راجیو گاندھی نے اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے کچھ دن جزیرے پر قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد راجیو کے رشتہ داروں یعنی سونیا گاندھی کی بہن اور ان کے شوہر، دوست، بشمول امیتابھ بچن اور جیا بچن جزیرہ لکشدیپ آئے۔‘
اس بحث میں کچھ صارفین نے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی سادگی کو بھی یاد کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’دو انڈین وزرائے اعظم ایک ہی مسئلے پر۔۔۔‘، ایک نے 12 کروڑ کا مے بیک اور دوسرے نے ایک انڈین بینک سے پانچ ہزار کا لون لیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
واضح رہے کہ شاستری 1964 میں انڈیا کے وزیر آعظم تھے اور وہ ایک فئیٹ کار خریدنا چاہتے تھے۔ تاہم ان کے اکاؤنٹ میں صرف 7000 روپے تھے اور کار کی قیمت 12000 روپے تھی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کار خریدنے کے لیے وزیر اعظم کو پانچ ہزار کا لون لینا پڑا۔ حالانکہ چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا اور وہ خود سے لون واپس نہیں کر سکے۔ ان کی اہلیہ نے اپنے پینشن کی رقم سے یہ لون ادا کیا۔











