انڈیا میں درجنوں گدھوں کی چوری: راجستھان پولیس سب کام چھوڑ کر گدھا چور ڈھونڈنے پر مجبور

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

    • مصنف, موہر سنگھ مینا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

راجستھان کے ہنومان گڑھ ضلعے میں گدھوں کی مسلسل چوری نے پولیس کو گدھا چوروں کو پکڑنے کے لیے سارے کام چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

چوروں کا سراغ لگانے کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ وہ اپنے گدھے گھر پر رکھیں۔

ہنومان گڑھ ضلعے کے کئی دیہاتوں میں 10 دسمبر سے نوہر تحصیل کے کھوئیاں تھانے میں مسلسل گدھا چوری کی شکایتیں پہنچ رہی ہیں۔

چند روز تک شنوائی نہ ہونے پر چرواہوں نے 28 دسمبر کو مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر گدھوں کی تلاش کا مطالبہ کرتے ہوئے تھانہ کھوئیاں میں دھرنا دیا۔

پولیس کی جانب سے 15 روز میں گدھوں کی تلاش کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

،تصویر کا کیپشنچوری شدہ گدھوں کی تلاش کا مطالبہ کرتے ہوئے تھانے کے باہر دھرنے کے دوران مقامی عوامی نمائندے اور چرواہے پولیس سٹیشن آفیسر وریندر شرما کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے

اب تک 76 گدھے چوری ہو چکے ہیں

لیکن پولس کی یقین دہانی کے اگلے روز ہی 29 دسمبر کی رات ایک بار پھر مندر پورہ گاؤں سے چھ گدھے چوری ہو گئے۔ اب علاقے کے چرواہے خوفزدہ ہیں اور چوری شدہ گدھوں کو جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نوہر کے ڈپٹی ایس پی ونود کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ دو تین جگہوں سے گدھے کی چوری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہاں، ہم کوشش کر رہے ہیں۔‘

دیواسر گاؤں کے چرواہے پون کے پاس بھیڑوں کی بڑی تعداد ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے تین گدھے چوری ہوگئے ہیں۔

انھوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’9 تاریخ کی رات سے گدھے چوری ہو رہے ہیں۔ کسی کے دو گدھے چوری ہو چکے ہیں اور ہمارے گاؤں میں اب تک 16 گدھے چوری ہو چکے ہیں۔‘

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

گدھے چوری ہونے کے بعد چرواہوں کے ساتھ دھرنا دینے کے لیے سی پی آئی (ایم) سے تعلق رکھنے والے پنچایت سمیتی کے رکن منگیج چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گدھے کی چوری کے حوالے سے ہم کئی بار پولیس سے ملے۔ لیکن پولیس نے دو چار دن کا وقت مانگا، آخرکار ہم نے چرواہوں کے ساتھ 28 دسمبر کو دن بھر تھانے میں دھرنا دیا، پھر شام کو ڈپٹی ایس پی دھرنے پر پہنچے اور معاملہ سنا۔ 15 دن میں گدھے کو تلاش کرنے کا وقت مانگا ہے۔‘

چوہدری نے کہا کہ ’کناسار، ریواسر، رائیوالی، مندر پورہ، نیملا، جبرسر اور تحصیل نوہر کے دیگر دیہاتوں سے گدھے چوری کیے گئے ہیں۔‘

مندر پورہ گرام پنچایت کے سرپنچ کے نمائندے شریف محمد نے ہمیں بتایا کہ ’29 دسمبر کی رات ہمارے گاؤں سے چھ گدھے چوری ہو گئے تھے۔ بیکانیر سے آئے رام نارائن جاٹ اور مکیش کمار گودارا گاؤں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ دونوں رات کو چوری ہو گئے تھے۔‘

شریف نے بتایا کہ ’صبح گدھے کی چوری کی اطلاع ملنے پر تھانہ کھوئیاں گاؤں پہنچے، ہم نے تھانے میں شکایت بھی دی ہے، علاقے سے کل 76 گدھے چوری ہوچکے ہیں جن میں پہلے 70 اور اب چھ گدھے چوری ہوئے ہیں۔‘

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

،تصویر کا کیپشنجو گدھے پولیس نے پکڑے انہیں چرواہوں نے اپنا ماننے سے انکار کر دیا

پولیس نے جو گدھے پکڑے، وہ ان چرواہوں کے نہیں تھے

گدھوں کی چوری کی شکایات کے بعد، پولیس نے 15 گدھوں کو پکڑ کر 27 دسمبر کی رات تھانے لایا۔ پھر چرواہوں کو اپنے گدھوں کی شناخت کے لیے بلایا گیا۔

کھوئیاں پولیس سٹیشن کے افسر وریندر شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گدھے چوروں کی شکایت ملنے پر پولیس ٹیم نے کچھ گدھوں کو پکڑا، لیکن اپنے گدھے کی نشاندہی کے دوران چرواہوں نے گدھوں کو چنٹو، پیکو، کالو کہنا شروع کر دیا۔ ‘

’بعد میں اس نے اپنا گدھا ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ جب ان کا نام لیا گیا تو گدھے ادھر کا رُخ نہیں کرتے تھے۔‘

پولیس افسر وریندرا کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے نہ تو اپنے گدھوں کی کوئی شناخت بتائی ہے اور نہ ہی کوئی نشانی ہے۔ پھر بھی ہم گدھوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ڈپٹی ایس پی ونود کمار نے یہ بھی کہا کہ ہمیں کچھ گدھے بھی ملے تھے جو چرواہوں کو دکھائے گئے تھے لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ گدھے ان کے نہیں ہیں۔

دیواسر گاؤں سے چوری ہونے والے گدھوں کے مالک (چرواہے) پون کا کہنا ہے کہ ’تھانے میں دکھائے گئے گدھے ہمارے نہیں تھے۔ ہم اپنے جانوروں کو پہچانتے ہیں۔ تھانے میں دکھائے گئے گدھے بھٹے اور اینٹوں والے تھے۔‘

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

گدھے چرواہوں کے لیے مددگار

ہنومان گڑھ ضلع میں زراعت کے بعد مویشی پالنا دوسرا بڑا پیشہ ہے۔

نوہر اور بھدرا تحصیلوں کے اکثر دیہاتوں میں چرواہوں کے پاس مویشیوں کی بڑی تعداد ہے۔ ایک چرواہے کے پاس تین سو جانور ہوتے ہیں۔ اور ہر گاؤں میں ہزاروں جانور ہیں۔

یہ چرواہے بھیڑ، بکری اور گائے کے ساتھ ایک سے دو گدھے بھی رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب یہ لوگ بھیڑ بکریوں کو چرانے کے لیے لے جاتے ہیں تو اس دوران وہ اپنا کھانا، پانی، کپڑے انہی گدھوں پر لاد کر لے جاتے ہیں۔

بعض اوقات ان گدھوں پر بھیڑ بکریوں کے بہت چھوٹے بچے بھی لاد دیے جاتے ہیں۔

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

یہ چرواہے عام طور پر کئی اضلاع میں تین سے چار ماہ کا سفر کرنے کے بعد اپنے گاؤں واپس لوٹتے ہیں۔ اس دوران ان کا سارا سامان ان گدھوں پر ان کے ریوڑ (بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑ) کے ساتھ چلتا ہے۔

اسی لیے گدھے ان کے بڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اب گدھوں کی چوری کی وجہ سے ان چرواہوں کے سامنے ایک بحران کھڑا ہو گیا ہے۔

چرواہا پون جس کے پاس سو بھیڑیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ ’5 دسمبر کو چار ماہ بعد اپنے ریوڑ (بھیڑوں) کے ساتھ واپس آئے تھے، مجھے دوبارہ باہر جانا پڑے گا لیکن اب گدھوں کے بغیر کیسے جاؤں گا۔‘

اس کے ساتھ ہی پولیس نے علاقے کے دیہاتیوں کو گدھوں کی بڑھتی ہوئی چوری کے پیش نظر اپنے گدھوں کو گھروں میں رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

کھوئیاں پولیس سٹیشن کے افسر وریندر شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گاؤں والوں سے گدھوں کو کھلا نہ چھوڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ہم چرواہوں سے بھی گدھوں کو گھر میں رکھنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘

مکیش کمار گودارا جو اپنے ساتھی رام نارائن جاٹ کے ساتھ بیکانیر سے نوہر پہنچے تھے، ان کے گدھے یہاں چوری ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

،تصویر کا کیپشنمکیش کمار گودارا جو اپنے ساتھی رام نارائن جاٹ کے ساتھ بیکانیر سے نوہر پہنچے تھے، ان کے گدھے یہاں چوری ہو گئے تھے

چرواہے خوفزدہ، بیس ہزار تک مالیت کا دعویٰ

گدھوں کی مسلسل چوری سے جہاں علاقے کے لوگ حیران ہیں وہیں چرواہوں کے سامنے سب سے بڑی پریشانی ان کی بھیڑوں اور بکریوں کی ہے۔

ہر چرواہے کے پاس سینکڑوں بھیڑیں اور بکریاں ہوتی ہیں۔ چرواہوں کا کہنا ہے کہ ایک بھیڑ کی قیمت دس سے پندرہ ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر بھیڑیں بھی چوری ہونے لگیں تو ’ہم کیا کریں گے؟‘

دیواسر گاؤں کے چرواہے پون کا کہنا ہے کہ ’ایک گدھے کی قیمت تیرہ سے پندرہ ہزار روپے ہے۔ ہم غریب لوگ جانور پال کر گزارہ کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’گدھے کی چوری کے واقعات کے بعد سے وہ رات کو نہیں سوتے، اسی طرح اگر بھیڑیں چوری ہو جائیں تو کیا ہوگا؟‘

چرواہے راجندر سرن کا دعویٰ ہے کہ ’ایک گدھے کی قیمت بیس ہزار روپے تک ہے۔ گدھوں کی چوری ہمارے لیے ایک بہت بڑی پریشانی ہے۔ اب آپ اپنے ریوڑ کو گدھے کے بغیر کہاں لے جائیں گے۔ صرف گدھوں پر تو ہم اپنا سامان لادتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

راجھستان

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

راجستھان میں گدھوں کا میلہ بھی لگایا جاتا ہے

بہت پہلے سے گدھے سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ آج بھی کئی جگہوں پر زراعت سے متعلق کام میں گدھوں کی مدد لی جاتی ہے۔

اگرچہ سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن اب گدھوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔

مویشی میلوں میں فروخت ہونے والے گدھوں کو خریدنے کے لیے بھی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ لیکن، اب یہاں بھی گدھوں کی تعداد کم دکھائی دے رہی ہے۔

گدھوں کے قد کے حساب سے ان کی قیمت بھی مختلف ہوتی ہے۔

گذشتہ ماہ اجین میں منعقدہ مویشی میلے میں سولہ ہزار تک گدھے بیچنے کی خبریں آئی تھیں۔

وہیں، اجمیر کے پشکر میں حال ہی میں منعقدہ مویشی میلے میں گدھے خریدنے والوں کی تعداد بالکل ٹھیک تھی۔ البتہ میلوں میں گدھوں کی تعداد میں کمی ضرور آئی ہے۔ یہاں گدھوں کی قیمت دو سے تین ہزار روپے تک شروع ہو رہی تھی۔

میلوں میں تین ہزار سے دس، بارہ ہزار تک کے گدھے ملتے ہیں۔ اسی دوران ہنومان گڑھ میں گدھے پر اینٹ اور بجری دھونے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے چار ہزار روپے میں گدھا خریدا ہے۔

کچھ چرواہے نوہڑ تحصیل کے دیہات سے چوری ہونے والے گدھوں کی قیمت بیس ہزار روپے تک بتا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر اوسطاً پندرہ ہزار روپے بھی گدھے کی قیمت سمجھی جائے۔ پھر چوری ہونے والے 76 گدھوں کی مالیت 11 لاکھ 40 ہزار روپے بنتی ہے۔

گدھوں کی قیمت سے زیادہ چرواہوں کو اپنے مددگار جانوروں کو کھونے کا دُکھ ہے۔

سال کے آخری مہینے میں جہاں پولیس تیزی سے تفتیش اور زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کا کام کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تھانہ کھوئیاں پولیس اس وقت گدھوں کی تلاش میں دن رات کوشاں ہے۔

چرواہے بھی اپنے مددگار گدھوں کی واپسی کے منتظر ہیں اور سرد اندھیری راتوں میں ان کی بھیڑیں چوری ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔